چھاتی کا کینسر 40 فیصد امکان

چھاتی کا کینسر علاج کے 15 سال بعد بھی لوٹ سکتا ہے

چھاتی کا کینسر
محققین کے مطابق اگر ہارمون کے علاج کی مُدت بڑھا دی جائے تو اس مرض کے دوبارہ واپس آنے کے امکانات کم ہو سکتے ہیں

ایک نئی سائنسی تحقیق کے مطابق چھاتی کا سرطان کامیاب علاج کے 15 سال بعد بھی مرض دوبارہ نمودار ہو سکتا ہے۔

اس تحقیق میں 20 سال کے عرصے تک 63 ہزار ایسی خواتین کی صحت اور علاج کا جائزہ کیا گیا، جن کو چھاتی کے سرطان کی سب سے عام قسم کی تشخیص ہوئی تھی۔

ایسی خواتین جن کی رسولیاں بڑی تھیں یا سرطانی خلیے ان کے لمف غدودوں تک پھیل گئے تھے، ان میں کینسر کے لوٹنے کا 40 فیصد امکان تھا۔

تاہم محققین نے امریکی طبی حریدے ‘نیوانگلنڈ جرنل آف میڈیسن’ میں لکھا ہے کہ اگر ہارمون کے علاج کی مُدت بڑھا دی جائے تو اس مرض کے دوبارہ ہوجانے کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔

چھاتی کے سرطان کی سب سے عام قسم میں ایسٹروجن ہارمون سے کینسر کے خلیوں میں اضافہ کرتا جاتا ہے۔ اس کے علاج میں مریضوں کو ایسی ادویات دی جاتی ہیں جو ایسٹروجن کے اس عمل کو روکنے کی کوشش کرتی ہیں۔

کیسنر کے خلیےتصویر کے کاپی 
ایسٹروجن سے کیسنر کے مزید خلیے ابن سکتے ہیں

عام طور پر اس علاج کے پانچ سال تک جاری رکھے جانے سے یہ کینسر ختم ہو جاتا ہے۔ تاہم اس تحقیق میں یہ دیکھا گیا کہ جن خواتین میں پانچ سال بعد یہ کینسر ختم ہو گیا تھا، ان میں سے کئی میں اگلے 15 سال تک یہ واپس آ گیا۔

اس تحقیق کے اہم محقق آکسفورڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر ہونگ چاؤ پین نے کہا کہ ‘یہ بات حیران کُن ہے کہ چھاتی کا کینسر اتنے سالوں تک خاموش شکل میں جسم میں رہ سکتا ہے، اور اتنے سالوں کے بعد پہلے جیسی شدت کے ساتھ دوبارہ نمودار ہو سکتا ہے۔’

البتہ جن خواتین کی رسولی چھوٹی تھی یا ابھی ان کا کینسر لمف غدودوں تک نہیں پھیلا تھا ان میں اس مرض کے دوبارہ لوٹنے کے امکانات صرف دس فیصد تھے۔

تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر ہونگ چاؤ پان نے کہا کہ’یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ چھاتی کا سرطان اتنا عرصہ خاموش رہنے کے بعد دوبارہ نمودار ہو سکتا ہے، اور اس بات کا خطرہ سالہا سال بعد بھی رہتا ہے۔‘

اپنا تبصرہ بھیجیں