اسلام آباد میں انڈا پراٹھا

علی رانا
اسلام آباد —
ناشتے کی بات ہو تو ہر کسی کے ذہن میں صرف ایک ہی شہر کا نام آتا ہے “لاہور”، جی ہاں لاہور تو اپنے روایتی ناشتوں کے لیے مشہور ہے ہی لیکن اب یہ کلچر ملک کے دیگر شہروں میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے اور “بابوؤں کا شہر” اسلام آباد بھی اس کی لپیٹ میں ہے۔

ایک وقت تھا جب اسلام آباد میں ناشتہ خصوصاً حلوہ پوری اور فرائی چنے کی کچھ ہی دکانیں اور ہوٹلز تھے لیکن اب شہر اقتدار میں یہ ٹرینڈ بدلتا جارہا ہے اور اس شہر کا شمار بھی کھانے پینے کے شوقین باسیوں پر مشتمل شہروں میں ہوتا جا رہا ہے۔

آج سے تین چار سال قبل اسلام آباد میں صرف آبپارہ، کراچی کمپنی، پشاور موڑ اور ستارہ مارکیٹ ایسے مخصوص مقامات تھے جہاں روایتی ناشتہ دستیاب ہوتا تھا لیکن اب اسلام آباد کے باسی بھی دیسی ناشتوں اور کھابوں کے شوقین بن گئے ہیں جہاں مخصوص کھانوں کے لئے مخصوص جگہیں ہیں۔

اسلام آباد میں اب بہت سے روایتی ناشتے مشہور ہیں، ان ناشتوں میں انڈا پراٹھا، چائے پراٹھا، نان چھولے، نہاری روٹی، پائے اور کلچے، حلوہ پوری اور دیگر شامل ہیں تاہم ان سب میں حلوہ پوری کا ناشتہ خاص اہمیت حاصل ہے۔

پوری فرائڈ روٹی کو کہا جاتا ہے جو میدے کے علاوہ سفید آٹے سے بھی بنائی جا سکتی ہے۔

پوریاں تیار کرنے کے لیے پہلے آٹا گوندھا جاتا جس میں حسب ذائقہ نمک شامل کر کے چھوٹے چھوٹے پیڑے بنا کر ہلکا تیل لگایا جاتا ہے تاکہ پیڑے خشک نہ ہوں، اور گھی میں تل کر گاہک کو پیش کیا جاتا ہے۔

پوری ایک منٹ میں تیار ہو جاتی ہے، پوری کو 20 سوراخ پر مشتمل گول چمچے سے تلا جاتا ہے چمچے کی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ پوری تلنے کے دوران اضافی تیل اس چمچ کے سوراخ کی مدد سے پوری سے خارج ہو کر کڑاہی میں واپس چلا جائے۔

اتوار کی صبح، ہر خاص و عام کی، حلوہ پوری سے شروع ہوتی ہے۔ کہنے کو تو یہ حلوہ پوری ہے مگر اس کے ساتھ آپ کو آلو چنے اور اچار بھی ملتا ہے۔ اتوار کو حلوہ پوری کی خریداری کا سلسلہ بارہ بجے دوپہر تک چلتا ہے۔

حلوہ پوری بنانے میں لاہور کے کاریگر مہارت رکھتے ہیں اور یہ ہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں قائم ماڈرن ناشتہ مراکز میں مالکان نے حلوہ پوری کے لیے لاہور سے ماہر باورچی رکھے ہوئے ہیں۔

اسلام آباد کے سیکٹر ایف ٹین میں مشہور حلوہ پوری میں کام کرنے والے شہزاد کہتے ہیں کہ “اتوار کا دن ہماری سیل کا دن ہوتا ہے،اس روز دگنی تعداد میں حلوہ پوری فروخت ہوتی ہے”۔

انھوں نے بتایا کہ حلوہ پوری کا ناشتہ عام گھرانوں کے علاوہ مزدور طبقہ زیادہ شوق سے کرتا ہے، حلوہ پوری کا ناشتہ ہر عمر کے افراد شوق سے کرتے ہیں تاہم بچے حلوہ پوری کے ساتھ سالن کے بجائے حلوہ کھانا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ ایک پوری تیس روپے میں ملتی جس کے ساتھ چنے بھی دئیے جاتے ہیں تاہم حلوہ علیحدہ سے خریدنا پڑتا ہے۔

اسلام آباد میں ہی مشہور ایک اور ناشتہ مرکز کے باہر موجود خاتون نوال ملک اور ندا احمد بتاتی ہیں کہ ان کے بچے ہر اتوا کو حلوہ پوریاں لانے کے لیے انہیں اٹھا دیتے ہیں۔ یہاں ناشتے میں نان چنے، لسی، پراٹھوں کے ساتھ حلوہ پوری بھی ملتی ہے۔

اسلام آباد میں صرف ناشتہ کی دکانیں ہی نہیں بلکہ بہت سے تفریحی مقامات پر ریسٹورنٹس نے بھی ناشتوں کا اہتمام کرنا شروع کردیا ہے اور خاص طور پر اتوار کے روز برنچ کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں ایلیٹ کلاس کے لوگ پائے، نہاری، چنے اور لسی کا روایتی ناشتہ کرتے ہیں، ان بڑے ریسٹورنٹس پر قیمت عام دکانوں کی نسبت کافی زیادہ ہوتی ہے، وگرنہ اگر صرف دو پوریوں کا ناشتہ ہو تو 50سے 60 روپے میں یہ ناشتہ کیا جاسکتا ہے۔

حلوہ پوری کا ناشتہ ایک روایتی ناشتہ ہے جسے تقریباً ہر جگہ پزیرائی ملتی ہے، ذائقے کے لحاظ سے یہ بہت منفرد غذا ہے مگر طبی نقطہ نظر سے صحت مند غذا نہ ہونے کے باوجود بھی حلوہ پوری کی مقبولیت میں کمی نہیں آئی۔ بشکریہ وائس اف امریکہ

اپنا تبصرہ بھیجیں