آزاد کشمیر و گلگت بلتستان میں پاکستانی حکمران کشمیری قوم کو زبردستی پاکستانی بنا رہے ہیں لبریشن فرنٹ کی منڈھول میں یوم حق خود ارادیت ریلی

منڈھول… جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے زونل صدر ڈاکٹر توقیر گیلانی، نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر و گلگت

بلتستان میں پاکستانی حکمران کشمیری قوم کو زبردستی پاکستانی بنا رہے ہیںتفصیلات کے مطابق جموں

کشمیر لبریشن فرنٹ کے زیر اہتمام 13اگست 1948ء کو کشمیر پر منظور کیجانے والی اقوام متحدہ کی قرارداد

برائے غیر مشروط حق خودارادیت کی حمایت میں منڈھول میں یوم حق خود ارادیت ریلی اور کمانڈر امتیاز جنگی

شہید و شہداء کشمیر کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر منڈھول میں ایک زبردست ریلی نکالی گئی جس

کی قیادت زونل صدر ڈاکٹر توقیر گیلانی، ساجد صدیقی، منظور چشتی، طاہر بشیر ، اشفاق قمر، سردار

فیاض،طاہرہ توقیر، جلیل فرید،ملک شفیق، سردار ابراہیم خان، سردار انور خان اور سردار نزاکت سمیت سینئر

راہنمائوں نے کی۔ریلی کے شرکاء نے ریاست جموں کشمیر کی مکمل آزادی کے حق میں اور ریاست پر بیرونی

قبضے کے خلاف فلک شگاف نعرے بازی کی۔ریلی کے اختتام پر منڈھول سے تعلق رکھنے والے آزادی پسند

راہنما کمانڈر امتیاز جنگی شہید کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کیلئے ” کمانڈر امتیاز جنگی شہید و شہداء کشمیر

کانفرنس” کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس کی صدارت زونل نائب صدر سردار فیاض خان نے کی جبکہ مہمان خصوصی

زونل صدر ڈاکٹر توقیر گیلانی تھے۔کانفرنس کی نظامت کے فرائض یورپ زون سے آئے لبریشن فرنٹ کے سینئر

راہنما اشفاق قمر نے انجام دیئے۔ اس موقع پر ملک امتیاز شائق ایڈوکیٹ اور سردار یاسر علی نے لبریشن فرنٹ

میں شمولیت کا اعلان کیا۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لبریشن فرنٹ آزاد کشمیر گلگت بلتستان زون کے

صدر ڈاکٹر توقیر گیلانی نے کہا کہ کمانڈر امتیاز جنگی شہید اور شہداء کشمیر کی قربانیوں کے طفیل قومی

آزادی کی جدوجہد اپنی منزل کی طرف بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 13اگست 1948ء کو اقوام متحدہ نے

ریاست جموں کشمیر پر بھارت اور پاکستان کے قبضے کے خاتمے اور ریاست کے عوام کو اپنے مستقبل کا آزادانہ

طور پر فیصلہ کرنے کا حق دیا لیکن پاکستان کی مداخلت پر 5جنوری 1949ء کو ہمارے حق کو بھارت اور پاکستان

سے الحاق تک محدود کر کے اس حق کو عملاً ختم کر دیا گیا اور قومی آزادی کے مسئلے کو ایک علاقائی تنازعہ

بنا دیا گیا جس کو کشمیری قوم نے ہمیشہ مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بھارتی مقبوضہ کشمیر میں

بنیادی انسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کی پامالی عروج پر ہے اور بھارتی فوج نے ظلم و بربریت کا ایک بازار

گرم کر رکھا ہے جبکہ ریاست کے دوسرے حصے آزاد کشمیر و گلگت بلتستان میں پاکستانی حکمران کشمیری

قوم کو زبردستی پاکستانی بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حکمرانوں کے منافقانہ کردار کی بدولت

جہاں مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو رہا وہیں بھارتی ظلم و بربریت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ

پاکستانی حکمرانوں نے دوستی ، بھائی چارے اور اسلام کے نام پر ہمیشہ کشمیری عوام کی پیٹھ میں چھرا

گھونپا ہے اور جب بھی کشمیری بھارت کے خلاف بڑی تحریک چلاتے ہیں پاکستانی حکمران اور اسٹیبلشمنٹ

بھارت کو پاکستانی مداخلت کا جواز فراہم کر کے تحریک کی پیٹھ میں چھرا گھونپتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست

کی آزادی اور کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے حوالے سے پاکستانی سیاستدانوں اور پالیسی سازوں کی

سوچ راجہ فاروق حیدر کے ایک بیان کے بعد کھل کر سامنے آئی ہے اور پاکستانی سیاستدانوں نے جس گھٹیا

انداز میں کشمیریوں کی توہین کی اس سے پوری کشمیری قوم کی آنکھیں کھل گئی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ

بھارت اور پاکستان کو 13اگست 1948ء کی قرارداد کے مطابق ریاست سے نکلنا ہے اور یہاں ایک آزادانہ ریفرنڈم

کروانا ہے اس لیے دونوں ممالک کے حکمرانوں کو اٹوٹ انگ اور شہ رگ کے راگ الاپنے کے بجائے اپنی اپنی

فوجوں کے انخلاء کا ٹائم ٹیبل طے کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے حکمران مسلسل

ریاست کی آزادی کی مخالفت پر عمل پیرا ہیں اور جھوٹے پروپیگنڈے، سرکاری وسائل و مشینری کے استعمال،

پاکستانی سیاسی جماعتوں کی مداخلت اور تاریخ و نصاب کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو تباہ اور کشمیریوں کا

پاکستانی ثابت کرنے میں لگے ہیں جس سے کشمیری عوام کے دلوں میں پاکستانی حکمران طبقے کے خلاف

نفرت اور پاکستان سے دوریاں بڑھ رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ لبریشن فرنٹ بے سروسامانی کے عالم میں بھی

کشمیری قوم کے عزت و وقار اور عظمت رفتہ کی بحالی کی جدوجہد میں مصروف ہے اور ہم اسلام آباد کے

پالیسی سازوں پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہم انکی ہر سازش اور منافقت کو ہر صورت بے نقاب کرتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم کسی سے نفرت کی بنیاد پر خودمختار کشمیر کا مطالبہ نہیں کرتے اور نہ ہی بھارت اور

پاکستان میں سے کسی ملک کو توڑنا یا اس کا آئینی حصہ طلب کرنا چاہتے ہیں بلکہ ہم اپنے پیدائشی اور

تسلیم شدہ حق کی بات کرتے ہیں جس کو بھارت اور پاکستان کے بانیان سمیت اقوامِ متحدہ نے تسلیم کر رکھا

ہے اس لیے اسلام آباد کے حکمران ریاست کو مفتوحہ علاقہ اور ریاست کے عوام کو اپنے غلام سمجھنے سے

گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی ظلم و ستم پر آواز اٹھانے والے اسلام آباد کے منافق حکمرانوں کو اپنے زیر

قبضہ کشمیر میں بھی اپنے طرز عمل پر غور کرنا ہوگا۔ پاکستانی حکمران گلگت بلتستان کو ہڑپ کرنے کیلئے ہر

وقت اپنا منہ کھولے بیٹھے رہتے ہیں اور اپنے زیر قبضہ علاقوں میں کالے قوانین کے نام پر عام شہریوں اور

سیاسی کارکنان کو دہشت گرد اور غدار قرار دیکر جیلوں میں ڈالنے، پابندیاں لگانے اور غائب کرنے کا سلسلہ

جاری رکھا ہوا ہے جس کو ہم ہر صورت بے نقاب کرتے رہیں گے۔

انہوں نے نوجوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ نوجوان تبدیلی اور سماجی بہتری کے ایجنڈے کیلئے

پاکستانی سیاسی جماعتوں کا ساتھ دینے کی بجائے لبریشن فرنٹ کے ساتھ کھڑے ہو کر قومی تشخص اور

وقار کی بحالی میں ہمارا ساتھ دیں۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے برطانیہ زون کے سابق صدر ملک لطیف خان،

مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل ساجد صدیقی، مرکزی سیکریٹری فناس منظور چشتی، سردار انور خان، راجہ

طفیل، طاہرہ توقیر، جلیل فرید اور دیگر مقررین نے کہا کہ قائد تحریک امان اللہ خان نے ساری زندگی پاکستان کے

حکمرانوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ ریاست کی آزادی کی دشمنی چھوڑ کر ریاست کے لوگوں کے

فیصلے کی حمایت کریں تاکہ ریاست جموں کشمیر اور پاکستان کے درمیان دوستی اور بھاری چارے پر مبنی فضا

سے ریاست کی آزادی کی جدوجہد جلد پایہ تکمیل تک پہنچے لیکن افسوس کہ پاکستان کے حکمرانوں نے

ہمیشہ کشمیر دشمنی کا مظاہرہ کیا اور آج بھی پاکستانی حکمران اور اسٹیبلشمنٹ کشمیر دشمنی کی

پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ مقررین نے کہا کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یٰسین

ملک نے تمام تر سازشوں اور پاکستانی مداخلت کے باوجود مشترکہ مزاحمتی پلیٹ فارم تشکیل دیکر تحریک

آزادای میں نئی روح پھونکی لیکن پاکستان کے حکمرانوں نے اس تحریک کو ختم کروانے کیلئے پاکستانی

جھنڈوں کا کاروبار شروع کر دیا اور بھارت کو پاکستانی مداخلت کا جواز فراہم کر کے کشمیری عوام کی پرامن

تحریک کو طاقت کے بل پر کچلنے کا موقع فراہم کیا۔مقررین نے کہا کہ جھنڈے اور ڈنڈے سے ریاست پر قبضہ

برقرار رکھنے اور ریاست کے وسائل کی لوٹ مار جاری رکھنے کی بھارتی اور پاکستانی پالیسی وقتی طور پر

ریاست کی آزادی کی تحریک کو کمزور ضرور کر سکتی ہے لیکن آزادای کی ؤواز کو دبانا بھارت اور پاکستان کے

حکمرانوں کا خواب ی رہیگا اور ریاس جموں کشمیر کے عوام جلد یا بدیر آزادی ضرور حاصل کرینگے۔ مقررین نے

سیز فائر لائن پر دونوں ممالک کی افواج کی گولہ باری اور ریاست کے عوام کے قتل عام کی مذمت کرتے ہوئے

گولہ باری فوراً بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ مقررین نے آزاد کشمیر و گلگت بلتستان میں سوشل میڈیا پر پابندیاں

لگانے کے قونین کی زبردست مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے سامراجہ ہتھکنڈوں سے ظلم کے خلاف

اٹھنے والی آوازوں کو نہیں دبایا جا سکے گا اور پاکستانی حکمرانوں کو ریاست میں اس طرح کے غیر انسانی

قوانین اور ہتھکنڈوں کو نافذ کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔مقررین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہداء کے مشن پر

چلتے ہوئے 84471مربع میل پر مشتمل ریاست جموں کشمیر کی مکل آزادی کی جدوجہد کو ہر حال میں جاری

رکھا جائیگا۔اس موقع پر زونل نائب صدر سردار فیاض خان، زونل ڈپٹی سیکریٹری جنرل ایاز کریم، ضلعی صدر پونچھ

سردار ابراہیم خان، ضلعی صدر کوٹلی راجہ اشفاق، گلف زون کے سیکریٹری جنرل ملک شفیق، ایس ایم ابراہیم،

سلیم بٹ، اشفاق قمر، سردار ہارون خان، نعمان کشمیری، سردار افراز،واجد شمسی ایڈوکیٹ، خلیل قیصر

ایڈوکیٹ،سردار طاہر بشیر، امتیاز شائق ایڈوکیٹ ، ملک محمد ذولفقار، سردار نزاکت ،اوردیگر مقررین نے بھی

خطاب کیا۔