کشمیر ہی برصغیر کی سیاست کا محور کیوں ؟منظور انجم

کشمیر ہی برصغیر کی سیاست کا محور کیوں ؟
نہرو سے بھٹو اور مودی تک سب کی سیاست کا اوڑھنا بچھونا کشمیر ہے

منظور انجم

اگر سیاست خوبصورت جملوں اور بھڑکیلے لفظوں کا کھیل ہے تو وزیر اعظم نریندر مودی سے بڑا اس کھیل کا کھلاڑی کم از کم برصغیر میں فی الوقت کوئی نہیں۔یہ ان کی زبان کی سحر انگیزیاںہی ہیں جن کی وجہ سے وہ ریلوے سٹیشن پر چائے بیچنے کا سفر شروع کرکے ہندوستان کے اقتدار و اختیار کے مالک بن گئے ۔ وہ جب بولتے ہیں تو سننے والوں کے احساسات اور جذبات کے ساتھ ایسا تعلق پیدا کرتے ہیں جو بہت دیر قائم رہتا ہے ۔یہ کرشماتی صفت بہت کم لوگوں کو حاصل ہوتی ہے اور جس سیاست داں میں یہ صفت موجود ہو اس کی پرواز کو روکنا کسی کے بس میں نہیں ہوتا ۔ لیکن یہ کرشماتی صفت اگر توازن کی حدوں سے آگے نکل جائے تو بلندیوں کا سفر بڑے سانحوں میںبھی تبدیل ہوتا ہے۔
برصغیر میں ان سے پہلے ان سے بھی بڑا لفظوں کا جادوگر سیاست کے افق پر نمودار ہوکر عالمی شہر ت اور عظمت کی بلندیاں چھوگیا تھا۔ دنیا اسے ذوالفقار علی بھٹو کے نام سے جانتی ہے ۔اس کی پرواز حد نظر سے کوسوں آگے تھی لیکن وقت کے ستم ظریف ہاتھوں نے اسے بڑی بے دردی کے ساتھ موت کے اندھیروں میں غرق کردیا ۔دونوں میں ایک قدر مشترک تھی کہ دونوں کے عروج میں کشمیر کا بڑا عمل دخل تھا لیکن ذوالفقار علی بھٹو کے زوال اور ان کی موت میں دوسرے عوامل کے ساتھ ساتھ کشمیر بھی پس منظر میںموجود تھا ۔
اس سے پہلے پنڈت جواہر لعل نہرو ، لال بہادر شاستری ،نواز شریف ، اٹل بہاری واجپائی ، جنرل ضیاء الحق کے عروج و زوال میں بھی کشمیر کا بڑا عمل دخل رہا ہے۔بھٹو کا سیاسی عروج سوویت یونین کے خوبصورت شہر تاشقند میں بھارت کے ساتھ سمجھوتہ کرنے پر اُس وقت کے پاکستان کے صدر جنرل محمد ایوب خان کے ساتھ اختلاف سے شروع ہوا ۔ وہ پاکستان کے وزیر خارجہ تھے اور 1965ء میں کشمیر میں چھاپہ مار جنگ شروع کرنے کے پیچھے انہی کی منصوبہ بندی کا عمل دخل تھا جس کے نتیجے میں دو ملکوں کے درمیان بھرپور جنگ چھڑ گئی ۔اس جنگ کو روکنے کیلئے سوویت یونین کی مداخلت سے تاشقند میں اعلیٰ سطحی مذاکرات ہوئے اور سمجھوتہ طے پایا ۔ وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے اس سمجھوتے کے ساتھ کھلم کھلا اختلاف کرتے ہوئے اسے مسئلہ کشمیر پر سرینڈر کا نام دیکر استعفیٰ دے دیا ۔ انہوں نے پیپلز پارٹی بنانے کا اعلان کرکے جنرل ایوب کی حکومت کو چیلنج کرکے بالآخر اس کا خاتمہ کرڈالا ۔کشمیر بھٹو کی سیاست کا مرکز اورمحور تھا ۔ وہ جب کشمیر کی بات کرتے تھے تو اچھوتے جملوں کے ساتھ کرتے تھے ۔وہ ایک ہزار سال تک بھارت کے ساتھ جنگ کرنے کی بات ہو یا یہ جملہ ہو کہ ہم گھاس کھائیں گے مگر ہتھیار خریدیں گے جذبا ت میں گرمیاں پیدا کرنے کے لئے کافی ہوتا تھا ۔
نریندر مودی اور ان کی جماعت کا مرکز و محور بھی کشمیر رہا ہے ۔ راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ نے جب سیاست میں قدم رکھا توکشمیر کو ہی اس نے بنیاد بنایا ۔کشمیر کو بھارت میں ضم کرنا اس کے ہر رہنما کا پہلا اور آخری سپنا رہا اور یہ سپنا وراثت میں مودی جی کو ملا ۔گجرات کی سیاست سے ملکی سیاست میں قدم رکھنے کے بعد انہوں نے کشمیر کا اپنے سیاسی ہنر اور زبان کی سحرکاری سے بروقت اورمفید استعمال کرکے بی جے پی اور اپنے عروج کا راستہ ہموار کیا ۔اس سے پہلے پنڈت جواہر لعل نہرو کی سیاست کا مرکز اور محور بھی کشمیر ہی رہا اور قاید اعظم محمد علی جناح کی پاکستان بننے کے بعد پہلی اور آخری خواہش بھی کشمیر کو پاکستان میں شامل کرنا تھی ۔جنرل ضیاء الحق کوئی سیاست داں نہیں تھا ایک فوجی جنرل تھا لیکن اس نے بھی کشمیر کو اپنی خواہشوں کا مرکز اور محور بنایا تھا ۔
برصغیر کے آنے والے مور خ ضرور اس بات کی تحقیق کریں گے کہ عظیم سیاست دانوںاور حکمرانوں کی پہلی اور آخری ترجیح کشمیر ہی کیوں رہا ہے اور کشمیر کی سیاست ہی کیوں دونوں ملکوں کی سیاسی قوتوں اور شخصیتوں کے عروج کا باعث بھی بن جاتی ہے اور زوال کا باعث بھی ۔یہ بھی ایک تحقیق طلب بات ہے کہ جب بھی کسی سیاست داں نے کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی یا تو اس کی موت ہوئی یا اس کا زوال ہوا ۔
پنڈت جواہر لعل نہرو نے جس وقت شیخ محمد عبداللہ کو مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے پاکستان کی قیادت کے ساتھ بات چیت کرنے کیلئے پاکستان بھیجا تو ابھی شیخ صاحب پاکستان میں ہی تھے کہ نہرو کی موت کی خبر انہیں ملی اور وہ اپنا دورہ ادھورا چھوڑ کر واپس لوٹے ۔ تاشقند میں لال بہادر شاستری اور جنرل ایوب خان نے سمجھوتہ کیا تو لال بہادر شاستری دم توڑ گئے ۔اٹل بہاری واجپائی اور نواز شریف نے مسئلہ کشمیر کے حل کے فارمولے پر اتفاق کیا تو نواز شریف کا تختہ ہی پلٹ گیا اور انہیں سعودی عرب ہجرت کرنا پڑی ۔جنرل مشرف نے مسئلہ کشمیر حل کرنے کے راستے تلاشنے شروع کردئیے تو ان کا زوال ہوا ۔کیا کوئی ان دیکھی قوت ہے جسے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مسئلہ کشمیر ایک تنازعے کی حیثیت سے ہی زندہ رکھنا ہے ۔ایسے بہت سارے سوالات ہیں جن کے جواب کہیں نہیں اور کسی کو بھی نہیں مل سکتے ۔
جن چار شخصیتوں نے برصغیر کی تاریخ میں گہرے اثرات مرتب کردئیے ان میں سے تین اسی مسئلے کے شکار ہوکر اس دنیا سے اٹھ گئے ۔ پہلی شخصیت محمد علی جناح تھے جن کے ہونٹوں پر آخری بار بھی یہی جملہ تھا کہ ’’ فوج کشمیر بھیجو ‘‘ ۔ دوسری شخصیت جواہر لال نہرو تھے جنہیں اس بات کا احساس ہوا تھا کہ یہ مسئلہ ان ہی کا پیدا کیا ہوا مسئلہ ہے جو برصغیر کا ناسور بن چکا ہے اور اسے حل کرنے کی پہلی کوشش ہی ان کی موت بنی ،تیسری شخصیت ذوالفقار علی بھٹو تھے جنہوں نے مسئلہ کشمیر کو اپنا اور اپنی جماعت کا نعرہ بنایا تھا ۔لال بہادر شاستر ی تاریخ ساز شخصیتوں میں تو شمار نہیں ہوتے ہیں لیکن ان کی موت کی وجہ بھی کشمیر ہی بنی ۔ جنرل ضیاء الحق بھی تاریخ ساز شخصیتوں میں شمار نہیں ہوتے ہیں لیکن وہ اُس عسکری تحریک کے بانی مبانی ہیں جو اس وقت بھی جاری ہے اور جس نے برصغیر کا ہی نہیں عالمی سیاست کا رخ بھی تبدیل کرکے رکھ دیا ۔ان کی موت کی وجہ عسکریت کا ہی عروج بنا ۔
ہندوستان کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی بھی ایک تاریخ ساز شخصیت ہیں اور کشمیر ان کا مسئلہ بھی ہے ، ان کی ترجیح بھی ہے اور ان کی سیاست کا محور بھی ۔ریاست کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا یہ کہنا غلط نہیں ہے کہ وہی ایک شخصیت ہیں جومسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی قوت اور اہلیت رکھتی ہے ۔وہ ہندوستان کے سب سے طاقتور وزیر اعظم ہیں اور اس سے پہلے کہ ان کی قوت اور طاقت وقت کے سفاک ہاتھوں کی شکار ہوجائے وہ مسئلہ کشمیرہمیشہ کیلئے حل کرسکتے ہیں لیکن وہ بھی ابھی تک کشمیر کے ساتھ وہی کھیل کھیل رہے ہیں جو اب تک کھیلا جاتا رہا ہے ۔
ابھی دو مہینے سے بھی کم عرصہ گزرا ہے کہ انہوں نے کشمیر کے متعلق اپنی جماعت کے روایتی موقف سے ہٹ کر لال قلعے کی فصیل پر ایک خوبصورت جملے کے ساتھ امیدوں کی شمعیں روشن کردیں ۔ کشمیر کو بھار ت میں ضم کرنے کے قومی فرض کے نظرئیے سے ہٹ کر انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو گولی اور گالی سے نہیں گلے لگانے سے جیتا جاسکتا ہے ۔ اس جملے میں بھی بڑی کشش تھی اور بے شک اس نے کئی امیدوں کو جگایا تھا ۔لیکن یہ کشش اس وقت ماند پڑگئی جب اس سے ماضی کے زخموں کو مندمل کرنے کا کوئی اعلان یا کوئی منصوبہ برآمد ہونے کے بجائے ایک مذاکرات کا تقرر برآمد ہوا جسے عوام ، سیاست کے ایوانوں ، نوجوانوں اوردانشوروں کی خواہشات کا پتہ لگانا ہے ۔ افسوس کہ ستر سال تک کشمیر کو ہندوستان کا اٹوٹ انگ کہنے والی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے اقتدار کو اٹوٹ انگ کی خواہشات کا علم ہی نہیں ۔نہ اقتدار اعلیٰ کو ، نہ اس کے پالیسی سازوں کو ، نہ سیاسی پنڈتوں کو نہ تاریخ دانوں کو اور نہ ہی اس شخصیت کو جس نے بہت کم مدت میں عالمی سطح پر ایک مقام بنایا ۔ہندوستان کو اس سے پہلے بھی معلوم تھا اور آج بھی معلوم ہے کہ جوں کی توں پوزیشن مسئلہ کشمیر کا حل نہیں۔وقت کبھی ہندوستان اور پاکستان کو اس حل پرمجبور کرسکتا ہے لیکن کشمیر شاید ہی اسے قبول کرلے گا ۔ ہندوستان کا اقتدار اس بات پر غور کرنے کیلئے تیار نہیں ہے کہ کشمیر کو پاکستان سے کوئی شکایت نہیں اگر شکایت ہے اور اگر غصہ ہے تو ہندوستان کے ساتھ ہی ہے کیونکہ اس بات کا احساس بڑا گہرا ہے کہ ہندوستان نے ہی وہ سب چھین لیا ہے جو اسے حاصل تھا ۔اس بنیادی معاملے کو سمجھنے کے بجائے کشمیر کے جذبات کے ساتھ لفظوں کا وہی کھیل کھیلا جارہا ہے جو دہائیوں سے جاری و ساری ہے ۔ جو وزیر اعظم کشمیریوں کو گولی اور گالی کے بجائے گلے لگانے کی بات کرتا ہے وہی ہماچل پردیش میں انتخابی جلسوں میں لوگوں کو رجھانے کیلئے یہ بھی کہتا ہے کہ ہماچل کے جوان کشمیر کے پتھروں سے زخمی ہوتے ہیں ۔ جب ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کہتی ہیں کہ آئین ہند کی دفعہ370، جو جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دینے کی ضمانت دیتا ہے،جموں کشمیر کے لوگوں کیساتھ قوم کی طرف سے کیا گیا ایک وعدہ اور عزم ہے تو سبھرا منیم سوامی اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ محبوبہ جی تاریخ کی کتابیں نئے سرے سے پڑھے ۔ ہندوستان کی پارلیمنٹ نے کشمیر کوہندوستان کا اٹوٹ انگ قراردیا ہے اور اس کے ساتھ ہی آئین کی ساری ضمانتوں کا بیڑا غرق ہوگیا ۔اس سے ایک ہی بات ظاہر ہوتی ہے کہ کشمیر برصغیر کے سیاست دانوں کا محض ایک ہتھیار اور ایک کھلونا ہے جس کا استعمال کرنے میں وہ اپنی ساری صلاحیتیں استعمال کرتے ہیں ۔یہ ہتھیار اور کھلونا انہیں سیاسی عروج بھی دیتا ہے ، سیاسی قوت بھی دیتا ہے اور زوال کی پستیوں میں بھی گراتا ہے ۔زندگی بھی دیتاہے اور موت بھی ۔اس لئے فوکس ہمیشہ ہی یہی مسئلہ رہا ہے ۔
( بشکریہ ہفت روزہ’’ نوائے جہلم‘‘)

اپنا تبصرہ بھیجیں