سکندر حیات کا کشمیر فارمولا ،طاہر احمد فاروقی

سکندر حیات کا کشمیر فارمولا اور طلبہ و ملازمین کے مطالبات

تحریر: طاہر احمد فاروقی

آزاد جموں وکشمیر سپریم کورٹ نے قانون ساز اسمبلی سے ملازمین تنظیموں کے دائرہ کار ‘ مطالبات پیش کرنے کے طریقہ اور احتجاج سے متعلقہ پاس کردہ قانون کے حق میں عدالت العالیہ کے فیصلے کیخلاف دائرہ کردہ اپیل پر سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے ‘ چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ابراہیم ضیاء کی سربراہی میں جسٹس سعید اکرم راجہ ‘ جسٹس غلام مصطفی مغل ‘ جسٹس سردار عبدالحمید پر مشتمل فل کورٹ نے سماعت کے دوران سوال اُٹھا کہ کیا یہ درست ہے کہ مریض ہسپتال میں مر رہا ہو اور ڈاکٹر ‘ نرس الائونس کے لیے چلے جائیں ‘ فوج ‘ پولیس ‘ سول سرونٹ کو دوران سروس انتخابات میں حصہ لینے کا حق دیا جا سکتا ہے ‘ جو سب برحق ہے اور ملازمین کا دفاتر کو تالے لگا کر بند کرنا ‘ شاہرات کو بلاک کرنا جائز ہے ‘ ججز کے سوالوں پر حقیقی معنوں میں پروفیشنل وکیل بیرسٹر ہمایوں بھی دفاعی پوزیشن اختیار کرتے ہوئے اپنا نقطہ نظر پیش کر سکے ‘ ایڈووکیٹ جنرل رضا علی خان نے عدالت العالیہ کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے واضح کیا ‘ فیکٹری کے مزدور عام شہری اور سول سرونٹ میں فرق ہے ‘ ملازم کو اپنے مطالبے کے لیے محکمانہ طریقہ کار پر مطمئن نہ ہونے پر عدالت سے رجوع کا حق ہے جبکہ عام شہری ‘ مزدور معیشت کے ہاتھوں عدالت نہیں آ سکتا ‘ ان کی مراد قانونی چارہ جوئی کے اخراجات تھے ‘ درحقیقت ملازمین تنظیموں کا اصل مسئلہ سیاسی جماعتوں سے زیادہ ان کی تنظیمیں ہیں ‘ جریدہ کی طرح ان کی بھی ایک تنظیم شفاف انتخابات کے ذریعے ہونی چاہیے جس کے بغیر قانون واقعتا نامکمل اور تنظیمیں بے وقار رہیں گی ‘ تو یہ توہین عدالت کے مرتکب ہونے کے معاملے پر زیادہ پریشان ہیں ‘ سپریم کورٹ میں تعلیمی پیکیج پر سماعت بھی آئندہ تاریخ سماعت تک موخر کر دی گئی ہے ‘ جس پر حکومت کو حقیقت پسندانہ اقدامات کرتے ہوئے یکسوئی حاصل کرنی چاہیے ۔ گو کہ ان کے ارد گرد اور سارے سیاسی حلقوں میں مسلم لیگ (ن) پاکستان کے مرکزی سینئر نائب صدر سابق وزیراعظم سردار سکندر حیات خان کا ایک انٹرویو بحث و تبصروں کی وجہ بن گیا ہے ‘ اور نمبر بنانے کا ذریعہ بھی ثابت ہوا ہے ‘ تاہم غصہ نکال کر زیادہ حصہ حکومت کے لیے ہمدردی و رہنمائی کا آئینہ دار ہے ‘ سکندر حیات راجہ فاروق حیدر خان کی بطور سربراہ جماعت مسلم کانفرنس ف کے پشت بان پہلی وزارت عظمیٰ کے تائید و عمل اور پھر مسلم لیگ (ن) کے قیام سے لیکر ن لیگ مسلم کانفرنس کے انتخابی اتحاد کی منصوبہ سازی کو تہہ و بالا کرتے ہوئے وزارت عظمیٰ تک فاروق حیدر کا راستہ صاف کرنے والے سب سے بڑے معمار بلکہ حلقہ انتخاب میں ان کا جانشین ان کا بیٹا فاروق سکندر ہے تو خطہ میں فاروق حیدر ان کی جگہ وارث بنے ہیں ‘ بحیثیت وارث یا پھر دیوار سے لگا دیئے ‘ سیاسی مستقبل کو تابناک بناتے ہوئے اونچے سفر کا نگہبان بنانے والے سکندر حیات کا تحفہ ہے توراجہ فاروق حیدر خان نے بھی روز اول سے سردار سکندرحیات خان کی بطور حکمران اور اپوزیشن بشمول جماعت کے اندر ان کی پگڑی کو اونچا رکھنے کے لیے کشت کاٹے ہیںتاہم سکندرحیات کی طرف سے ایک مرکزی وزیر اور معائون خصوصی پر تنقید کے حوالہ سے زیادہ فکری مندی کی بات نہیں ہے کل تک پیپلزپارٹی کی حکومت کے دوران سکندرحیات فاروق حیدر سمیت اویر سے نیچے تک سب ہی ایک خاتون سیاستدان اور منتخب ایم این اے محترمہ فریال تالپور ‘اور دو سیاسی کارکنوں کے خلاف ہر روز جو زبان استعمال کرتے تھے یہ تنقید اس کے زرے کے برابر بھی نہیں ہے تاہم سکندرحیات کی فاروق حیدر حکومت پر تنقید بقول سینئر پارلیمنٹرین راجہ عبدالقیوم خان سکندر حیات فاروق حیدر کا