دھند اڑنے لگی،بننے لگے کیا کیا چہرے!آمنہ مفتی

دھند اڑنے لگی،بننے لگی کیا کیا چہرے!

سموگ

کالم نویس کی کم بختی یہ ہے کہ اسے اس وقت بھی بولنا پڑتا ہے جب وہ چپ رہنا چاہتا ہے۔ ویسے آ پس کی بات ہے کالم نویس، کبھی چپ نہیں رہنا چاہتا، اور اگر وہ ایسا چاہتا ہے تو یہ خاصی تشویش ناک بات ہوتی ہے۔

آج کا دن بھی ایک ایسا ہی دن کہ موضوعات کا پشتارہ کھلا ہوا ہے۔ ایک سے بڑھ کے ایک صورتِ حال ہاتھ باندھے سامنے کھڑی ہے کہ قلم اٹھاؤ اور لکھو۔ یہ وہ موضوعات ہیں جن پہ لکھ کے ایک کالم نویس امر ہو سکتا ہے۔

سعودی عرب کی صورتِ حال ہی کو لے لیں۔ کیا افسانوی حالات ہیں۔’ایک شہزادہ ، کرپشن کے نام پہ برادر کشی کر رہا ہے’، سے لے کر ‘کیا سعودی عرب میں اعتدال پسند اسلام آنے ولا ہے’ تک، جی بھر کے پڑھنے والوں کو دہلایا اور اپنی دانشوری کا سکہ جمایا جا سکتا ہے۔

پچھلے دو سال کی اہم خبریں پڑھیے، آلِ سعود کے بارے میں ایک عالمانہ انداز میں لکھنا شروع کیجیے، جس سے ایسا محسوس ہو کہ آپ اور عرب شہزادے، شہزادیاں مل کر ککلی کلیر دی اور پٹھو گول گرم کھیلتے رہے ہیں۔ بیچ بیچ میں ٹرمپ کے دورے کا بگھار بھی لگاتے جایے۔

آ پ کی مرضی کہ آ پ شہزادہ موصوف کو آنے والے زمانوں کا سفیر بنا دیں اور جی چاہے تو یہودیوں کا ایجنٹ۔ ایک جنبشِ قلم ہی تو ہے۔ آ پ کا لکھا پورا تو ہونے سے رہا۔ صرف اتنا ہو گا کہ لوگ چند گھنٹے یا تو دل لگا کر آ پ کو گالیاں دیں گے یا اس کالم کو روشنی میں شام تک کچھ ‘ انقلاب’ آ جائیں گے۔ بے فکر رہیے، صبح تک ان انقلابات کا اثر زائل ہو چکا ہو گا۔

اگر اتنی دور کی بات کرنے کو جی نہ چاہ رہا ہو تو کراچی کی سیاست پہ خاصا دلچسپ فکاہیہ کالم لکھا جا سکتا ہے۔ فاروق بھائی کے سیاسی سرکس میں اچانک اسی کی دہائی کی فلم شروع ہو جاتی ہے، ایسی فلم پہ تبصرہ خاصا دلچسپ کام ہے۔ ادھر لندن سے اتنے گہرے بیان آتے ہیں کہ ریاضی کے کے لیے پھر سے پڑھنے پڑ جاتے ہیں۔ ان سب کو ملا کر خاصی بارہ مصالحے والی چاٹ بنائی جا سکتی ہے۔

اتنے دنوں کی خاموشی کے بعد ماہرہ خان نے رنبیر کپور کے ساتھ اپنی ہنگامہ خیز تصویر پہ کچھ بیان دیا ہے جو بالکل ویسا ہی ہے جیسا اسے ہونا چاہیے ،یعنی معذرت خواہانہ۔پبلک ریلیشن کا پہلا اصول، اگر لوگ ناراض ہیں تو معافی مانگ لو۔ دھول بیٹھ جائے گی۔ لوگ ٹھنڈے ہو جائیں گے۔ لوگ ٹھنڈے ہو گئے۔

سموگ

یہ موضوع بھی خاصا کھینچا جا سکتا تھا۔ عورتوں کی آزادی اور ان کے سگریٹ پینے کے حق پہ خاصی دھواں دار بحث ہو سکتی تھی۔ مگر جی بجھا ہوا ہے۔ ہماری بلا سے کوئی سگریٹ پی پی کے ڈھیر لگا دے، ہمیں کیا؟

عرفان خان کی نئی فلم آئی، بھلے سے آ ئے۔ ہونے کو مشرق سے مغرب تک پھیلی اس دنیا میں کیا کچھ نہیں ہو رہا ؟ مگر میں کسی بھی چیز پہ کچھ بھی نہیں لکھنا چاہتی ۔ یہ سب معاملات انسانوں کے معاملات ہیں اور انہوں نے شوقیہ بگاڑے ہیں۔ جب جی چاہے گا سنوار لیں گے ۔ مگر جو معاملات فطرت کے ساتھ بگڑ چکے ہیں ان کو دیکھ دیکھ کے میری سٹی گم ہے۔ نہ کچھ بولا جا رہا ہے نہ لکھا جا رہا ہے۔

ہندوستان اور پاکستان میں آج دھند چھائے دوسرا ہفتہ شروع یا ختم ہونے والا ہے۔ مارے خوف کے مجھے تو دنوں ہفتوں کی گنتی بھی بھول گئی ہے۔

سموگ
انڈیا اور پاکستان کے کئی علاقے ان دنوں گرد آلود دھند کی لپیٹ میں ہیں

سکولوں کے اوقات بدل دیے گئے ہیں۔ وہ صبح جو پانچ بجے ہوتی تھی اب آٹھ ساڑھے آٹھ کے قریب فرض کر لی جاتی ہے کہ ہو گئی کیونکہ کہرا تو اسی طرح موجیں مارتا چاروں طرف پھر رہا ہے۔ پورا دن، کہر چھائی رہتی ہے اور یہ کوئی رومانوی دھند نہیں۔ بڑی ظالم، بڑی قاتل، انسانوں کی پھیلائی دھند ہے۔ یہ ایشین براؤن کلاؤڈ ہے جو سرخ انقلاب لاتے لاتے ہم خود پہ مسلط کر بیٹھے ہیں۔

کل میری یہ بات سن کے ایک دوست نے تسلی دی کہ آ پ کو معلوم نہیں یہ سب امریکہ کی سازش ہے۔ دھند وندھ کچھ نہیں یہ اس نے کسی کیمیائی عمل سے پھیلائی ہے تاکہ ہم گھبرا کے اپنے ملک کی ماحولیات بھی اس کے سپرد کریں۔ آ پ تسلی رکھیں ، چین ہی کو دیکھیں اسی سموگ سے ہیرے بنا رہا ہے۔ ایسی کوئی بات کریں تو لوگوں کا مورال ہائی رہے گا یہ آپ لوگوں کا فرض ہے۔

اپنی کم ہمتی پہ واقعی بہت رونا آیا۔ ایسے موقعے واقعی قسمت والوں کو ملتے ہیں تو قارئینِ کرام !اس دھند سے بالکل نہ گھبرایے۔ یہ صرف کاربن ہے آ پ جلد ہی اس سے ہیرے بنانے کی ترکیب ان ہی کالموں میں پڑھ پائیں گے۔ پہلے راقم کو چند گوہرِ شب چراغ تراش لینے دیجیے ۔ اس وقت تک خاطر جمع رکھیے اور اس دھند کو خوف کی نہیں شوق کی نظر سے دیکھیے شائد کچھ افاقہ ہو جائے!

اپنا تبصرہ بھیجیں