ہم حال دلِ سنائیں گے سنئے کہ نہ سنئے،واحد بشیر

ہم حال دلِ سنائیں گے سنئے کہ نہ سنئے
واحد بشیر

کشمیر ایک حل طلب مسئلہ ہے اور جنوبی ایشیائی خطے کا امن وامان براہ راست مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے ساتھ منسلک ہے۔یہ مسئلہ پچھلے ستر سال سے لٹکتا آرہا ہے اور دن بہ دن اس میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہوتی جارہی ہیں۔ مسئلے کے تین بنیادی فریق ہیں ،ان میں سے چونکہ ہر ایک فریق اپنے مؤقف پر قائم ودائم ہے، نتیجہ یہ کہ بیچ کا راستہ کھوجنے میں دقتیں اور رکاوٹیں بدستور حائل ہیں ۔ اب بظاہر حکومت ہند نے اپنی کشمیرپالیسی میں بظاہر لچک لاتے ہوئے ایک مذاکرات کا ر کی تقرری عمل میں لائی۔آیا 2016 ء میں برپا ہونے والی عوام کی احتجاجی مہم کو بزور طاقت دبانے کی پالیسی کے مابعد یہ تقرری مرکز کی کسی ذہنی تبدیلی کا اشارہ دیتی ہے کہ نہیں ،اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ مودی سرکار نے آئی بی کے سابق سربراہ دنیشور شرما کو ریاست جموں و کشمیر کے لئے مذاکرات کار نامزد تو کیا مگر انہیں اہل کشمیر کو کیا آفر کرنا ہے ، وہ کوئی نہیں جانتا۔ موصوف نے ریاست میں اپنے پانچ روزہ قیام کے دوران کوئی تیر نہ مارا کیونکہ ان کا مشن غیر واضح بھی اور مبہم بھی ہے۔ مختلف حلقے اپنے اپنے تجزیے اور اندازے لگاکرپیش گوئی یہ کررہے ہیں کہ شاید ہی ان کے سننے سنانے کی سرگرمیوں کاکوئی ٹھوس نتیجہ حاصل ہو گا تاوقتیکہ وہ مزاحمتی قیادت سے گفت وشنید نہیں کر تے۔ اس حقیقت کا اندازہ کر تے ہوئے وہ خود بھی اعلانیہ طور کہہ چکے ہیں کہ حریت سے رابطے کی کوشش کروں گا۔مرکز نے2001ء سے لے کر اب تک پانچ مرتبہ مذاکرات کاروں کا تقرر عمل میں لایا ۔ یہ تقرریاں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے صرف وقت گذاریوں کامشغلہ ثابت ہوتا رہا ۔ ویسے اس غیر سنجیدہ طرز عمل کے تعلق سے بھارت کی جملہ سیاسی جماعتیں کشمیر پرایک ہی طرح کی جامد ذہنیت کی حامل ہیں۔ دائیں ،بائیں اور درمیانی بازو کی سبھی جماعتیں اس بارے میں ایک ہی قسم کی رٹی رٹائی بولی بولتی ہیں۔2001ء میں کے سی پنتھ ( ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن) کو ریاست میں مذاکرات کار مقرر کیا گیا، چھ ماہ طویل صحرا نوردی کے بعد زمینی سطح پر وہ کچھ بھی نہ کرسکے۔ پنتھ کے بعد کشمیر کمیٹی کو مشہور وکیل رام جیٹھ ملانی کی قیادت میں کشمیر کی تاریں ہلانے کا کام سونپا گیا۔ مذکورہ کمیٹی نے کئی سال بعد اپنی ثالثی کا بوریا بسترہ خالی ہاتھ ر ہ کر سمیٹا تو یہ کام 2003ء میں موجودہ ریاستی گورنر این این ووہرا نے سنبھالا۔ان کی تقرری سے بھی زمینی صورت حال میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔ ازیں بعد مرکزی حکومت نے ورکنگ کمیٹیز کا ڈھول بجایا مگر بے سود۔ 2008ء اور 2010ء کی گھمبیر صورت حال کے بعد سہ رُکنی مذاکراتی ٹیم نے وادی میں مٹرگشتیاں کر کے جورپورٹ تحریر فرمائی وہ دلی میںہنوز سرد خانے میں پڑی ہوئی ہے ۔اب آئی بی کے سابق سربراہ کے نام مذاکرات کار ی کا قرعہ فال نکلا ہے ۔ اس بات کاقوی امکان ہے کہ و ہ بھی سٹیٹ گیسٹ بن کر دلی اور سری نگر گے چکر لگائیں گے مگر نتیجہ ندارد۔ مرکزی وزیر جتندر سنگھ کے بیان نے پہلی ہی فرصت میں دنیشور شرما کی حیثیت کے بارے میںسارے ابہامات رفع کردئے مگر وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے شرماجی کے کھلے ڈُھلے منڈیٹ کا تذکرہ کر کے کوئی ا ور ہی رام کہانی سنائی ۔ اُدھربھارت سرکار کے مذکراتی غبارے سے اُس وقت ساری ہوا نکل گئی جب سابق وزیر مرکزی وزیر داخلہ وخزانہ پی چدمبر نے کشمیرکی’ ’گریٹر اٹانومی‘‘ کا مطالبہ کیا جس پر بھاجپا لٹھ لے کران کے پیچھے پڑ گئی۔ اس سے یہ صحیح صحیح اندازہ ہوا کہ مذاکرات کے نام پر صرف کشمیری قوم کے ساتھ ہی نہیں بلکہ عالمی رائے کے ساتھ بھی مذاق کیا جارہا ہے۔
