آزادکشمیر کے 70 برسوں کا منطقی اور غیرجذباتی جائزہ ! سید صفدر گردیزی

آزادکشمیر کے 70 برسوں کا منطقی اور غیرجذباتی جائزہ
سید صفدر گردیزی

آزاد کشمیر کی سیاسی و آئینی تاریخ 70 سال کے نشیب و فراز سے گزرنے کے بعد آج ایسے مقام پر کھڑی ہے جہاں اس کے اسباب و محرکات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ 1947ء کے مخصوص حالات، ریاست کی تقسیم، آزاد خطے میں ایک حکومت کے قیام اور اس کی ذمہ داریوں کے تعین اور مرکزی حکومت کے ساتھ اس کے تعلقات کی نوعیت نے سیاسیات کشمیر کو ایک مخصوص سانچے میں ڈھال لیا۔ آزادکشمیر کی سیاسیات کے تین ادوار کا جائزہ سیاست کی موجودہ ہیئت اور اس کے ارتقاء کو سمجھنے کا سامان فراہم کرتا ہے۔

پہلا دور 1947ء سے 1959ء پر محیط ہے۔ پاکستانی سیاست کے ابتدائی 10 سالوں کی طرح آزادکشمیر میں 11 برسوں میں اوپر تلے 7 صدور تبدیل ہوئے۔ یکے بعد دیگرے جڑ نہ پکڑ سکے، ۔ 1947ء میں آزاد حکومت کے قیام کے وقت معروضی حالات کی وجہ سے آئینی اور جمہوری اداروں کے قیام کی ضرورت پس منظر میں چلی گئی۔ آزاد حکومت کو اقوام متحدہ کی طرف سے بااختیار اور نمائندہ حکومت تسلیم کرنے سے پس و پیش کے باعث ابتدائی برسوں میں حکومت کی حیثیت محض عارضی انتظام تک محدود ہو گئی۔ 50 کی دہائی میں رائے شماری کے امکانات اور پوری ریاست کی آزادی کی خواہش کے باعث آزادکشمیر میں کسی مستقل آئینی ڈھانچے کی تشکیل کی ضرورت ہی محسوس نہ کی گئی۔ اپریل 1948ء میں چوہدری غلام عباس کو آزاد حکومت کا نگران اعلیٰ مقرر کیا گیا جبکہ 2 مارچ 1949ء کو ایک قرارداد کے ذریعے آزاد حکومت کو مسلم کانفرنس کی مجلس عاملہ کے ماتحت کر دیا گیا۔ نگران اعلیٰ کے ادارے کا قیام اور بعدازاں 1951ء میں اسے لامحدود اختیارات جیسے صدر حکومت کی تقرری، برطرفی کے اختیار کے علاوہ نگران اعلیٰ کی مرضی اور منشاء کے بغیر کسی بھی قانون سازی سے حکومت کا تہی دامن ہونا ایسے اقدامات تھے جس نے سیاسیات کشمیر میں اختلاف اور انتشار کو گہرا کر دیا۔ اگرچہ رئیس الاحرار چوہدری غلام عباس کی جدوجہد آزادی میں خدمات اور قربانیوں سے مفر ممکن نہیں مگر اس کے باوجود سیاسی ناقدین کا خیال ہے کہ مسلم کانفرنس کی مجلس عاملہ کے غیرمعمولی اختیارات کے ہوتے ہوئے نگران اعلیٰ کے عہدے کی تخلیق کی ضرورت نہ تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ نگران اعلیٰ کا کسی بھی فورم کے سامنے جوابدہی کے نظام کی عدم موجودگی نے بھی سیاسی بے چینی کو جنم دیا۔ اس کا نتیجہ سردار ابراہیم اور اور چوہدری غلام عباس کے اختلافات، کشمیری اور مقامی بحث کی صورت میں نکلا۔ بعدازاں چوہدری غلام عباس کا دو مرتبہ نگران اعلیٰ کے عہدے اور سیاسی سرگرمیوں سے علیحدگی نے بھی آزادکشمیر کی سیاست کے اس ابتدائی دور کو حکومتوں کی تشکیل، جمہوری ڈھانچے اور اقتدار میں عوام کی رائے اور مرضی جیسے موضوعات پر سنجیدہ غور و فکر کے بجائے ایک ہیجان اور غیریقینی سے دوچار کئے رکھا۔

