ڈیجیٹل ماہرین کا نیا اینیمیڈ کارنامہ

 

لندن…. انفارمیشن ٹیکنالوجی جتنی کارگر ثابت ہوئی ہے اینمیشن کا کام بھی اتنا ہی اہم ہوکر سامنے آتا جارہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آجکل بے شمار کارٹون فلمیں اور فیچر فلمیں تیاری کے وقت کسی نہ کسی مرحلے پر اینیمیشن کا سہارا لیتی ہیں تاہم ماہرین کا اب کہناہے کہ اینیمیٹر کاکام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی کردار یا مخلوق کی حرکات کو ڈیزائن کرے اور جب اسے کسی ایسی چیز کی ڈیزائننگ کرنا پڑتی ہے جو زمانہ قبل نیست و نابود ہوچکی ہو تو اسے زمانہ قدیم کے ڈھانچوں، ہڈیوں اور باقیات کی بچی کھچی شکل و صورت کو پیش نظر رکھ کر خاکے بنانا پڑتے ہیں۔ یہ کام کرنے والے بالعموم پیلیو آرٹسٹ کہلاتے ہیں۔ اب برینڈن براڈی نامی ایک اینیمیٹر نے لاکھوں سال قبل دنیا میں پائے جانے والے خاص قسم کے جانور آرکیو پیٹرکس کے محجر ڈھانچوں اور ڈھانچوں کے ٹکڑوںکی مدد سے اسے زندہ کر دکھایا ہے۔ واضح ہو کہ یہ پرندہ نما جانور دنیا سے ڈائنا سورکے نیست و نابود ہونے سے قبل ہی ختم ہوچکا تھا۔پھر بھی اسکے پروں میں آج عصری پرندوں کے پر جیسی خصوصیات ہوتی تھیں۔ واضح ہو کہ یہ اینیمیشن کا ہی کمال تھا جس کی مدد سے ممتاز فلمساز اسٹیون اسپیل برگ نے 1993ءمیں جراسک پارک نامی فلم تیار کی تھی اور پھر ٹی ریکس او رگرافٹ نامی فلمیں اسی ٹیکنالوجی کے طفیل دیکھنے میں آئیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آرکیو ٹرکس نامی پرندہ نما حیوان کو جو بظاہر اڑانے کا کام انجام دیا گیاہے وہ کوئی آسان نہیں تھا۔ اطلاعات کے مطابق ماہرین اس منصوبے پر 15 سال سے کام کررہے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں