خادم رضوی کے جیالے آج منتشر ہوں گے

اسلام آباد میں مذہبی تنظیم ’تحریک لبیک یا رسول اللہ‘ کے کارکنان نے انتخابی اصلاحات کے مسودہ قانون میں حلف اٹھانے کی مد میں کی گئی ترمیم کے ذمہ داران کے خلاف دھرنا ایک ہفتے سے جاری ہے . اخبار دی نیوز کے مطابق اتوار کو مظاہرین کو منتشر کر دیا جائے گا
دے رکھا ہے۔

تحریک کے کارکنان کا مطالبہ ہے کہ ترمیم کے مبینہ طور پر ذمہ دار وفاقی وزیر زاہد حامد کو فوری طور پر اُن کے عہدے سے برخاست کیا جائے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ پاکستانی پارلیمان میں انتخابی اصلاحات میں ترامیم کا ایک بل پیش کیا گیا تھا جس میں پیغمبر اسلام کے ختم نبوت کے حلف سے متعلق شق مبینہ طور پر حذف کر دی گئی تھی۔ تاہم نشاندہی کے بعد اس شق کو اس کی اصل شکل میں بحال کر دیا گیا تھا۔

ریلی کے مظاہرین وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے مستعفی ہونے کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ یہ امر اہم ہے کہ پاکستان کے وفاقی وزیر قانون زاہد حامد اس معاملے پر پہلے ہی معافی طلب کر چکے ہیں۔

زاہد حامد کے بقول پیغمبر اسلام کے آخری نبی ہونے کے حوالے سے شق کا حذف ہونا دفتری غلطی تھی جسے بعد میں ملکی پارلیمان نے درست کر دیا تھا۔
احمدی کمیونٹی کو اکثر پاکستان میں اسلامی انتہا پسندوں کی جانب سے نشانہ بنایا جاتا ہے
دوسری جانب مظاہرین کا کہنا ہے کہ ایسا کر کے وفاقی وزیر قانون نے ملک کی احمدی کمیونٹی کو خوش کرنے کی کوشش کی ہے۔ تحریک کے سربراہ خادم حسین رضوی نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زاہد حامد کو ملازمت سے برطرف کیے جانے تک احتجاجی مظاہرہ جاری رہے گا۔ رضوی کا کہنا تھا،’’ کسی کو اسلامی قوانین بدلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘‘

یہ دھرنا اسلام آباد اور پنڈی کے جڑواں شہروں کو آپس میں ملانے والی مرکزی شاہراہ پر دیا گیا جس سے مقامی لوگوں کو تکالیف و مسائل کا سامنا ہے۔ تحریک لبیک یا رسول اللہ کی جانب سے وفاقی وزیر زاہد حامد کے استعفے کے مطالبے کے بعد سے پاکستانی حکومت نے ملک میں احمدی برادری کی عبادت گاہوں پر سیکیورٹی بڑھا دی ہے۔

سن 1974 کی ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا تھا۔ اس کمیونٹی کو اکثر پاکستان میں اسلامی انتہا پسندوں کی جانب سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں