پاناما کیس: جے آئی ٹی رپورٹ کا والیم 10 کھول دیا گیا

پاناما جے آئی ٹی نے اپنی حتمی رپورٹ 10 جولائی کو سپریم کورٹ میں پیش کی تھی—۔اے ایف پی

اسلام آباد: شریف خاندان کے مالی اثاثوں کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی

ٹی) کیحتمی رپورٹ پر سپریم کورٹ میں پانچویں سماعت جاری ہے، اس موقع پر وزیراعظم کے بچوں کے

وکیل نے اپنے دلائل مکمل کرلیے۔

دوسری جانب سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی رپورٹ کے والیم نمبر 10 کو بھی عدالت میں کھول دیا اور اس کا

جائزہ لیا گیا۔

جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل

سپریم کورٹ کا 3 رکنی عمل درآمد بینچ مذکورہ کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

آج جب سماعت کا آغاز ہوا تو وزیراعظم کے بچوں حسن، حسین اور مریم نواز کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے اپنے

دلائل مکمل کرلیے۔

اس موقع پر جے آئی رپورٹ کا سربمہر والیم 10 عدالت میں پیش کیا گیا اور اس کی سیل کھول دی گئی۔

جسٹس عظمت سعید نے وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث کو مخاطب کرکے کہا کہ یہ والیم آپ کی درخواست پر

کھولا جارہا ہے۔

وکیل سلمان اکرم راجہ کا اپنے دلائل میں کہنا تھا کہ کل کی سماعت میں نیلسن اور نیسکول کے ٹرسٹ ڈیڈ پر

بات ہوئی تھی، عدالت کے ریمارکس تھے کہ بادی النظرمیں یہ جعلسازی کا کیس ہے اور اسی حوالے سے میں

نے کل کہا تھا کہ اس کی وضاحت ہوگی۔

جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیئے کہ یہ تو ہم بھی دیکھ سکتے ہیں کہ دستخط کیسے مختلف

ہیں، جس پر سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ایڈووکیٹ اکرم شیخ نے کل کہا کہ غلطی سے یہ صفحات لگ گئے

تھے، یہ صرف ایک کلریکل غلطی تھی، جو اکرم شیخ کے چیمبر سے ہوئی، کسی بھی صورت میں جعلی

دستاویز دینے کی نیت نہیں تھی اور ماہرین نے غلطی والی دستاویزات کا جائزہ لیا۔

جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ مسئلہ صرف فونٹ کا رہ گیا ہے۔

پاناما انکشاف

پاناما لیکس کے معاملے نے ملکی سیاست میں اُس وقت ہلچل مچائی، جب گذشتہ سال اپریل میں بیرون ملک

ٹیکس کے حوالے سے کام کرنے والی پاناما کی مشہور لا فرم موزیک فانسیکا کی افشا ہونے والی انتہائی خفیہ

دستاویزات سے پاکستان سمیت دنیا کی کئی طاقت ور اور سیاسی شخصیات کے ‘آف شور’ مالی معاملات عیاں

ہو گئے تھے۔

پاناما پیپرز کی جانب سے انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) کی ویب

سائٹ پر جاری ہونے والا یہ ڈیٹا ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات پر مشتمل ہے، جس میں روس کے صدر ولادی میر

پوٹن، سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان، آئس لینڈ کے وزیر اعظم، شامی صدر اور پاکستان کے وزیراعظم

نواز شریف سمیت درجنوں حکمرانوں کے نام شامل تھے۔

ویب سائٹ پر موجود ڈیٹا کے مطابق، پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے بچوں مریم، حسن اور حسین ’کئی

کمپنیوں کے مالکان ہیں یا پھر ان کی رقوم کی منتقلی کے مجاز تھے‘۔

موزیک فانسیکا کے نجی ڈیٹا بیس سے 2.6 ٹیرا بائٹس پر مشتمل عام ہونے والی ان معلومات کو امریکی

سفارتی مراسلوں سے بھی بڑا قرار دیا جا رہا ہے۔

ان انکشافات کے بعد اپوزیشن جماعتوں بالخصوص پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف

سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا اور بعدازاں اس حوالے سے سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا۔

سپریم کورٹ نے ان درخواستوں پر سماعت کے بعد رواں سال 20 اپریل کو وزیراعظم نواز شریف کے خلاف پاناما

کیس کی مزید تحقیقات کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے اعلیٰ افسر کی سربراہی

میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی تھی۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے جے آئی ٹی کو حکم دیا تھا کہ

وہ 60 روز کے اندر اس معاملے کی تحقیقات مکمل کر کے اپنی رپورٹ پیش کرے جس کی بنیاد پر حتمی فیصلہ

سنایا جائے گا۔

جے آئی ٹی نے 2 ماہ کی تحقیقات کے بعد رواں ماہ 10 جولائی کو سپریم کورٹ میں اپنی حتمی

رپورٹ جمع کروائی تھی، 10 جلدوں پر مشتمل اس رپورٹ میں وزیراعظم سمیت شریف خاندان پر کئی الزامات

لگاتے ہوئے مختلف شواہد سامنے لائے گئے تھے۔Courtesy Dawn

پاناما کیس: جے آئی ٹی رپورٹ کا والیم 10 کھول دیا گیا” ایک تبصرہ

تبصرے بند ہیں