تعلیمی پیکج ،سپریم کورٹ کا مختصر فیصلہ ،محمد شبیر اعوان

تعلیمی پیکج ،سپریم کورٹ کا مختصر فیصلہ
تحریر۔محمد شبیر اعوان
سپریم کورٹ آف آزاد جموں وکشمیر نے تعلیمی پیکج بارے 2015-16میں ہونے والے داخلوں کی تعداد کی بنیادپر پیکج بحال کر دیا۔کم تعداد والے اداروں کی بحالی حکومت کی صوابدید پر چھوڑ دی۔گرلز سکولوں میں بچیوں کی مطلوبہ تعداد میں نرمی رکھنے کی ہدایت۔بہترین طرز حکمرانی کا تقاضہ ہے کہ پالیسیوں میں تبدیلی کے وقت سب سے زیادہ ترجیح عوامی مفاد کو دی جائے۔چیئرمین آزاد جموں وکشمیر کونسل(وزیراعظم پاکستان)عوامی مفاد میں حکومت آزاد کشمیر کو مشکل سے نکالنے اور ضروری معاونت کیلئے اگر ضروری ہو تو مطلوبہ احکامات صادر کریں۔چیف جسٹس آف آزاد جموں وکشمیر جناب جسٹس چوہدری محمد ابراہیم ضیاء جج سپریم کورٹ جسٹس راجہ سعید اکرم خان پر مشتمل دو رکنی عدالت نے اپیل ہاء بنام چوہدری لطیف اکبر وغیرہ بنام محمد فاروق حیدر وغیرہ میں مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ معاملہ زیر نزاع آزاد کشمیر میں سال 2015سے تعلیمی پیکج کے نام سے اپنائی گئی پالیسی کے تحت مختلف سطح کے تعلیمی اداروں کے بڑھائے گئے درجات سے متعلق ہے۔اس تنازعہ کی وجہ سے نہ صرف سینکڑوں تعلیمی اداروں میں ہزاروں زیر تعلیم طلباء وطالبات غیر یقینی صورتحال سے دو چار ہوئے بلکہ ان کا تعلیمی مستقبل بھی دائو پر لگا ہوا ہے۔اس صورتحال کے پیش نظر انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے فوری مختصر احکامات صادر کرنا ضروری ہیں۔تفصیلی محرکات اور وجوہات مابعد تحریر کی جائیں گی۔آزاد جمون وکشمیر عبوری آئین ایکٹ 1974کی روح اور منشاء آزاد کشمیر میں بہتر حکومت اور انتظامیہ کا قیام ہے۔آئین کی روح کے مطابق حکومت اور ادارے ایک تسلسل کا نام ہے۔ اس حوالے سے کسی اور دلیل کی ضرورت نہ ہے کیونکہ آخری کتاب قرآن مجید میں یہی فطرتی طریقہ بیان کیا گیا ہے کہ جو نفع بخش چیز ہے اسے باقی رکھا جائے اور سطحی وغیر نفع بخش چیز کو معدوم کر دیا جائے۔حضورۖ کی سیرت طیبہ سے بھی یہی ہدایت ملتی ہے کہ اسلامی طرز حکومت میں پالیسیوں کو اپناتے وت ان کی دین سے مطابقت اور عوام الناس کے نفع ونقصان کو مد نظر رکھا جائے ہمارے خیال میں وسیع تر عوامی مفاد کے پیش نظر پالیسیوں کی تبدیلی اور نفاذ کے وقت اسی فطرتی طریقہ کو مد نظر رکھا جانا ضروری ہے۔ اس پس منظر میں انصاف کے تقاضے نبھانے کے لیے عدالت ہذا کو عبوری آئین کے تحت حاصل شدہ خصوصی اختیارات کو بروئے کار لانا ضروری ہے جیسا کہ بے شمار قانونی نظائر میں اصول وضع کیے گئے ہیں جن میں سے چند حوالہ جات بذیل ہیں۔ریاست آزاد جموں وکشمیر کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کی وجہ سے شرح خواندگی کا تناسب خطہ کے باقی علاقوں کی نسبت بہتر ہے۔اس تسلسل کو قائم رکھنا ضروری ہے۔عدالت کو اس بات کا بھی احساس ہے کہ جہاں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تعلیم کے فروغ کے لیے ادارے قائم کرے وہاں اس مقصد کے لیے کافی وسائل بھی درکار ہیں جبکہ حکومت کے پاس لا محدود وسائل نہ ہیں اس لیے تعلیمی اداروں کے قیام وجواز کے لیے کم از کم کسی معیار کا تعین ضروری ہے اور معیار کے لیے متعلقہ ادارے کی آخری جماعت میں زیر تعلیم اور بلندی درجہ کے بعد پہلی جماعت میں داخلہ حاصل کرنے والے طلباء کی تعداد کو اہمیت وفوقیت حاصل ہے۔جس کا تعین سال 2015-16کے اعداد وشمار کی بناء پر ہو سکتا ہے۔جبکہ سال 2017کی نسبت محکمہ کا موقف ہے کہ طلباء کو دیگر اداروں میں منتقل کر دیا گیا ہے اس لیے اس کو زیر غور نہ لایا جا سکتا ہے۔مطابق ریکارڈ تعلیمی پیکج کے ذریعے پانچ قسم کے ادارون کا درجہ بڑھایا گیا ہے جن میں پرائمری سے مڈل،مڈل سے ہائی،ہائی سے ہائیر سکینڈری سکولز وانٹر کالجز اور انٹر کالجز سے ڈگری کالجز شامل ہیں آزاد کشمیر کے خصوصی حالات کے پیش نظر یہ بات بھی ہمارے علم میں ہے کہ بعض علاقوں میں بچوں کی نسبت بچیوں کو کم تعلیمی سہولیات میسر ہیں اس لیے بچیوں کو مطلوبہ تعداد کا معیار نرم رکھا جاتا ہے کم سے کم معیار سے متعلق یہ تعین کیا گیا ہے کہ پیکج کے تحت پرائمری سے بطور مڈل اپ گریڈ ہونے والے بوائز مڈل سکولز میں سال 2015-16میں سے کسی ایک سال کی داخلوں کی کم از کم تعداد پندرہ دونوں سالوں کی کم سے کم اوسط تعداد دس گرلز مڈل سکولوں میں سال 2015-16میں سے کسی ایک سال کی داخلوں کی کم از کم تعداد دس دونوں سالوں کی کم سے کم اوسط تعداد پانچ،مڈل سے ہائی ترقیاب ہونے والے سکولوں میں داخلوں کی سال 2015-16میں سے کسی ایک سال کی داخلوں کی کم از کم تعداد20،دونوں سالوں کی کم سے کم اوسط تعداد 15،گرلز ہائی سکولوں میں سال 2015-16میں سے کسی ایک سال کی داخلوں کی کم از کم تعداد10اسی طرح بطور ہائیر سکینڈری اپ گریڈ ہونے والے تعلیمی اداروں میں داخلوں کی سال 2015-16میں سے کسی ایک سال کی داخلوں کی کم از کم تعداد25دونوں سالوں کی کم از کم اوسط تعداد 20،گرلز ہائی سکینڈری سکولوں میں داخلوں کی تعداد سال 2015-16میں سے کسی ایک سال کی داخلوں کی کم از کم تعداد20دونوں سالوں کی کم سے کم تعداد 15،بطور بوائز انٹر کالج اپ گریڈ ہونے والے تعلیمی اداروں میں سال 2015-16میں سے کسی ایک سال کی داخلوں کی کم از کم تعداد25،دونوں سالوں کی کم از کم اوسط تعداد20،بطور گرلز انٹر کالج اپ گریڈ ہونے والے انٹر کالجز کی تعداد سال 2015-16میں سے کسی ایک سال کی داخلوں کی کم از کم تعداد20،دونوں سالوں کی کم از کم اوسط تعداد 15،بطور ڈگری کالج اپ گریڈ ہونے والوں میں بچوں کے داخلوں کی تعداد سال 2015-16میں سے کسی ایک سال کی داخلوں کی کم از کم تعداد25دونوں سالوں کی کم سے کم اوسط تعداد 20جبکہ بطور گرلز ڈگری کالج اپ گریڈ ہونیو الے تعلیمی اداروں میں سال 2015-16میں سے کسی ایک سال کی داخلوں کی کم از کم تعداد20دونوں سالوں کی کم از کم اوسط تعداد 25کے معیار پر پورا اترنے والے تمام ادارے سال 2015سے مکمل طور پر بحال تصور ہونگے اور اس دوران حکومتی اور محکمانہ اقدامات سے اگر کوئی بھی ادارہ متاثر ہوا تو حکومت اور متعلقین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آج سے بلا تاخیر اندر ایک ہفتہ اداروں کو فوری طور پر بحال وفعال کیا جائے۔اس معیار کے علاوہ حکومت پر کوئی قدغن نہیں اگر خصوصی حالات کے مطابق کسی علاقہ میں مطلوبہ معیار سے کم ادارے کے قیام بھی ناگزیر ہوں تو حکومت کو ایسا ادارہ قائم کرنے کا اختیار حاصل ہے۔محکمہ مالیات کو بھی ہدایات جاری کی گئیں کہ وہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد کے لیے کوئی پابندی یا قدغن حائل ہو تو اسے نرم کرتے ہوئے فوری طور پر اقدامات عمل میںلائے جائیں۔فیصلہ میں یہ بھی قرار دیا گیا ہے کہ آئین کی منشاء کے مطابق چیئرمین آزاد جموں وکشمیر کونسل(وزیراعظم پاکستان)کے منصب کا تقاضہ ہے کہ وہ آزاد کشمیر کی عوام کے مفاد میں آزاد حکومت کی مشکلات کو دور کرنے کیلئے فراخدلانہ اقدامات اٹھائیں تعلیمی پیکج کے تنازعہ سے آزاد کشمیر کی کثیر آبادی کے حقوق اور مفادات وابستہ ہیں اس لیے چیئرمین آزاد جموں وکشمیر کونسل(وزیراعظم پاکستان)عوامی مفاد میں حکومت آزاد کشمیر کو مشکل سے نکالنے اور ضروری معاونت کیلئے اگر ضروری ہو تو مطلوبہ احکامات صادر کریں۔یادرہے کہ سابق حکومت نے تعلیمی پیکج کے تحت آزاد کشمیر بھر میں

اپنا تبصرہ بھیجیں