پاکستان جی ! دوسری غلطی نہیں کرنا..ریاض مسرور

کشمیری بچوں کی زندگیاں تاریک کرنے والے چھروں یا پیلیٹ سے جو دردناک کہانیاں رقم ہوئی ہیں ان پر انسانی حقوق کے عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی گواہی دے دی ہے، بھارت کے غیرجانبدار لبرل دانشوروں کا ایک حلقہ بھی سینہ کوبی کررہا ہے ،امریکہ، برطانیہ ، ایران، ترکی اور کئی دیگر ممالک کے سفارتخانوں میں چھروں سے چھلنی کشمیری آنکھوں کی مکمل روداد زیر تجزیہ ہے، خود حریت کانفرنس کے ایک نوجوان کارکن منان بخاری نے آہنی چھروں کی سفاکی پر ایک عدد کتاب بھی لکھ ڈالی ہے اور مقامی اخبارات خصوصا روزنامہ گریٹر کشمیر نے پیلٹ ہاررعنوان سے جو سینکڑوں رپورٹس شایع کی ہیں ان کی پزیرائی میں نامہ نگار زہرالنسا کو عالمی اعزاز ملا جو انہیں امریکہ میں ہی عطا کیا گیا۔ ایسے میں اگر پاکستان نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں بھارت کے خلاف پوائنٹ سکور کرنے کے لئے راویہ ابوجوم نامی فلسطین کی 17سالہ لڑکی کے مضروب چہرے کی تصویر کو کشمیری متاثرین کا حوالہ دیا ہے تو یہ محض ایک غلطی نہیں بلکہ کشمیر کی تحریک کے ساتھ پاکستان کی تذویراتی وابستگی پر ایک برملا نوحہ ہے۔
یہ تصویر اعزاز یافتہ امریکی خاتون فوٹوگرافر ہیڈی لیوائن نے لی ہے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے یہ تصویر دکھا کر گو بھارت کا سب سے بڑا مسلہ حل کردیا۔ملیحہ نے تصویر کی نمائش کرکے دنیا کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ بھارت کشمیر میں ظلم کررہا ہے۔ بھارت کے زیرک اور پھرتیلے سفیروں نے اگلی ہی آن میں اس تصویر کی پول کھول دی اور بھارتی مندوب پاولونی ترپاٹھی نے کشمیری فوجی کیپٹین عمرفیاض کی تصویر کو لہرایا، اور کہا کہ کس طرح ایک نہتے فوجی کو شادی کی تقریب سے گھسیٹ کر باہر نکالا گیا اوربے دردی سے قتل کردیا۔
برسہابرس سے بھارت دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا رہا ہے کہ کشمیر کے حالات سے متعلق پاکستان کا واویلا محض پروپگنڈا ہے۔ اس کوشش میں بھارت نے اربوں روپے خرچ کئے ہیں، امریکہ کے لابنگ گروپس کی خدمات حاصل کی ہیں۔ ملیحہ لودھی نے ان دیرینہ کاوشوں کا جیسے ثمرہ بھارت کی جھولی میں ڈال دیا۔ ستم یہ ہی نہیںکہ ملیحہ نے غلط تصویر دکھا دی، ستم بالائے ستم یہ کہ راویہ ابوجوم کی یہ تصویر پاکستان کے چوک چوراہوں پر کشمیر کی تصویرکے طور پر طویل عرصے سے آویزان ہے، اسی تصویر کے نام پر ہمہ گیر چندہ مہمیں چلی ہیں، اربوں روپے کا سرمایہ کشمیر جہاد کے لئے جمع کیا گیا ہے۔
کشمیری پاکستان کو محسن ملک اورتحریک کا پشتی بان سمجھتے ہیں ۔اور پھر اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس میں ہر سال پاکستانی ایجنڈا میں کشمیر ہی سرفہرست ہوتا ہے۔ عام تاثر ہے کہ کشمیر پالیسی سے متعلق بھارت کو کشمیری پنڈت بریف کرتے ہیں، سوال یہ ہے کہ پاکستان کو کبھی ایسی بریفنگ کی ضرورت محسوس ہوئی؟ گزشتہ برس برہان وانی کی ہلاکت کے بعد جو طوفان یہاں برپا ہوا اس کے ردعمل میں اسوقت کے وزیراعظم نواز شریف نے دنیا کی آنکھیں کھولنے کے لئے نیم خواندہ سفیروں کا ایک جتھہ تشکیل دیا تھا۔ اس جتھے کا جو ہونا تھا سو ہوا، لیکن اس میں کوئی کشمیری نہیں تھا۔کشمیریوں کی تحریک کے مختلف مراحل پر فیصلہ سازی کا حق بحق اسٹیبلشمنٹ ہی محفوظ رہا ہے۔ بندوق کب اٹھا نی ہے، کب چھوڑنی ہے، کب لڑکوں کو نیپال کے راستے واپس بھیج کر یہاں کی ایجنسیوں کا چارہ بنانا ہے، کب عوامی تحریک برپا کرنی ہے، کب پیچھے ہٹنا ہے، کب مذاکرات کرنے ہیں ، کب کس لیڈر کو حریت کانفرنس کے کس گروپ میں جانا ہے اور کب واپس نکلنا ہے،کون الیکشن لڑسکتا ہے اور کون نہیں، یہ سب معاملات کشمیریوں کی مشاورت کے بغیر ہی طے ہوتے رہے ہیں۔ظاہر ہے جب روایت یہ رہی ہو تو اقوام متحدہ میں کیا کہنا ہے یا کون سی تصویر دکھانی ہے والے سوال پر بھی کیونکر کشمیریوں کو خاطر میں لایا جاتا۔
فی الوقت افواہ گرم ہے کہ دلی والے مذاکرات کے لئے آمادہ ہیں۔ ہوسکتا ہے این آئی اے کی لٹکتی تلوار کے سائے میں حریت والوں کو بات چیت کے لئے مدعو کیا جائے۔ اسی صورتحال کی تین ماہ قبل پیش گوئی کرتے ہوئے ان ہی سطور میںعرض کیا گیا تھا کہ ایسے مواقع کے لئے مناسب تیاری ضروری ہے۔ پاکستان سے بعض اطلاعات ملی ہیں کہ پاکستانی حکومت بھی حریت کانفرنس کو مذاکرات کے لئے مدعو کرنا چاہتی ہے۔ اگر دلی کے دعوت نامے سے قبل ایسا ہوا تو مذاکرات کے غبارے سے ہوا نکل جائے گی۔ کیونکہ بھارت حریت کانفرنس کو پاکستان جانے کی اجازت نہیں دے گا، اور پاکستان اسے ایک سفارتی پوائنٹ سمجھتے ہوئے بھارتی دعووں کی قلعی کھول دے گا۔ پاکستانی پالیسی ساز اپنے زعم میں اسے ایک بہترین حکمت عملی سمجھتے ہیں، لیکن ایسا ہوا تو بھارت مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کا الزام پاکستان کے سر ڈال دے گا۔ اور پھر عالمی سطح پر پروپگنڈا وار میں فی الوقت بھارت نے پاکستان کو پچھاڑ دیا ہے، یہ الگ بات ہے کہ پاکستان نے خود اپنے پاوں پر کلہاڑی ماری ہے۔ غلط تصویر دکھا کر ایک غلطی تو کی گئی، لیکن پاکستان جی! مذاکراتی عمل سے پہلے ہی اس میں کودنے کی دوسری غلطی نہیں کرنا، پلیز۔
بشکریہ ہفت روزہ نوائے جہلم سری نگر