ول ڈیورنٹ، نباضِ فطرت، نباضِ عصر ! ابو عماد راشد

ول ڈیورنٹ نباضِ فطرت، نباضِ عصر
ابو عماد راشد

مجھے ان دنوں اِس عظیم انگریز کی رفاقت نصیب ہے۔اور مجھے اِس رفاقت کے کسی لمحے میں نا آسودگی کے اِحساس سے نہیں گزرنا پڑا.۔عظیم انسانوں کی عظمت اس میں ہے کہ وہ ہر زمانے میں زندہ رہتے اوراپنے وجود کا احساس دلاتیہیں۔صرف اپنے ہونے کا نہیں اپنے وابستگان کو بھی زندگی سے آشنا کر دیتے ہیں۔۔ول ڈیورنٹ آپ کی دکھتی رگوں پر ہاتھ رکھے گا۔وہ آپ کو فلاسفہ کی مجالس میں لے جائے گا۔ان کے مباحثے میں آپ خود کو شریک محسوس کریں گے۔وہ آپ کو تہذیبوں کی داستان سنائے گا۔مذہب اور خدا سے وابستگی کی بات کرے گا۔اِ س دوران آپ کی بہت سی غلط فہمیوں اور الجھنوں کو بھی دور کر دے گا۔ڈیورنٹ کے ساتھ آپ کا ڈیٹا بہتر اور دلیل سے لیس ہو گا۔یہی نہیں وہ آپ کے ذھن میں کئی ایسے سوال بھی پیدا کر دے گا جو آپ کو بے یقینی اور بدگمانی کی فضا سے نکالنے کا باعث ہونگے۔فلسفہ پر ان کی وقیع کتاب کے ابتدائیہ کا عنوان دعوتِ فکر ہے اور مآحاصل یہ کہ ہم طاقتِ علم کے نشہ میں سرشار ہیں۔یہ علم ہمیں برباد کر رہا ہے۔اِس کا علاج فکر ونظر کے سوا کچھ نہیں اور یہی بات اقبال کہہ رہے ہیں۔
خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں
ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں
اقبال
اِس عظیم ماہرِ بشریات کا موضوع تہذیبیں ہیں۔جس کے دوران ریاستیں، جمہوریت، آمریت، کمیونزم، سوشلزم، مذاہب، بچے بوڑھے، جوان، عورتیں نسل، اقوام اور جنس ونفسیات اور فلسفہ یونان اور اُس کے مشرق ومغرب پر اثرات بھی زیرِ بحث آتے ہیں۔ان موضوعات پر آپ کو زیادہ مواد،، تہذیب کی کہانی،، story of civilization اور اُس کی تلخیص lesson of history میں جو ڈیورنٹ اور ان کی دانشور اہلیہ کی مشترکہ کاوش ہے میں مل جائے گا۔فلسفے کی دنیا سے آپ کی دلچسپی ہو تو نشاطِ فلسفہ اور داستانِ فلسفہ موجود ہے۔جہاں سے مطالعہ شروع کریں آپ کی دلچسپی اور رہنمائی کا اہتمام ہے۔ڈیورنٹ کا مطالعہ آپ کے اندر کی دنیا کے ابتزال اور انحراف کو توازن میں لا کر آپ کی مثبت سمت میں رہنمائی کرتا ہے۔کسی بھی مصنف کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنے قاری کو فکر سے آشنا کردے اور ایسی فکری غذا بہم کرے جس سے وہ اپنی شخصیت اور اپنی ترجیحات کو اعتدال سے آشنا کرنے کے قابل ہو سکے۔ول ڈیورنٹ اِس علمی افلاس کے بحران میں بہتر انسان بنانے کی شاندار کوشش کر چکا ہے۔جس سے نسبت انسانی ذھن اور شخصیت کو تبدیل کرتے ہوئے اعتدال کے قریب لے جانے کا باعث ہو گی۔یہ فلسفی آپ کو بتائے گا کہ انقلاب پسندی دولت کے حصول سے دھیمی پڑ جاتی ہے۔اور یہ کہ ہم نے مربوط زاویہ نگاہ کھو دیا ہے۔ہم انسانیت کے چیتھڑے ہیں اس سے زیادہ کچھ نہیں۔حسن کا تصور ڈیورنٹ کے ہاں کچھ اِس طرح ہے۔
ہر وہ چیز حسین ہے جو آپ کی شخصیت کو متحرک اور توانا بنادے۔محبت حسن کی ماں ہے بچہ نہیں عائلی زندگی کیے بارے میں اِس درویش کی رائے سن لیجیے بل کہ اِ س دعا میں شریک ہو جائیے۔خدا ہمیں یہ صلاحیت عطا کرے کہ ہم اپنے شریک زندگی کو اس طرح دیکھ سکیں جس طرح دوسرے اُسے دیکھتے ہیں۔اُن کے ہاں تہذیب کی کہانی اہم ہے وہ تہذیب کو فنی خصوصیات اور تمدنی تخلیقات کا مرکب کہتے ہیں۔ریاست اُن کے نزدیک سب سے بڑی بلا ہے جس کی سرد مہری کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ دینا نہیں بھولتے۔وہ اِ س دکھ سے بھی آشنا ہیں کہ ہم ریاست کو خدا سمجھتے ہیں اور مذہب کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ڈیورنٹ کے نزدیک مذہب کی کئی زندگیاں ہوتی ہیں وہ اپنی خاک سے بار بار جنم لیتا ہے۔مذہب کے بغیر کسی ہمہ گیر اخلاقی ضابطے کا اِ طلاق ممکن نہیں۔ یہ موضوع ان کی تمام کتب میں کہیں نہ کہیں مل جائے گا۔لیکن ان کی شعرہ آفاق تصنیف story of civilization اور اُس کی تلخیص lession of history میں اخلاق اور تاریخ اور مذہب اور تاریخ کے عنوان سے ذرا تفصیل سے ملے گا۔تاریخ کے حوالے سے ان کی رائیہے کہ سائنس اور سیاست کی مانند فی الحال تاریخ میں بھی اضافیت. کا دور دورہ ہے۔تاریخ ٹیڑھی میڑھی ہے۔ ڈیورنٹ کی نظر میں انکسار تاریخ کا پہلا سبق ہے۔ لیکن اِ س موضوع پر ذرا آگیے چل کر وہ تاریخ کے حیاتیاتی سبق کی طرف ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔ تاریخ کا پہلاحیاتیاتی سبق یہ ہے کہ زندگی پیہم مقابلے کا نام ہے۔تاریخ کا دوسرا حیاتیاتی سبق یہ ہے کہ زندگی ترجیحی بنیادوں پر انتخاب کے عمل سے عبارت ہے۔تاریخ کا تیسرا حیاتیاتی سبق یہ ہے کہ زندگی کو اپنے آپ کو مزید بڑھانا چاہیے۔ولیم جیمز ڈیورنٹ 5نومبر 1885ء کو امریکی ریاست میساچوسٹس میں نارتھ ایڈمز کے مقام پر پیدا ہوئے۔1926 میں ان کی کتاب story of philosophy منظر عام پر آئی۔ اور بہت جلد اہلِ علم میں مقبول ہوگئی۔1935ء میں انھوں نے story of civilization کے عنوان سے ایک سلسلہ مضامین انسانی تاریخ و تمدن پر شروع کیا۔ کئی کتابوں کی یہ سیریز نپولین کی زندگی پر آخری کتاب کی صورت میں 1975ء میں مکمل ہو کر اسی story of civilization کے نام سے ایک معتبر علمی حوالے اور اثاثے کے طور پر موجود ہے۔ول ڈیورنٹ کی روسی نژاد بیوی ایرئیل ڈیورنٹ اِس کتاب کی آخری پانچ جلدوں کی شریک مصنفہ ہے۔اور اس ضخیم کتاب کی تلخیص A lession of history بھی ان دونوں کی مشترکہ علمی کاوش ہے۔25 اکتوبر 1981 کو اِس عظیم فلسفی کی شریک سفر اس سے بچھڑ گئی اور صرف دو ہفتہ کے فراق کے بعد ڈیورنٹ بھی اِس جہان کو چھوڑ گیا۔ ول ڈیورنٹ اپنے اُسلوب کی دلکشی و رعنائی اور تحقیق کے بلند معیار کے باعث بڑی مدت تک اہلِ فکر و نظر سے خراج وصول کرتے رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں