جب30 ہزار سر قلم ہوئے ! نجمہ ظہور

جب30 ہزار سر قلم ہوئے
ہمارا تاریخی ارتقا
تحریر :۔ نجمہ ظہور (ایم فل سکالر)
انسان اللہ پاک کا نائب ہے اسی لیے اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے اللہ پاک نے انسان کو علم کی عظیم لازوال و بے مثال دولت سے نوازا ہے انسان کے اہل علم ہونے کے ساتھ اس پر یہ بھی فرض ہے کہ وہ قلم کے ساتھ انصاف کرے قلم کی حرمت ہی اس کی عظمت ہے اس لیے اہل علم کو کوشش کرنی چاہئے کہ وہ جو بھی تحریر کرے وہ حقیقت اور سچ پر مبنی ہوجو لوگ قلم سے انصاف نہیں کر پاتے وہ نہ صرف اپنے لیے برا کرتے ہیں بلکہ اپنی آنے والی نسلوں سے بھی خیانت کرتے ہیں۔اسی طرح جب کوئی تاریخ لکھتا ہے تو اس پر بھی ایک بہت بڑی زمہ داری ہوتی ہے کہ سچ پر مبنی تاریخ اپنی نسلوں تک پنچائے۔ عام تاریخ اور جدوجہد آزادی کی تاریخ میں بہت فرق ہوتا ہے حکومتوں کے بدلنے، حادثات، واقعات پر مشتمل تاریخ عام تاریخ ہوتی ہے جس کو حکومتیں اور سیاسی پارٹیاں اپنے منشور کا حصہ بناتی ہیں جبکہ آزادی کی تاریخ انسانوں کے خون سے لکھی جاتی ہیںاور آنے والی نسلیں اپنے مستقبل کا تعین اسی تاریخ کے تناظر میں کرتی ہیں۔اللہ تعالٰی نے انسان کو آزاد پیدا کیاہے مگر جب انسان ہی اسے غلام بنانے کی کوشش کرتا ہے تو غلامی کے خلاف انسان کا ردعمل فطری ہوتا ہے غلامی کی زنجیریں جب صدیوں پر محیط ہو جائیں تو یہ دکھ بالآخر لاوے کی طرح پھٹ پڑتا ہے ۔جابر حکمرانوں نے جب خطہ کشمیر کے لوگوں کو اپنا غلام ٔبنانا شروع کیا توان کے اندر بھی نفرت پروان چڑھنا شروع ہو گئی پونچھ کے لوگوں نے ان کی غلامی مانے سے انکار کیا اور موجودہ حکومت کیخلاف بغاوت شروع کر دی یہ ١٨٣٢ کا ایک دلخراش واقع ہے جس کو لکھتے ہوئے مورخین کے ہاتھ کاپننے لگتے ہیں۔جس دور میں یہ واقع سرزد ہوا وہ انتہائی پسماندگی کا دور تھا تاریخ نویسی کا کوئی نظام اس خطے میں موجود نہیں تھا ۔تاریخ نے انسانیت تنزلی کے بڑے پرآشوب دور دیکھے ١٨٣٢ کا دور بھی ایسے ہی پر آشوب ادوار کی طرح کا ہی ایک دور تھا ۔ دلوں کو تڑپا دینے والا واقعہ، پونے دو صدی قبل پیش آیا سدھن جوانوں پر ڈھائے جانے والے لزرہ خیز مظالم کی داستان،جوانوں کے اعضاء کاٹنے،بوڑھوں اور بچوں کے سر قلم کرنے اور سرداروں کی زندہ کھالیںکھنیچنے،مسلمان بیٹیوں اور بہنوںکی عزتیں، عصمتیں تار تار کرنے، بچوں کو فروخت کرنے جیسے مظالم کی طویل داستان ہے جسے سننے اور پڑھنے کے بعد انسانیت شرما جائے۔گلاب سنگھ نے بغاوت کرنے والے قبیلے کا سر کاٹ کر لانے کی قیمت ٥ روپے مقرر کی تھی انعام کی لالچ میں ڈوگرہ سپاہی لوگوں کا سر کاٹ کر لاتے اور انعام پاتے ایک اندازے کے مطابق تیس ہزار لوگوں کے سر قلم کر دیے گئے۔سردار سبز علی خان اور ملی خان اس وقت سدھن قبیلے کے لیڈر تھے ان کی زندہ کھالیں کھنچی گیئں اور ان کی کھالوں میں بھوسہ بھر کر درختوںپر لٹکا گیا۔شمس خان جس نے کھل کر اعلان جنگ کیا تھا اور اس کے بیٹے کے سر کو لوہے کہ ایک پنجرے میں بند کر کے لوگوں کو عبرت حاصل کرنے اور خوف زدہ کرنے کیلیے ایک پہاڑی پر لٹکا دیا گیا جو کئی سال تک یہاں لٹکے رہے۔١٨٣٢ کے بعد ڈوگرئوں نے زبردستی قبضہ تو کر لیا مگر یہاں کے عوام نے اس کے اقتدار اعلٰی کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔اسی کشمکش میں سوا صدی کا عرصہ گزرا یہ عرصہ یہاں کے لوگوں نے ڈوگرئوں کی غلامی میں گزارہ مگر ایسا نہیں کہ اس دوران میں لوگ مکمل طور پر چپ رہیے بلکہ وقفہ وقفہ سے تحریکیں چلتی رہیں اور آوازاٹھتی رہی جس کی بدولت علمی،معاشی،اور اقتصادی تحریکیوں نے لوگوں میں مزید شعور کو پروان چڑھا۔ڈوگرئوں نے١٨٣٢ میں سدھنوں کے قتل عام اور سردارں کو تہہ تیخ کر نے کے بعد بس نہیں کیا بلکہ ایک جامعہ پالیسی کے تحت بچے کھچے سدھنوں کو بھی ختم کرنے کا اہتمام کر رکھ تھا تاکہ یہ سر کش قبیلہ پھر کبھی سر اٹھا کر آزادی کا مطالبہ نہ کر سکیں۔اس مقصد کے لیے ان علاقوں کو پسماندہ رکھا گیا ان پر معاشیات کے دروازے بند رکھنے کے ساتھ ساتھ بے شمار ٹیکسوں کا بوجھ بھی ڈالا گیا ،بیگار کے نام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جاتے تھے۔سڑکیں ،تعلیمی اور طبی سہولتوںکی کوئی چیز موجود نہیں تھی ملازمتوں کے دروازے بند تھے۔ایسے میں احتجاج کی چیخ اگر اٹھتی تو وہ بھی سسکی کی طرح دب جاتی لیکن ایسے میں ١٨٩٩ میں مردم خیز دھرتی کے ایک سپوت بہادر علی خان نے تحریک حق ملکت کی تحریک شروع کی اور لوگوں سے رابط شروع کیا۔ جب ڈوگرئوں نے دیکھ کہ یہ تحریک زور پکڑتی جا رہی ہے تو انہوں نے سردار بہادر علی خان کو بڑی بڑی پیشکش کی لیکن اس باضمیر شحص نے حقارت سے سب ٹھکرا دیا اور لاہور ہائی کورٹ میں مقدمہ درج کروایا۔وکیل کی فیس اور مہاراجہ کے خلاف کھڑا ہونا کسی بھی قیمت آسان کام نہ تھا اس کھٹن کام میں ان کے دوستوں نے ان کا بھرپور ساتھ دیا،اگرچہ ان کو زہر دے کر ما ر دیا گیا تھااوران کی وفات کے بعد کورٹ نے فیصلہ بہادر علی خان کے حق میں دیا جس کی رو سے لوگ مزارع نہیں زمین کے مالک قرار پائے ۔سرسید آف پونچھ کرنل خان محمد خان نے ان تحریکیوں کو مزید زندہ رکھا ۔اس دور میں ٹیکسوں کی بھرمار تھی مسلماں سے بیگار لی جاتی تھی ، سڑک،پل،بجلی، پانی، ہسپتال،اسکول نام کی کوئی چیز موجود نہ تھی لوگ تعلیم نہ ہونے کے باعث پسماندگی اور جہالت کے اندھیروں میں ڈوبے ہوئے تھے۔ ان میں قبیح رسوم و رواج جڑ پکڑچکے تھے اس دور میں کرنل خان محمد خان نے فوج میں سپاہی کی حثیت سے ملازمت احتیار کی تھی جنگ عظیم کے دوران کمانڈنگ آفیسر نے آفیسران کی میٹنگ بلائی اس میں خان صاحب کو بھی بلایا گیا اور باقی سب کی طرح ان سے بھی پوچھا گیا کہ آپ اپنے لیے کیا مانگتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ پونچھ میں بیگار اور ترنی ٹیکس معاف کر دیا جاے یہ سن کر وہاں موجود سب لوگ حیران رہ گئے اور پھر کہا کہ اپنے لیے کچھ مانگو لیکن انہوں نے کہا میرا قبیلہ مجھے اپنی جان سے عزیز ہے اس لیے میری وہی درخواست ہے آپ کی درخواست پر اپ کے علاقے کوترنی اور بیگارسے مستثنی قرار دے دیا گیا۔١٩٢٤ میں خان صاحب کو پونچھ شہر میں بطور انسپکٹر مقرر کیا گیا جہاں قیام کے دوران اپنے ذاتی اثرورسوخ سے آزادپتن تک سڑک منظور کروائی ۔مسلمانوں کو پسماندگی سے نکالنے کے لیے آپ نے فوج میں بھرتی ہونے کی ترغیب دی اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگ سپہ گری میں مہارت حاصل کر کے آنے والے مناسب وقت پر ڈوگرہ تسلط سے آزای چھینے کے لائق ہو سکیں۔ جنگ میں تین بار زخمی ہونے کے بعد آپ کو پنشن گھر بھیج دیا گیا۔پنشن آنے کے بعد اپنے علاقے میں آپ نے اپنی مدد آپکے تحت پرائمری سکول کی عمارت تعمیر کروائی جہاں پر تعلیم کا آغاز کیا۔آپ نے تعلیم کے فروغ کے لیے کئی مدارس قائم کیے آپ نے مٹھی بھر آٹا اسکیم شروع کی اور ساتھ ساتھ سدھن ایجوکیشنل کانفرنس کی بنیاد رکھی۔آپ نے جگہ جگہ لوگوں سے ملاقات کی اور ان کوبری رسومات ترک کرنے کا کہا۔انہوں نے سماجی،سیاسی،معاشی اور معاشرتی پہلو کو اجاگر کیا جس کی وجہ سے لوگوں میں شعور بیدار ہوا اور انہوں نے ڈوگرئوں سے ١٨٣٢ والا بدلہ لیا۔ ۔لیکن آج افسوس کہ ہماری نسل ان تمام ہستیوں کو بھول رہے ہیں۔ہم اپنے مقصد کو بھول چکے ہیںجھوٹی شہرت کے دلدادہ ہو گئے ہیںقوموں اور قبیلوں کے ناموں کے پیچھے پڑے ہوئے جھوٹی انا پرفخر کرتے ہیںتکبر ہماری رگ رگ میں رچ چکا ہے یہ قوم قربانیاں تو دیئے جا رہی ہے مگر اس قوم پر آزادی کا سورج طلوح نہیں ہوتا وجہ صاف ظاہر ہے کہ اس قوم میں اتحاد کا فقدان ہے۔ کشمیری قوم کو اپنی آزادی کے لیے اتحاد اور قربانی کی ضرورت ہے امید ہے کہ ایک دن یہ قوم اپنے قومی مفادات کے لیے ایک دن ضرور کھڑی ہو گی اور آزادی کا سورج ایک دن ضرور طلوح ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں