سعودی عرب 100 ارب ڈالر کی کرپشن

ریاض: سعودی عرب کے اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ حالیہ چند دہائیوں میں منظم منصوبہ بندی کے ذریعے کم از کم 100 ارب ڈالر کی رقم کرپشن کی نذر ہوئی۔
اٹارنی جنرل شیخ سعود المجیب نے کہا ہے کہ اس ضمن میں حالیہ گرفتاریوں کے بعد سے 201 افراد سے سوال جواب کیے جارہے ہیں ان 201 افراد میں وزرا، سینئر شہزادے اور بڑے کاروباری افراد شامل ہیں، ان ملزمان کے غلط کاموں کے بڑے واضح ثبوت موجود ہیں جب کہ کرپشن کے خلاف حالیہ کریک ڈاؤن سے مملکت میں کسی قسم کی معاشی سرگرمیاں متاثر نہیں ہوئیں صرف مخصوص افرادکے بینک کھاتے منجمد کیے گئے ہیں۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ بدعنوانی کے اسکینڈل کی تحقیقات نو تشکیل شدہ سپریم اینٹی کرپشن کمیٹی کررہی ہے جس کی سربراہی ولی عہد محمد بن سلمان کررہے ہیں جس میں تیزی کے ساتھ پیش رفت سامنے آرہی ہیں، اب تک 208 افراد کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا گیا جن میں سے 7 افراد کو بغیر کسی الزام کے باعزت طور پر بری کردیا گیا ہے، لیکن یہ طے ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں میں کم از کم 100 ارب ڈالر کی رقم بدعنوانی کی نذر ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ کمیٹی کو مکمل قانونی اختیار حاصل ہے جس نے اپنی تحقیقات کے اگلے مرحلے کا بطریق احسن آغاز کرتے ہوئے متعلقہ افراد کے بینک اکاؤنٹس منجمد کیے ہیں۔
سعودی عرب میں حال ہی میں بدعنوانیوں کے الزامات میں گرفتار کیے گئے 208 افراد میں سے 7 کو ابتدائی پوچھ گچھ کے بعد رہا کردیا گیا۔
سعودی عرب کے اٹارنی جنرل اور سپریم کمیٹی برائے انسدادِ بدعنوانی کے رکن الشيخ سعود بن عبدالله بن مبار المعجب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پکڑے گئے افراد کے خلاف تیزی سے تحقیقات جاری ہیں اور اس ضمن میں لمحہ بہ لمحہ کی صورت حال سے آگاہ کیا جاتا رہے گا۔
اٹارنی جنرل شیخ سعود المعجب نے بتایا ہے کہ بدعنوانیوں کے الزام میں اب تک کل 208 افراد کو پکڑا گیا ہے۔ان میں سے 7 کو ٹھوس شواہد نہ ہونے کی بنا پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
قبل ازیں جمعرات کو سعودی حکومت نے کرپشن میں ملوث مشتبہ افراد کی ایک نئی فہرست جاری کی ہے اور ان کے بینک کھاتے منجمد کر دیے گئے ہیں۔ نئے گرفتار کیے گئے افراد میں منیجرز، سرکاری حکام اور عدالتی اداروں کے حکام شامل ہیں۔
شیخ سعود المعجب نے کہا ہے کہ جن افراد کو پکڑا گیا ہے، وہ عشروں سے رقوم کی خرد برد میں ملوث تھے ،انہوں نے سرکاری رقوم کا ناجائز استعمال کیا، ابتدائی تحقیقات کے مطابق ان کی کرپشن کی کل رقم کا تخمینہ ایک سو ارب ڈالرز ہے اور یہ رقم اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کرپشن کا اندازہ لگانے کے لیے مزید شواہد اکٹھا کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ سعودی عرب کی مانیٹری ایجنسی ( مرکزی بینک) کے گورنر نے مشتبہ افراد کے ذاتی اثاثے منجمد کرنے کے لیے میری درخواست منظور کر لی ہے۔
تحقیقات کا ا گلا مرحلہ
الشيخ سعود بن عبدالله بن مبار المعجب نے کہا ہے کہ بدعنوانیوں کے الزامات کی وسعت کے پیش نظر 4نومبر کے شاہی فرمان کے تحت حکام کو مشتبہ افراد سے تحقیقات کے اگلے مرحلے کی جانب بڑھنے کا مینڈیٹ حاصل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گرفتار افراد کی شناخت کے حوالے سے دنیا بھر میں مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں تاہم فی الوقت ہم اس حوالے سے کوئی تفصیل جاری نہیں کررہے تاکہ زیر حراست افراد کو مملکت کی جانب سے تمام حقوق حاصل ہوسکیں، جاری عدالتی کارروائیوں کے دوران میں ان کی شخصی زندگی کا مکمل احترام کیا جائے گا۔
اٹارنی جنرل نے واضح کیا ہے کہ ان تحقیقات سے سعودی عرب میں معمول کی کاروباری سرگرمیوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔گرفتار مشتبہ افراد کے صرف ذاتی بینک کھاتے منجمد کیے گئے اور بینکوں کو ان کی کمپنیوں کے ساتھ لین دین کی مکمل آزادی حاصل ہے۔بینکوں سے رقوم کی منتقلی بھی معمول کے مطابق جاری ہے اور اس امر کی سعودی حکام پہلے بھی وضاحت کرچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں قانون کے دائرہ کار اور ادارہ جاتی فریم ورک میں رہ کر کام کررہی ہے تاکہ سعودی مارکیٹ میں شفافیت اور اعتباریت کو برقرار رکھا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں