سفید چھڑی کی ضرورت غیر مغدوروں کو ہے۔

وسعت اللہ خان
کچھ سہولتیں دینے کے لئے کسی قانون یا ڈنڈے کی بھی ضرورت نہیں صرف کامن سنس استعمال کرکے معذوروں کی زندگی بہتر ہوسکتی ہے۔مگر کیا کریں کہ کامن سنس بھی بہت مہنگی ہے۔مثلاً جب بھی سرکار کوئی فٹ پاتھ بناتی ہے تو ٹھیکیدار کو یہی تو کہنا ہے کہ بھائی فٹ پاتھ جہاں سے شروع اور جہاں پے ختم ہوتی ہے وہاں اینٹوں کو تھوڑا سا اور زمین میں دبا کے سلوپ سا بنا دو تاکہ وھیل چئیرز آسانی سے فٹ پاتھ پر چڑھ اتر سکیں۔ایسا کرنے سے فٹ پاتھ کے بجٹ میں ایک پائی کا بھی اضافہ نہیں ہوگا مگر وہیل چئیرز استعمال کرنے والوں کی نقل و حرکت آسان ہو جائے گی۔لیکن اس طرح سے سوچے کون ؟ کسی بھی صوبے یا شہر کی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو بس یہی تو کہنا ہے کہ جب بھی کوئی پبلک یا کمرشل عمارت بنائی جائے تو بیرونی سیڑھیوں کے برابر میں یا سیڑھیوں کے درمیان ایک سلوپ بھی بنا دیا جائے تاکہ معذور افراد آسانی سے بلڈنگ کے اندر آ جا سکیں۔
اگر آپ نے چار واش روم نارمل لوگوں کے استعمال کے لئے بنائے ہیں تو پانچواں خصوصی افراد کی ضروریات کے حساب سے بھی بنا دیں۔یہ سہولت دینے میں آخر کتنے اضافی پیسے لگیں گے۔اگر کسی کثیر منزلہ عمارت میں لفٹ نہیں تو بجائے یہ کہ نابینا یا چلنے پھرنے سے معذور یا بیمار شہری اوپری منزلوں تک آنے جانے کے لئے کسی مددگار کو تلاش کرتے پھریں کیوں نہ گراؤنڈ فلور پر ہی ایک اہلکار بٹھا دیا جائے جو انکے دستاویزی و دیگر مسائل حل کر دے اور معذور افراد کو اوپر جانے کا مشورہ دینے کے بجائے ان کی فائلیں اوپر بھیج دے۔اس انتظام میں ادارے کے کتنے اضافی پیسے خرچ ہوجائیں گے ؟ کیا بسوں اور ٹرینوں میں معذور افراد کے لئے چند سیٹیں خالی رکھنے سے کمپنی یا ادارے پر بہت بڑا مالی بوجھ پڑ جائے گا ؟ کیا پارکنگ لاٹ میں ایک سیکشن معذوروں کی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے لئے مخصوص کرنے سے پارکنگ لاٹ کا منتظم دیوالیہ ہو جائے گا ؟ شناختی کارڈ ہر پاکستانی کا حق ہے اور کہنے کو پاکستان میں معذوروں کی آبادی ڈھائی فیصد کے لگ بھگ ہے۔
شناختی کارڈ کے بغیر کوئی سفری و غیر سفری دستاویز نہیں بن سکتی ، تصدیق نہیں ہو سکتی ، بینک اکاؤنٹ نہیں کھل سکتا ، موبائل سم جاری نہیں ہوسکتی۔جائداد خریدی بیچی نہیں جاسکتی ، کرائے پر دی اور لی نہیں جاسکتی۔اس تناظر میں صرف ایک فیصد سے بھی کم شناختی کارڈ اگر معذوروں کو جاری ہوں تو سوچئے ان کے پہلے سے موجود مسائل میں کتنے گنا اضافہ ہو جائے گا۔ لیکن معاملہ صرف شناختی کارڈ تک ہی تھوڑا ہے۔ہر سرکار اپنے جوہر میں لکیر کی فقیر ہوتی ہے لہذا اسے معذوروں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے لئے کوئی ٹھوس کاغذی ثبوت درکار ہوتا ہے۔وھیل چیئر پر بیٹھا یا بیساکھی ٹیکتا یا سفید چھڑی ہلاتا شخص سرکار کو تب تک دکھائی نہیں دیتا جب تک اس شخص کے ہاتھ میں ڈسٹرکٹ اسیسمنٹ بورڈ کا جاری کردہ سرٹیفکیٹ نہ ہو کہ یہ شخص درحقیقت معذور ہے ( کوئی بہروپیا نہیں ) اور رعایتی تعلیمی سہولتوں یا روزگاری کوٹے کا مستحق ہے۔
اگر اسے کسی اسپتال میں رعائتی علاج کرانا ہو تو صرف اسیسمنٹ بورڈ کا سرٹیفکیٹ کافی نہیں جب تک متعلقہ اسپتال کا سرجن یہ نہ لکھ دے کہ یہ شخص واقعی معذور ہے ( کوئی اداکار نہیں )۔مگر آپ کسی بھی شہری سے پوچھ لیں بھائی یہ ڈسٹرکٹ اسیسمنٹ بورڈ کہاں بیٹھتا ہے ؟ کوئی ٹھیک سے بتا دے تو میرا یہ قلم آپ کا۔نتیجہ یہ ہے کہ عام لوگ تو خیر روزمرہ مسائل کے حل کے لئے جوتیاں چٹخاتے ہی ہیں مگر معذور متعلقہ سرٹیفکیٹ کے حصول کے لئے یہاں سے وہاں تک سفید چھڑی اور بیساکھی گھس لیتے ہیں۔ نتیجہ کیا ہے ؟ اس وقت پاکستان میں اگر سو معذور افراد ہیں تو ان میں سے صرف چودہ کوئی کام کاج یا روزگار کر رہے ہیں۔باقی اپنی روزمرہ زندگی کے لئے یا تو خاندان کے دستِ نگر ہیں یا پھر بھیک مانگنے سمیت ہر وہ کام کرنے پر مجبور ہیں جو عزتِ نفس کو کرچی کرچی کر کے سرمہ بنا دے۔
صرف دو فیصد معذور بچوں کی خصوصی تعلیمی اداروں تک اور باقی دو فیصد کی عمومی تعلیمی اداروں تک رسائی ہے۔باقی چھیانوے فیصد کا اللہ حافظ ہے۔گھر والے بھی معذور بچے کو کسی عام اسکول میں داخل کرنے سے ہچکچاتے ہیں کیونکہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ کہیں تضحیک کا نشانہ نہ بن جائے۔خود اسکول کی انتظامیہ بھی ایسے بچوں کے داخلے کے لئے زیادہ پرجوش نہیں ہوتی۔والدین کو پہلا مشورہ یہ دیا جاتا ہے کہ آپ اسے کسی اسپیشل اسکول میں کیوں نہیں داخل کراتے۔حالانکہ دیکھا یہی گیا ہے کہ ایسے بچے عام بچوں کے مقابلے میں زیادہ محنت کرتے ہیں اور زیادہ اچھے نمبر لاتے ہیں۔ اور جب یہ معذور تنگ آمد بجنگ آمد اپنے ان حقوق کے لئے کوئی مظاہرہ کرتے ہیں کہ جن کا وعدہ حکومت نے کیا تھا تو کوئی ان کی بات ہمدردی سے سننے کے لئے اپنے دو منٹ ضائع کرنا بھی پسند نہیں کرتا۔
اس ناالتفاتی پر معذور زیادہ برہم ہوجائیں تو پولیس کے ڈنڈے نابیناؤں کے سر اور وہیل چیئرزپر پڑتے ہیں۔ البتہ ہر حکمران معذوروں کے عالمی دن ( تین دسمبر ) پر ایک قومی پیغام خوشی خوشی جاری کر دیتا ہے اور یہ حوالہ دینا بھی نہیں بھولتا کہ ریاستِ پاکستان اقوامِ متحدہ کے عالمی کنونشن برائے معذوران کی دستخطی ہونے کے ناتے اپنے خصوصی شہریوں کی ہر ممکن مدد کر رہی ہے۔یہ پیغام اس ریاست کو چلانے والے جاری کرتے ہیں جہاں آج تک یہی آفیشل ڈیٹا نہیں بن سکا کہ اس ملک میں کتنے لوگ کس کس طرح کی معذوری میں مبتلا ہیں۔ تو کیا یہ کہنا زیادتی ہوگی کہ سفید چھڑی کی ضرورت کسی نابینا سے زیادہ ریاست کو ہے۔