آزادکشمیر میں ابتدائی دور میں سیاسی عدم استحکام کے دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ وزارت امور کشمیر کا حد سے زیادہ عمل دخل اور بے بہا اختیارات نے بھی سونے پہ سہاگہ کا کام کیا۔ ابتداء میں وزارت بے محکمہ کہلانے والی وزارت کو 26 مئی 1949ء کو وزارت امور کشمیر کا نام دیا گیا۔ نواب مشتاق گور مانی جیسا جاگیردارانہ پس منظر کا حامل سیاستدان آزادکشمیر کے سیاہ و سفید کا مالک تھا۔ کہا جاتا ہے کہ آزاد حکومت کو اپنی مٹھی میں رکھنے کے لئے گورمانی نے غلام عباس اور سردار ابراہیم کے درمیان دوریاں اور شکر رنجی کو ہوا دی۔ رہی سہی کسر پاکستان کی منہ زور اور ہوس اقتدار میں اندھی بیورو کریسی نے پوری کر دی۔ بہت سارے قارئین کے لئے یہ حیرت کا باعث ہو گا کہ وزارت کے ڈپٹی سیکرٹری اور جوائنٹ سیکرٹری کے اختیارات صدر آزادکشمیر سے زیادہ ہوتے تھے بلکہ وزارت کے ایک ڈپٹی سیکرٹری نے مظفر آباد میں پولیس کے دستے سے سلامی بھی لی۔ وزارت امور کشمیر کے جوائنٹ سیکرٹری آزاد حکومت کے چیف ایڈوائزر کی حیثیت سے بے محابہ اختیار کے حامل تھے۔ اس دور میں آزادکشمیر کے صدور کے علاوہ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس صاحبان سے حلف لینے کا ”آئینی” فریضہ بھی سرانجام دیتے رہے۔

آزادکشمیر میں عوامی حکومت کے قیام کی بات سب سے پہلے 1955ء میں کی گئی۔ پاکستان کے وزیراعظم حسین شہید سہروردی نے خطہ کشمیر میں جمہوری اداروں کی ضرورت محسوس کی۔ 1955ء میں کراچی میں کشمیر پر آل پارٹیز کانفرنس میں سردار ابراہیم نے پہلی مرتبہ قانون ساز اسمبلی کے قیام کا مطالبہ کیا۔ بعدازاں کانفرنس کے اعلامیہ میں بھی قانون ساز اسمبلی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ سہروردی نے آزادکشمیر میں اپنی سیاسی جماعت عوامی مسلم لیگ کی شاخ بھی قائم کی مگر اقتدار سے ان کی بے دخلی نے ان کی جماعت کے ساتھ ساتھ قانون ساز اسمبلی کے مجوزہ خاکے کو بھی تحلیل کر دیا۔ ریاست کی واحد سیاسی جماعت مسلم کانفرنس مختلف دھڑوں میں بٹی رہی۔ مقبوضہ کشمیر کے سیاسی کارکن میر واعظ محمد یوسف شاہ کے گرد جمع تھے جبکہ جموں سے تعلق رکھنے والے مہاجرین چوہدری غلام عباس کی صفوں میں تھے۔ آزادکشمیر کے باشندے قبیلائی اور علاقائی تقسیم کی وجہ سے سردار ابراہیم اور سردار عبدالقیوم کے گروپوں میں شامل ہوتے رہے۔

کشمیر کی سیاسی اور آئینی تاریخ کا دوسرا دور 1959ء سے 1970ء کے ادوار پر مشتمل ہے۔ یہ دور گذشتہ دور کے مقابلے میں اس لئے نسبتاً بہتر خیال کیا جاتا ہے کہ 1961ء میں پہلی مرتبہ آزادکشمیر کے عوام کو حکومت سازی بھی بالواسطہ شرکت کا موقع ملا۔ پاکستان میں اپوزیشن کے مارشل لاء کے بعد پاکستانی بیورو کریسی میں موجود اپنے طاقتور حمایتیوں کی وجہ سے کے ایچ خورشید نے صدر کا منصب سنبھالا۔ پاکستان میں بنیادی جمہوریت کے نظام کو آزادکشمیر تک توسیع دی گئی۔ مسلم کانفرنس کا بلاشرکت غیرے آزاد خطے پر حکمرانی کے دور کا خاتمہ ہوا۔ ایکٹ 1961ء کے تحت پہلی بار آزادکشمیر میں کوئی انتخابی عمل منعقد ہوا۔ آزادکشمیر کے براہ راست ووٹوں سے 1200 بی ڈی ممبرز کا چناؤ کیا گیا جبکہ مہاجرین مقیم پاکستان سے جموں اور وادی سے 1200 ممبران چنے گئے۔ ان 2400 ممبران نے 12 سٹیٹ کونسلرز کا انتخاب کیا۔ ساتھ ساتھ صدر کے الیکٹورل کالج کا کردار ادا کیا۔ اس انتخاب میں کے ایچ چورشید محض 28 ووٹوں کی معمولی اکثریت سے جیت سکے۔

کے ایچ خورشید کے دور حکومت میں پہلی دفعہ آزادکشمیر حکومت کو خودمختار اور بااختیار بنانے کا نعرہ بلند ہوا۔ مسلم کانفرنس نے اس نعرے کی شدید مخالفت کی اور جوابی نعرے کے طور پر کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ دیا۔ آنے والے دنوں میں یہی نعرہ اس کی سیاست کی بنیاد بنا۔ 1964ء میں آزاد کشمیر کے آئینی ڈھانچے میں تبدیلی کر کے مہاجرین مقیم پاکستان کی نشستوں کو ختم کر دیا گیا اور اسٹیٹ کونسلرز کی تعداد کو 12 سے 8 کر دیا گیا۔ اس ایکٹ میں نسبتاً بہتر جمہوری مزاج کے حامل 1961ء کی بہت ساری شقوں کو ختم کر کے صدارت کے عہدے کو اسٹیٹ کونسلرز کے انتخاب پر جوڑ دیا گیا۔ اس ایکٹ میں اسٹیٹ کونسلرز کے ارکان کے علاوہ باہر سے کسی بھی شخص کو صدارتی منصب پربٹھانے کا راستہ بھی رکھا گیا۔ اس نئے قانون کی سب سے غیرجمہوری اور آمرانہ شق آزاد حکومت کے چیف ایڈوائزر کو دیئے گئے بے پناہ اختیارات، جن میں آزادکشمیر کے صدر کی نامزدگی تک شامل تھی۔ وزارت امور کشمیر نے کے ایچ خورشید کی آزادانہ پالیسیوں سے خائف ہو کر انہیں اقتدار سے محروم کر کے آزاد حکومت کے چیف ایڈوائزر امان اللہ نیازی کے منظور نظر آزادکشمیر ہائیکورٹ کے چیف جسٹس خان عبدالحمید خان کو 1964ء میں آزادکشمیر کا صدر بنا دیا۔ وہ پہلے غیرسیاسی صدر تھے۔ سیاسی اختلافات کے باعث انہوں نے بغیر کابینہ کے ہی اپنا دور صدارت مکمل کیا۔ اس دور میں میرواعظ یوسف شاہ اور سردار ابراہیم خان نے مسلم کانفرنس سے سیاسی راستے جدا کرتے ہوئے آزاد مسلم کانفرنس قائم کی۔

جون 1967ء میں بنیادی جمہوریتوں کے الیکشن میں مسلم کانفرنس نے واضح برتری حاصل کر کے خان عبدالحمید خان کے لئے حکومت کرنا اور مشکل بنا دیا۔ خان عبدالحمید خان نے سیاسی مشکلات سے نکلنے کے لئے آئینی ڈھانچے میں تبدیلی کر کے ایکٹ 1968ء کا نفاذ کیا جو کہ ایکٹ 1964ء سے بھی زیادہ غیرجمہوری اور سیاسی حوالے سے ناقابل قبول تھا۔ اس میں آزادکشمیر کے 8 اسٹیٹ کونسلرز کے انتخاب کے علاوہ مہاجرین کے نمائندوں کی نامزدگی کا اختیار آزاد حکومت کے چیف ایڈوائزر کو دیا گیا۔ یوں 1961ء سے کشمیر میں قدرے جمہوری نطام کا آغاز ہوا تھا اسے غیرموثر اور بے اختیار کر کے چیف ایڈوائزر کو لامتناہی اختیارات دیدیئے گئے۔ آزادکشمیر کے تینوں بڑے سیاسی رہنماؤں سردار ابراہیم، سردار عبدالقیوم خان اور کے ایچ خورشید نے اس ایکٹ کو مسترد کرتے ہوئے احتجاجی تحریک شروع کر دی جو کہ اتحاد ثلاثہ کے نام سے مشہور ہوئی۔ 12 نومبر 1968ء کو خان عبدالحمید خان نئے ایکٹ کے تحت منعقدہ الیکشن کے نتیجے میں صدر بن گئے۔ سردار ابراہیم اور سردار عبدالقیوم خان نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔ پاکستان میں یحییٰ خان کے برسراقتدار آنے کے بعد آزادکشمیر میں جاری تحریک کے دباؤ کی وجہ 8 اکتوبر 1969ء کو بریگیڈیئر عبدالرحمان کو صدر بنایا گیا۔ ملک کے مخصوص حالات کی وجہ سے تینوں بڑی سیاسی جماعتوں نے ان کی نامزدگی کی توثیق کی نئے صدر نے ایکٹ 1968ء کی منسوخی اور عوامی خواہشات پر مشتمل قانون سازی کا وعدہ کیا۔

گذشتہ دو ادوار کی نسبت 1970ء کے بعد آزادکشمیر میں جمہوری اداروں کے قیام اور آئینی ڈھانچے کی تشکیل کے نظام میں خاطر خواہ پیشرفت ہوئی۔ آزادکشمیر کے عوام اور سیاسی جماعتوں کے مزاحمتی موڈ کو بھانپتے ہوئے مرکزی حکومت نے ان کی رائے اور مطالبات کے کچھ حصوں کو نئے ایکٹ 1970ء کا حصہ بنایا یہ آزادکشمیر کی تاریخ میں واحد ایکٹ تھا جس میں کشمیری باشندوں کی مشاورت اور عملی شرکت ممکن ہوئی۔ اس ایکٹ کی رو سے بالغ رائے دہی کی بنیاد پر صدارتی انتخابات ہونا قرار پائے۔ ایک آزاد قانون ساز اسمبلی نے اسٹیٹ کونسلرز کی جگہ لی اور سب سے بڑی بات کر وزارت امور کشمیر کے مسلط کردہ چیف ایڈوائزر کے عہدے کو ختم کر دیا گیا۔ قانون ساز اسمبلی 25 ممبران پر مشتمل تھی جن میں سے 16 آزادکشمیر 5 جموں اور 4 کشمیر کے مہاجرین کا براہ راست انتخاب ہوا جبکہ ایک خاتون ممبر کو ان اراکین نے منتخب کیا۔ اس قانون ساز اسمبلی کو قانون سازی کے اختیارات حاصل تھے جن میں سب سے بڑا اور اہم اختیار دو تہائی اکثریت سے ایکٹ 1970
میں تبدیلی بھی شامل تھی۔ اس شق نے ایکٹ 1970ء کو ماضی کے دیگر تمام آئینی انتظام کے مقابلے میں زیادہ جمہوری اور آزاد خطے کو بااختیار کردار عطا کیا۔ دوسری بات اس ایکٹ میں صدارتی نظام حکومت تجویز کیا گیا۔ صدر کو زیادہ اختیارات ملے اور اسمبلی کو دوتہائی اکثریت سے عدم اعتماد کا آئینی راستہ بھی رکھا گیا۔ سردار قیوم پہلے صدر منتخب ہوئے۔

پاکستان میں پیپلزپارٹی کے برسراقتدار آنے کے بعد شروع کے عرصے میں اسلام آباد مظفرآباد تعلقات مثبت خطوط پر آگے بڑھتے رہے مگر آزادکشمیر میں پیپلزپارٹی کے قیام نے سیاسی تلخیاں بڑھا دیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے نیا آئینی انتظام متعارف کروایا۔ یوں موجودہ ایکٹ 1974ء معرض وجود میں آیا۔ یہ کشمیر کی بدقسمتی تھی کہ جمہوری اور آئینی حوالے سے آگے بڑھنے کے بجائے رجعت کا سفر پھر شروع ہو گیا۔ ایکٹ 74 میں پارلیمانی نظام حکومت متعارف کروایا گیا مگر ساتھ ہی ایکٹ 1970ء میں دی گئی آزادیاں سلب کر کے اسلام آباد کو مزید بااختیار کر دیا گیا۔ کشمےر کونسل کا قیام پاکستان میں سینیٹ کے ادارے کو ذہن میں رکھ کر عمل میں آیا تھا مگر اسے مشاورتی فورم اور حکومت پاکستان کے ساتھ تعلقات کی نوعیت طے کرنے کے اختیارات کے بجائے قانون سازی کے اختیارات اور قانون ساز اسمبلی کی نسبت زیادہ خودمختار بلکہ ایک طرح سے اسمبلی کے قانون سازی کے اختیارات پر قدغن لگانے کا کام سونپا گیا۔ سردار ابراہیم سمیت دیگر منتخب عوامی نمائندوں کے پیپلزپارٹی میں شمولیت سے آزاد خطے میں اس کے اقتدار کی راہ ہموار ہو گئی۔ خان عبدالحمید خان صدارت کے بعد وزارت عظمیٰ کے منصب پر بھی فائز ہو گئے۔ ان کے بھائی مرکز میں وزارت داخلہ کے قلمدان کے مالک تھے جس نے انہیں سردار ابراہیم خان کی نسبت اسلام آباد کے لئے زیادہ پسندیدہ بنا دیا۔ 1977ء میں پاکستان میں مارشل لاء کے نفاذ کے بعد ضیاء الحق نے آزادکشمیر کو مارشل لاء کا زون سی قرار دیا اور عبوری آئین میں موجود سیکشن 56 کو پہلی مرتبہ استعمال کرتے ہوئے منتخب صدر سردار ابراہیم کو گھر بھیج دیا۔ بعدازاں انہوں نے سیکشن 53-A کو عبوری آئین کا حصہ بنایا۔ ان کے دور میں فوجی پس منظر کے حامل بریگیڈیئر عبدالرحمن اور حیات خان منصب اقتدار پر فائز رہے۔