کشمیر جنوبی ایشیاء میں نیوکلیئر فلیش پوائنٹ ہونے کی وجہ سے پورے خطے کے امن کوڈانوںڈول کر رہا ہے۔ مثلاً90ء کی عسکریت کے بعد 2008ء میں امرناتھ شرائن بورڈ کے قضیۂ زمین نے کشمیر کی ہانڈی میں اُبال لایا اورایک سو بیس انسانی جانیں اس کی بھینٹ چڑھ گئیں ۔ اسی طرح2009ء میں آسیہ نیلوفر کے المیے نے کشمیری عوام کا سکھ چین کئی ماہ تک چھین لیا۔ ابھی یہ زخم تازہ ہی تھا کہ2010ء میں تین بے گناہ کشمیری نوجوانوں کوجنگجو ظاہر کرکے بھارتی افواج نے سرحدی ضلع بارہ مولہ کے مژھل سیکٹر میں جعلی انکاؤنٹر میں ہلاک کیا جس کے خلاف عوامی احتجاج کا لا وا پھوٹ گیا اور حکومت نے فوجی طاقت کے بل پر ا سے دبانے کے لئے مزید 112؍عام شہریوں کو جان بحق کیاگیا۔سال گزشتہ میں قتل و غارت کی شدید لہر برہان وانی کے جان بحق ہونے کے بعد رونما ہونے والے مظاہروں کے دوران چلی اور145؍ سے زائد انسانوں کو اُچک لیا۔ ہلاکتوں کے علاوہ ایک سرسری سروے کے مطابق 15000سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے۔ ان مضروبین میں 4500سے زیادہ لوگ پیلٹ شارٹ گن کے شکار ہوئے جن میں سے 1000 سے زائد متاثرین کی آنکھیں جزوی یا مکمل طور پر ناکارہ ہوگئیں۔ اس سارے عرصے کے دوران 10000کے قریب لوگوں کوحبس بے جا میں رکھا گیا اور اب بھی پی ایس اے کے تحت نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نظر بند ہے۔ ہر بار کشمیر میں سیاسی بے چینی، نامساعد حالات اور حقوق البشر کی بگڑتی ہوئی صورت حال کا نوٹس لیتے ہوئے بھارت سمیت دنیا بھر میں امن وعدل کی آوازوں نے کشمیر کاز کے حق میںدلی سے ہمیشہ مطالبہ کیا کہ وہ ریاستی عوام کو اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرنے کا حق دے تاکہ کشمیر حل سے جنوبی ایشیا ء کو امن وشانتی کا موقع ملے۔ نیز غیر جانبدار لوگوں کا روزاول سے یہ مشتر کہ مطالبہ رہا ہے کہ مسئلے سے جڑے تینوں فریق (کشمیری، پاکستان اور بھارت) بامعنی مذاکرات کے ذریعے ایک متفقہ سیاسی حل تلاش کریں۔اس کام کے لئے تینوں فریق پر مستحکم سیاسی عزم وارادے اور لچک کی ضرورت سے انکار نہیں کیاجاسکتا۔ اب نئے حالات کے تناظر میں ایک سابق سراغرسان آفسر کو بطور مذاکرات کار مقرر کرنے سے بھارت اگر کسی سیاسی پیش رفت کی توقع رکھتا ہے تو یہ اس وقت تک دائرہ ٔ امکانات سے بعید ہے جب تک دلی ،سری نگر اور اسلام آباد سر جوڑ کر بیک وقت کشمیر حل کے کسی متفقہ علیہ نقش راہ پر متحد نہیں ہوتے ۔ اس کی شروعات بھارت کو کر نا ہوگی ، مثلاً اسے ریاست میں طاقت کی بولنے سے احترزا کرنا ہوگا ، کر عوامی جذبات کو بزور بازودبانے کی پالیسی کو ختم کر نا ہوگا ، انسانی حقوق کی پامالیوں ، نہتوں کے خلاف زیادتیوں، بے تحاشہ گرفتاریوں اور ماورائے عدالت قتل جیسی مجرمانہ وارداتوں کا قصہ تمام کر نا ہوگا ، تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کر ناہوگا، مزاحمتی قوتوں کے خلاف این آئی اے کی کاررؤائیوں کو مختصر کرنا ہوگا ، کسی بھی جگہ مظاہرہ پھوٹ پڑنے پر مشتعل عوام کو پیلٹ اور بلیٹ سے خاموش کر نے کی بجائے بڑے صبر وتحمل کا مظاہرہ کرنا ہو گا ۔ مزید برآں کشمیری عوام کے ہرے زخموں پر پھا ہا رکھتے ہوئے سنجیدگی سے متعلقہ تینوں فریقوں سے بامعنی اور جمہوری انداز میں مذاکرات کا آغاز کرنے کے لئے یشونت سنہا اور ارون دھتی رائے جیسی مستند اور باوقار شخصیات کی خدمات بروئے کار لاکر کسی متفقہ حل کی توقع کی جاسکتی ہے، کیونکہ ایسے جہاندیدہ اور تجربہ کار چہروں پر عوامی اعتماد ہوتو کوئی بات بنے گی۔ بشکریہ کشمیر عظمی

اپنا تبصرہ بھیجیں