باہمی پیار محبت ہے ‘ یقینا ماں باپ ہوں یا روحانی سیاسی مسیحا ہوں ان کو اپنے ہاتھوں سے تیار کردہ وجود کی غلطیوں ‘ نقصان پر دُکھ ہوتا ہے جس کا اظہار پھر اسی طرح ہوتا ہے لیکن سکندر حیات کی کشمیر کے مسئلہ کا حل مذہبی تقسیم اور گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کی تجویز ساری ریاست بلکہ پاکستان انڈیا جنوبی ایشیاء کے امن ترقی و خوشحالی کے تناظر میں مستقبل کے حالات حقائق پیش نظر رکھتے ہوئے ہر سطح پر غور و فکر کی متقاضی ہے ‘ جس کی تائید و حمایت سردار عبدالقیوم خان مرحوم ‘ سردار سکندر حیات کے بعد سینئر ترین راہنما راجہ عبدالقیوم خان نے دلیل پیش کی ہے سکندر حیات کی مذہبی بنیاد پر تقسیم سے مراد (دو قومی نظریہ) ہے جس کی بنیاد پر پاکستان وجود میں آیا اور تحریک کشمیر اس کا تسلسل ہے ‘ اب انڈیا پاکستان بشمول کشمیری جنگ تصادم کے متحمل نہیں ہو سکتے کیونکہ پھر ایٹمی تباہی بربادی ہی مقدر بنے گی ‘ بھارت کو کشمیری مسلمانوں سے نہیں ‘ ارض کشمیر سے محبت ہے جس میں اندھا ہو کر وہ کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کرتے ہوئے ہندو اقلیت کو اکثریت دلانے کے منصوبے پر تیزی سے گامزن ہے ‘ آئندہ دس سالوں تک کشمیری مسلم ہی نہ رہے تو ہم نے کشمیر کا کیا کرنا ہے ‘ کشمیر ی مسلمانوں کی بقاء و سلامتی کیلئے برصغیر کی طرح ریاست میں بھی دو قومی نظریہ پر عملدرآمد واحد حل ہے ‘ ان کی باتیں اور اس پر پیپلز پارٹی کے صدر چوہدری لطیف اکبر سمیت سیاسی راہنمائوں کارکنان کی طرف سے تنقید مذمت اپنی جگہ مگر عالمی علاقائی قومی سطح و فورمز پر سنجیدگی سے کشمیر میں کشمیریوں کو بچانے کیلئے غور و فکر بلکہ عملی اقدامات ناگزیر ہیں ‘ یہ قابل تحسین عمل ہے وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی اور آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے ایل او سی چڑی کوٹ کا اکٹھے دورہ کیا جن کا وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے استقبال کرتے ہوئے متاثرین سیز فائر لائن کے مسائل سے آگاہ کیا ‘ وزیراعظم پاکستان نے سیز فائر لائن کے متاثرین کے لیے حفاظتی بنکرز کی تعمیر کے لیے فوری 2 ارب روپے کے فنڈز کی فراہمی اور سول شہداء و زخمیوں کے امدادی معاوضے میں اضافے کا اعلان کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے عوام سے زبردست الفاظ میں یکجہتی کا اظہار کیا ‘ قومی سول و عسکری قیادت کا یہ اقدام کشمیریوں کے ساتھ اخلاص و محبت کا آئینہ دار ہے ۔یہاں دارالحکومت مظفر آباد میں آل پارٹیز اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کانفرنس میں منظور کردہ قراردادوں میں گیارہ نکاتی مطالبات پیش کیے گئے ہیں ان میں جامعہ کشمیر کی فیسوں میں اضافے کی واپسی اور طلباء یونین کی بحالی کے مطالبے سب سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں ‘ شام کو کسی اخبار کے دفتر کمپیوٹر پر ملازمت کر کے اور ٹیوشن پڑھا کر پانچ دس ہزار پڑھانے والایونیورسٹی کالج کا نوجوان ہو یا ہوٹل پر ٹیبل مین کے طور پر مزدوری کرنے والا سکول کا طالب علم ان کے لیے حل نکالنا چاہیے ‘ فیضان نقوی ‘ عمر مشتاق ‘ احسان شیخ ‘ راجہ شاداب ‘ احسن ہمدانی ‘ قمر علی ‘ حسیب کاظمی ‘
کاشان گردیزی ‘ عمر الحسن ‘ امتیاز حسین ‘ سردار بشیر ‘ سردار ولید ‘ مدثر عباسی ‘ خالد خان ‘ سردار مہتاب ‘ سردار عثمان ‘ اویس اعوان ‘ مہر ہمدانی ‘ راجہ شان ‘ زوہیب خٹک ‘ عبدالحفیظ اور ان کے ساتھیوں کو طلباء یونین کی بحالی کے مطالبے کے ساتھ حل بھی پیش کرنا چاہیے کہ یہ بطور طاقت تعلیمی اداروں میں اسلحہ ‘ منشیات کلچر اور ماسوائے دیگولر طلباء کے باقی ہر طرح کی مداخلت کیخلاف سیسہ پلائی دیوار ثابت ہو گی نیز تعلیمی معیار کی سربلندی مقصد ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں