فاروق عبداللہ کے خلاف غداری کا مقدمہ

نئی دہلی..مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی اور نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ کے خلاف بھارتی ریاست بہار میں بھارت سے غداری کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ حکم بیتیا ویوہار کورٹ کے چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ نے جاری کیا ہے۔فاروق عبداللہ پر کورٹ نے بیتیا نگر تھانہ میں ملک سے غداری کے الزامات کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دی ہے۔ یہ ہدایت سی جے ایم بیتیا نے وکیل مراد علی کے ذریعہ داخل کی گئی ایک عرضی پر سماعت کے بعد دی۔ وکیل مراد علی نے فاروق عبد اللہ کے خلاف کشمیر سے متعلق ان کے بیان کو لے کر یہ عرضی داخل کی تھی۔خیال رہے کہ فاروق عبداللہ نے کہا تھا کہ وہ پوری دنیا سے کہنا چاہتے ہیں کہ کشمیر کا جو حصہ پاکستان کے پاس ہے، وہ پاکستان کا ہے اور جو حصہ ہندوستان کے پاس ہے، وہ حصہ ہندوستان کا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ نیشنل کانفرنس صدر نے کشمیر کی مکمل آزادی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا فاروق عبداللہ تو یہ کہتا ہے کہ آزادی کا معاملہ ہی نہیں ہے۔ ہم لوگ لینڈ لاکڈ (خشکی سے گھرے ہوئے)ہیں۔ ایک طرف سے چین، ایک طرف سے پاکستان اور ایک طرف سے ہندوستان ہے۔ تینوں کے پاس ایٹم بم ہیں۔ ہمارے پاس اللہ کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ تو پھر یہ جو آزادی کی بات کرتے ہیں، غلط کرتے ہیں۔
#/S

اپنا تبصرہ بھیجیں