کشمیر جوہری جنگ کے خطرات کا پیش خیمہ

اسلام آباد.. چیرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے کہا ہے کہ پاکستان تمام تنازعات کا پرامن حل چاہتاہے،افغان عدم استحکام کی پاکستان بھاری قیمت چکا رہا ہے،بھارت ٹی ٹی پی، بلوچ علیحدگی پسندوں اور را کے ذریعے پاکستان میں دہشتگردی کرا رہا ہے،سی پیک کے خلاف بھارتی سازشیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں،را نے منصوبے کے خلاف 500 ملین ڈالرز مختص کررکھے ہیں،نئی دہلی پاکستان کا پانی روک رہا ہے، خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتا وہ ایسا کررہا ہے،بھارت سے تعلقات کا راستہ صرف کشمیر سے ہوکر گزرتا ہے اس میں کوئی باس پاس نہیں،خطے میں سلامتی کے ضامن ہونے کی تگ و دو بھی تذویراتی اہمیت رکھتی ہے،جنوبی ایشیامیں سیاسی و تذویراتی مسائل تنازعات کو بڑھاوا دے رہے ہیں،پاکستان اپنی ذمے داریوں سے آگاہ مگر دفاع سے غافل نہیں،تمام حالات کے تناظرمیں جوہری صلاحیت برقرار رکھے گا۔منگل کو اسلام آباد میں بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل زبیر محمود نے کہا کہ عالمی سطح پر طاقت کا حصول جنوبی ایشیامیں عدم استحکام کا باعث ہے،جنوبی ایشیامیں علاقائی جہتیں اور خدشات کو دیکھنا ہوگا، افغانستان کا معاملہ جنوبی اور وسطی ایشیا کے مابین اہم خطہ ہے،جنوبی ایشیا کے جغرافیائی، معاشی، تذویراتی اور سیاسی امور کو دیکھنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیامیں سیاسی و تذویراتی مسائل تنازعات کو بڑھاوا دے رہے ہیں، تذویراتی توازن اور روایتی ہتھیاروں میں مناسبت برقرار رکھی جائے گی کیونکہ عدم توازن ہمیشہ تنازعات کو جنم دیتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ افغان سرزمین پر دہشت گردی کے ٹھکانے کلیدی مسائل کا باعث ہیں، افغانستان میں کمزور گورننس اور دراڑ زدہ مفاہمتی عمل مسائل کا پیش خیمہ ہے۔چیرمین جوائنٹ چیف کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر بدستور جوہری جنگ کے خطرات کا پیش خیمہ ہے، کشمیر میں بھارتی فوج کا ظلم اور پاکستان کی طرف جنگی ہیجان واضح ہے، مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم اور پاکستان کے خلاف رویہ اس کی مثال ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر 20 کشمیریوں پر ایک فوجی ہے، 94 ہزار کشمیری شہید کیے جا چکے، 7،700 سے زائد کشمیریوں کی بینائی جا چکی۔جنرل زبیر محمود کا کہنا تھا کہ بھارت سے تعلقات کا راستہ صرف کشمیر سے ہوکر گزرتا ہے، کوئی باس پاس نہیں، مسئلہ کشمیر کے حل سے جنوبی ایشیا میں دیرپا امن ممکن ہے، پاکستان مسئلہ کشمیر اور افغان مسائل کا حل چاہتا ہے اور تمام امور پر یکساں پیشرفت چاہتے ہیں۔چیرمین جوائنٹ چیفس نے کہا کہ پاکستان تمام تنازعات کا پرامن حل چاہتے ہیں، پاکستان اپنی ذمے داریوں سے آگاہ مگر دفاع سے غافل نہیں، پاکستان تمام حالات کے تناظر میں کم از کم جوہری صلاحیت برقرار رکھے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت میں انتہاپسندی بڑھ رہی ہے،بھارت سیکولر سے انتہا پسند ہندو ملک بن چکا جب کہ بھارت، پاکستان سیذیلی روایتی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے، سرجیکل اسٹرائیک جیسے شوشے اس کی ایک اہم مثال ہے جب کہ بھارت نے 1200 سے زائد بار فائر بندی کی خلاف ورزیاں کیں، بھارتی فوج کے ہاتھوں پاکستان کے 1000 شہری، 300 فوجی شہید ہوئے، یہ بھارتی رویہ کسی وقت بھی بڑی جنگ میں بدل سکتا ہے۔جنرل زبیر محمود کا کہنا تھا کہ بھارت ٹی ٹی پی، بلوچ علیحدگی پسندوں اور را کے ذریعے پاکستان میں دہشتگردی کرا رہا ہے، سی پیک کے خلاف بھارتی سازشیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، را نے سی پیک کے خلاف 500 ملین ڈالرز مختص کررکھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت میزائل ڈیفنس ٹیکنالوجی، جوہری ہتھیاروں اور روایتی ہتھیاروں میں تیزی سے آگے بڑرہا ہے، بھارت پاکستان کا پانی روک رہا ہے، خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتا تاہم بھارت ایسا کررہا ہے، بھارت آگ اور جنوبی ایشیا کے امن سے کھیل رہا ہے۔ کیا جا رہا ہے اور افغانستان میں عدم استحکام خطے کے لیے نقصان دہ ہے، افغان عدم استحکام کی پاکستان بھاری قیمت چکا رہا ہے،مسئلہ کشمیر بدستور جوہری جنگ کے خطرات کا پیش خیمہ ہے جب کہ بھارت سے تعلقات کا راستہ صرف کشمیر سے ہوکر گزرتا ہے اس میں کوئی باس پاس نہیں،خطے میں سلامتی کے ضامن ہونے کی تگ و دو بھی تذویراتی اہمیت رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بیرونی طاقتیں بڑے تذویراتی ڈیزائنز کو آگے بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں، جنوبی ایشیامیں سیاسی و تذویراتی مسائل تنازعات کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں