آسماں پہ اکیلا زمیں زاد ! ابو عماد راشد

آسماں پہ اکیلا زمیں زاد
تحریر:۔ابو عماد راشد

واحد اعجاز شاعر ہے یا داستان سرائے کا داستان گو۔اس اکیلے زمیں زاد کی کہانی جب وہ آسمان پر اپنی تنہائیوں سے سر گوشیاں کر رہا تھا سے شروع ہوتی ہے۔پھر اواگون کے صفحات پر یہ داستان ہر لفظ ہر سطر اور ہر ورق پر ہھیل جاتی ہے۔ صدیوں کی کہانی کس ہنر سے ان حرفوں اور صفحوں میں سمیٹ دی ہے۔ آپ داد دئیے بغیر نہیں رہ سکتے۔لیکن واحد اعجاز آپ کی تعریف سے بے نیاز اور سراہے جانے کی تمنا سے دامن بچائے اپنی گپھا میں اپنے لمسِ تخلیق سے حرفوں کے پیکر تراشتا ملے گا
شائد وہ آپ کی تعریف پر آپ کا شکریہ بھی نہ ادا کرسکے۔اس لیے کہ لفظ ومعنی اور حرف وصوت سے اس کی یہ شعوری وابستگی اس طرح کا صلہ پانے کیلیے بالکل نہیں۔اس کے بس میں ہوتا تو،، اواگون،، پر اپنا نام بھی نہ لکھتا۔یہ تو صوفیوں کا کام ہے میں اس شخص کو یہ خطاب دینے لگا تھا۔لیکن میرے اندر سے ایک آوز اُٹھی، نہیں رہنے دو، یہ زیادتی ہوگی۔
خود ستائی کے مارے اس معاشرے میں چند ہی عجز آشنا ہیں خدا را اُنھیں اپنے قد میں رہنے دو۔اور میں اس کتاب کے پہلے صفحے کی آسمان پر اکیلے زمیں زاد کی داستان میں کھو گیا
سُنو
تم سے ملنے پہلے بہت سال پہلے
کہ جب آسماں پر اکیلا زمیں زاد تھا میں
مجھے ایک لڑکی ملی تھی……
اُس نے اپنی ستاروں سی آنکھیں
مری کتنے برسوں کی جاگی ہوئی سرخ آنکھوں میں ڈالیں اور کہا
آج سے میں تمھارے لیے ہوں
مرے سارے سپنے محبت بدن روح سلطنت
سب تمہارے لیے ہے
میں حیران تھا
گو مجھے اس پہ ایمان تھا
پھر بھی ڈرتا تھا
میں جو پہلے ہی دن سے خسارے میں رکھا ہوا انسان تھا
اور تمھیں کیا بتاؤں کہ مجھ کو خسارا ہوا
میں اکیلا ہوا
اور مرا بھائی اس دخترِ اولیں کے لیے
پہلا قاتل بنا
سن رہی ہو ناں! قاتل بنا
سو پہلے پہل اس زمیں نے جو انسان کا خوں پیا
وہ مرا تھا
تو مرے خون کا ذائقہ یہ زمیں کیسے بھول سکتی ہے
ہر گز نہیں
پہلی پیاس اور پھر پہلا بوسہ کسے بھولتا ہے
واحد اعجاز ہر لفظ اس امید کے ساتھ لکھتے ہیں کہ کوئی لفظ ضائع نہیں ہو سکتا۔
اور میں ہرلفظ اس یقین کے ساتھ قرئات کر رہا ہوں کہ کسی لفظ کی صدا رائیگاں نہ جائے گی۔کوئی بھی حرف آشنا جسے اواگون کی رفاقت نصیب ہو اس کی اثر آفرینی سے انکار نہیں کر سکتا ہاں جن کا ادبی ذوق اس متحرک تہزیب کے سلیکون ذائقوں نے تباہ کر دیا ہو۔یقیناً اس سعادت سے محروم رہیں گے۔
محبت کا انکشاف جب واحد اعجاز پہ ہوا تو
حرف کے پیکر میں کچھ یوں ڈھلا۔
محبت چار سو کرنی پڑے گی
تمہاری گفتگو کرنی پڑے گی
پہلی پیاس محبت کی تھی
پہلا جام محبت ہے
اور یہ کیفیت بھی…
ہر رشتہ محبت کے نام پر مجھے چوس رہا ہے
میں صرف خرچ ہونے کے لیے زمین پر آیا ہوں
مشینی زندگی کی نحوستوں کا اِدراک کچھ یوں ان کے فن میں ڈھلتا ہے
ایک غلط کلک پر شہر کی عافیت کا دارومدار ہے
اندازے کی غلطی سے کوئی شہابِ ثاقب کسی ایٹمی گھر پر لینڈ کر گیا تو بہت دھول اڑے گی
یہ کارٹون مووی بہت سنجیدہ ہے
کوئی آسان سی قتل و غارت والی فلم لگا دو
انٹرٹینمنٹ ماڈرن انسان کی بنیادی ضرورت ہے
واحد اعجاز اپنی تہزیب اور ثقافت سے آشنا اور وابستہ ہے۔اواگون کے صفحات پہ یہ حوالے جا بجا ملیں گے۔ماں جو ہماری تہزیب کی وارث اورہماری بقا اور وقار کی علامت ہے۔واحد اعجاز کے ہاں اس نسبت کا خوب صورت تذکرہ کچھ یوں ملتا ہے۔
ماں…. ستارالعیوب
ماں سریع الرضا
ماں یہاں یا وہاں ماں
فقط ماں ہی ماں
ماں کی تعریف کیا
ماں کی توصیف کیا
چند چیزیں تو اپنی دلیل آپ ہیں
جیسے مالک یا مرشد یا مٹی یا ماں
امریکی ڈالرز اور ہماری کمزور نفسیات کی داستان کو سمجھنے کیلیے صرف یہ لائن ہمارے ماضی کو سامنے لا رکھتی ہے
ڈالر…
ترجیحات تبدیل کر دیتا ہے
اواگون کے بعض مصرعے، لائنیں، یا جملے آپ کے ماضی اور آپ کی ذات کو منکشف کر دیتے ہیں
ان سطور کی قرئات کی سعادت حاصل کریں اور واحد اعجاز کے ذھنِ رسا کی داد دیں اواگون تک رسائی ممکن ہو تو آپ واحد اعجاز کے عجز اور اعجاز سے مزید آشنا ہو سکتے ہیں۔
#عیاشی اور بدمعاشی کی ماری ہوئی قابلِ رحم مخلوق
*اپنے پر وقار دستخطوں سے جنگیں مسلط کرنے والے
*نایاب پرندوں کی نسلوں کو محفوظ کرنے کے لیے دل کھول کر خرچ کرنے والے سخی
*اگر تم اسی طرح قدم بہ قدم عریانی کی طرف گام زن رہی تو
بہت جلد افراطِ زر کا شکار ہو جاؤ گی
*صبح اتنی مختصر کیوں ہوتی ہے
اتنی جلدی گزر جاتی ہے کہ رونا آجاتا ہے
میں اس سورج کو دیکھنا بھی نہیں چاہتا جو اتنی محصوم صبح مجھ سے چھین لیتا ہے
صبح کے حق میں گواہی دے کر پرندے خود معتبر ہو جاتے ہیں ورنہ صبح اس گواہی کی بھی محتاج نہیں
* انسان کتنے منظم و مہذب ہو کر فطرت پر حملہ آور ہوتے ہیں
اور اس کے میک اپ کا ستیاناس کر دیتے ہیں
بنی آدم نے زمین کا حلیہ بگاڑنے کا ٹینڈر بھرا ہوا ہے
جھیل سیف الملوک پر انسانوں کا رش بڑھ گیا ہے
پریاں دکھی دل کے ساتھ ہجرت کر گئی ہیں
*کبھی کبھی مجھے اپنے باپ پر حیرت ہوتی ہے
جیسے جیسے بوڑھا ہوتا جاتا ہے
اس کا سایہ گہرا ہوتا جاتا ہے
*ہماری بے تکی جذباتی اور فسادی دعائیں
خدا کا موڈ تو خوشگوار کرتی ہونگیں
ایسے پی سی ون پر تو کوئی دس ڈالر نہ دے
جسے بنیاد بنا کر ہم بادشاہی طلب کرتے ہیں
اے ہر لمحہ گناہ کا اختیار دینے والے اکثر انسان تیرے شکر گزار ہیں
*خدا نے بھی اپنا نظام کلرکوں کے حوالے کیا ہوا ہے
لیکن اس کے ادارے کرپٹ نہیں
*میڈیا کے بے لگام گھوڑے گلیوں میں گرد اڑانے لگیں
تو کئی میدان کے سپاہی بھی منہ چھپانے کو غنیمت سمجھتے ہیں
کشمیر کا دکھ تو ان کا اثاثہ ہے۔اواگون کے صفحات پہ یہ درد کچھ اس طرح ملتا ہے
*نیلسن منڈیلا سے دور کا رشتہ نبھاتے نبھاتے
سید علی گیلانی کی کمر جھک گئی ہے
وہ گھر پر آرام کیوں نہیں کرتے
کہیں ایسا تو نہیں کہ کسی خفیہ معاہدے کے تحت
عمر مختار نے سرد علاقوں کی حکمرانی مقبول بٹ کو عطا کر دی ہو
شاعروں کے حوالے سے یہ چند مصرعے آپ پر یقیناً بار نہ ہونگے
*جہاں واعظ کی سانسیں پھولتی ہیں
وہاں محو کلام ہوتے شاعر
اور. شاعروں کی کثرت اس بات کی دلیل ہے کہ
معاشرہ یا اداس ہے یا عیاش
یہ شعر تو واحد اعجاز کے ہنر کا مستند حوالہ ہے
عجیب حال محبت نے کر دیا ہوا ہے
کہیں بھی درد نہیں اور کراہے جاتے ییں

اپنا تبصرہ بھیجیں