فلسطین کی خونین تاریخ، آزادی کا وقت آن پڑا

تحریر و تزئین
جاوید عباس رضوی

فلسطین دنیا کے قدیم ترین ممالک میں سے ایک ہے، یہ اس علاقہ کا نام ہے جو لبنان اور مصر کے درمیان تھا جس کے بیشتر حصے پر

اب اسرائیلی صیہونیت کا تسلط قائم ہے، 1948ء سے پہلے یہ تمام علاقہ فلسطین کہلاتا تھا۔ جو خلافت عثمانیہ میں قائم رہا مگر بعد

میں انگریزوں اور فرانسیسیوں نے اس پر قبضہ کر لیا، 1948ء سے پہلے یہ تمام علاقہ فلسطین کہلاتا تھا۔ جو خلافت عثمانیہ میں قائم رہا

مگر بعد میں انگریزوں اور فرانسیسیوں نے اس پر قبضہ کر لیا۔ 1948ء میں فلسطین کے بیشتر علاقے پر اسرائیلی ناجائز ریاست قائم کی

گئی۔

اس کا دارالحکومت بیت المقدس تھا جس پر 7 جون 1967ء میں اسرائیل نے قبضہ کر لیا جو امت مسلمہ کی غفلتوں اور آپسی نااتفاقی

کے باعث تاحال جاری ہے۔ بیت المقدس کو اسرائیلی یروشلم کہتے ہیں۔ اس شہر کا موجودہ نام ”یروشلم” حضرت داؤد علیہ السلام نے

رکھا تھا۔ بیت المقدس یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں تینوں کے نزدیک مقدس ہے۔ مسلمانوں کے قبلہ اول ہونے کی حیثیت سے بیت

المقدس کو تمام مسلمانوں کے درمیان خاصی اہمیت حاصل ہے۔ حضرت اسحاق علیہ السلام، حضرت یعقوب علیہ السلام، حضرت یوسف

علیہ السلام، حضرت داؤدعلیہ السلام،حضرت سلیمان علیہ السلام، حضرت یحییٰ علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت

عیسیٰ علیہ السلام اور بہت سے دیگر پیغمبر اسی سرزمین میں پیدا ہوئے یا باہر سے آ کر یہاں آباد ہوئے۔ اسی مناسبت سے یہ خطہ

زمین پیغمبروں کی سرزمین کہلایا۔معراج النبی (ص) کے حوالے سے قرآن کریم کی آیت میں ارشاد ہواہے کہ ” پاک ہے وہ ذات جو لے گئی

اپنے بندے کو راتوں رات مسجدحرام سے مسجد اقصٰی تک، وہی مسجد کہ جس کے ارد گرد کو ہم نے با برکت بنایا ہے، تاکہ ہم اسے

اپنی نشانیاں دکھائیں، بے شک وہ ذات خوب سننے والی اور دیکھنے والی ہے”۔(الاسرائ۔١)

قدیم تاریخ کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بھتیجے لوط علیہ السلام نے عراق

سے بیت المقدس کی طرف ہجرت کی تھی۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے وحی الٰہی کے مطابق بیت المقدس (مسجد اقصٰی) کی بنیاد

ڈالی اور اس کی وجہ سے بیت المقدس آباد ہوا۔ پھر عرصہ دراز کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام کے حکم سے مسجد اور شہر کی

تعمیر وتجدید کی گئی۔ اس لئے یہودی مسجد بیت المقدس کو ہیکل سلیمانی کہتے ہیں۔ ہیکل سلیمانی اور بیت المقدس کو 586 ق م

میں شاہ بابل (عراق) بخت نصر نے مسمار کر دیا تھا اور ایک لاکھ یہودیوں کو غلام بنا کر اپنے ساتھ عراق لے گیا۔ تاریخ کے مطابق بیت

المقدس کے اس دور بربادی میں حضرت عزیر علیہ السلام کا وہاں سے گزر ہوا، انہوں نے اس شہر کو ویران پایا تو تعجب ظاہر کیا کہ کیا یہ

شہر پھر کبھی آباد ہوگا۔؟ اس پر اللہ نے انہیں موت دے دی اور جب وہ سو سال بعد اٹھائے گئے تو یہ دیکھ کر حیران ہوئے کہ بیت المقدس

پھر آباد اور پر رونق شہر بن چکا تھا۔بخت نصر کے بعد 539 ق م میں شہنشاہ فارس روش کبیر (سائرس اعظم)نے بابل فتح کر کے بنی