اس سارے عرصے میں نہ تو مرکزی حکومت نے پیپلزپارٹی کے متعارف کر دہ عبوری آئین میں کسی قسم کی تبدیلی کی اور نہ ہی آزادکشمیر کی سیاسی قیادت نے ایکٹ 1970ء میں موجود آزادی اور بااختیار حکومت کا مطالبہ کیا۔ حالانکہ جنرل ضیاء الحق سردار عبدالقیوم خان کی ایم آر ڈی کی تحریک سے علیحدگی کی وجہ سے ان کے معترف تھے مگر ان کے ”مرشد” نے انہیں کسی نئے آئینی بندوبست کا مطالبہ نہیں کیا۔ 1985ء کے الیکشن کے بعد سوائے 1991ء میں ممتاز راٹھور کی حکومت کے خاتمے کے آج تک آزادکشمیر میں جمہوری عمل تسلسل سے جاری ہے۔ سیاسیات کشمیر 70 سال جہاں آئینی اور جمہوری ارتقاء سے عبارت ہیں وہیں پر پاکستان کی سیاسی اور حکومتی تبدیلیاں اس پر بالواسطہ اور بلاواسطہ اثرانداز ہوتی رہیں۔ پاکستان میں آج اقتدار میں عوامی شرکت اور منتخب نمائندوں کو بااختیار بنانے کے لئے آئینی اور انتظامی اصلاحات عوام، میڈیا اور حکومتی حلقوں میں زیربحث ہیں۔ حالیہ دنوں میں فاٹا میں سیاسی اصلاحات کے لئے آئینی و قانونی انتظام کی صدائے بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ اس تناظر میں اسلام آباد اور مظفرآباد کے درمیان تعلقات کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ایکٹ 1974ء جس نے منتخب قانون ساز اسمبلی کو عضو معطل بنا رکھا ہے۔ میں تبدیلی اور ریاست جموں و کشمیر کی حکومت کو مزید بااختیار بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں 1973ء کے آئین میں حالات کی ضرورت کے مطابق ترامیم کی گئیں مگر آزادکشمیر کے ایکٹ 1974ء کو مصلحتوں کے کڑے پہرے میں رکھا گیا۔ ابھرتے ہوئے نئے سیاسی اور معاشی حقائق گڈگورننس کے مقبول ہوتے نعرے کے تناظر میں اس بات کی ضرورت بلکہ سیاسیات کشمیر کے 70 برسوں کا منطقی اور غیرجذباتی جائزہ لے کر مستقبل کی راہیں متعین کی جائیں۔
———————————————

سید صفدر گردیزی پاکستان ٹیلی وژن کے پروڈیوسر حالات حاضرہ ہیں۔ ریسرچ ان کا خاص شعبہ ہے ۔ ان سے
safdargardezi@gmail.com پر رابطہ کیا جا سکتا ہے

آزادکشمیر کے 70 برسوں کا منطقی اور غیرجذباتی جائزہ ! سید صفدر گردیزی” ایک تبصرہ

  1. بہت اعلی۔
    بہ حثیت قانون و تاریخ کے طالب علم کے آپ کی یہ تحریر کہ جس میں آئینی پہلو کو سمیٹا گیا نہایت مفید ہے۔

تبصرے بند ہیں