اسرائیل کو فلسطین واپس جانے کی اجازت دے دی۔ یہودی حکمران ہیرود اعظم کے زمانے میں یہودیوں نے بیت المقدس شہر اور ہیکل

سلیمانی پھر تعمیر کر لیے۔ یروشلم پر دوسری تباہی رومیوں کے دور میں ہوئی۔ رومی جرنیل ٹائٹس نے 70ء میں یروشلم اور ہیکل

سلیمانی دونوں مسمار کر دیے۔137 ق م میں رومی شہنشاہ ہیڈرین نے شوریدہ سر یہودیوں کو بیت المقدس اور فلسطین سے جلا

وطن کر دیا۔ چوتھی صدی عیسوی میں رومیوں نے عیسائیت قبول کرلی اور بیت المقدس میں گرجے وغیرہ تعمیر کیے۔ نبی کریم صلی

اللہ علیہ و آلہ وسلم معراج کو جاتے ہوئے بیت المقدس پہنچے، 2ھ بمطابق 624ء تک بیت المقدس ہی مسلمانوں کا قبلہ تھا، حتی کہ

حکم الٰہی کے مطابق کعبہ (مکہ مکرمہ) کو قبلہ قرار دیا گیا۔ 17ھ یعنی 639ء میں عہد فاروقی میں عیسائیوں سے ایک معاہدے کے تحت

بیت المقدس پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا۔ خلیفہ عبد الملک کے عہد میں یہاں مسجد اقصٰی کی تعمیر عمل میں آئی اور صخرہ معراج پر

قبةالصخرہ بنایا گیا۔ 1099ء میں پہلی صلیبی جنگ کے موقع پر یورپی صلیبیوں نے بیت المقدس پر قبضہ کر کے 70ہزار مسلمانوں کو

شہید کر دیا۔ 88 سال کے بعد 1187ء میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کو عیسائیوں کے قبضے سے چھڑایا۔

جدید تاریخ اور یہودی قبضہ:

پہلی جنگ عظیم دسمبر 1917ء کے دوران انگریزوں نے بیت المقدس اور فلسطین پر قبضہ کر کے یہودیوں کو آباد ہونے کی عام اجازت دے

دی۔ یہود و نصاریٰ کی سازش کے تحت نومبر 1947ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دھاندلی سے کام لیتے ہوئے فلسطین

عربوں اور یہودیوں میں تقسیم کر دیا اور جب 14 مئی 1948ء کو یہودیوں نے اسرائیل کے قیام کا اعلان کر دیا تو پہلی عرب اسرائیل جنگ

چھڑ گئی۔ اس کے جنگ کے نتیجے میں اسرائیل فلسطین کے 78 فیصد رقبے پر قابض ہوگیا، تاہم مشرقی یروشلم (بیت المقدس) اور

غرب اردن کے علاقے اردن کے قبضے میں آگئے۔ جون 1967ء میں تیسری عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیلیوں نے بقیہ فلسطین اور بیت

المقدس پر بھی تسلط جما لیا۔ یہودیوں کے بقول 70 ء کی تباہی سے ہیکل سلیمانی کی ایک دیوار کا کچھ حصہ بچا ہوا ہے جہاں دو ہزار

سال سے یہودی زائرین آ کر رویا کرتے تھے اسی لییاسے “دیوار گریہ” کہا جاتا ہے۔ اب یہودی مسجد اقصٰی کو گرا کو ہیکل تعمیر کرنے کے

منصوبے بناتے رہتے ہیں۔ اسرائیل نے بیت المقدس کو اپنا دارالحکومت بھی بنا رکھا ہے۔فلسطین کی مقدس سرزمین پر غاصب یہودیوں

کی نقل مکانی 17 ویں صدی کے اواخر میں شروع ہو گئی۔ 1930ء تک نازی جرمنی کے یہودیوں پر مظالم کی وجہ سے اس میں بہت

اضافہ ہو گیا۔ 1920ئ، 1921 ء ، 1929ء اور 1936 ء میں عربوں کی طرف سے یہودیوں کی نقل مکانی اور مسلمانوں کے اِس علاقے میں

آمد کے خلاف پرتشدد مظاہرے ہوئے لیکن یہ سلسلہ جاری رہا۔1947ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد کے ذریعہ

فلسطین کو تقسیم کر کے ایک عرب اور ایک اسرائیلی ریاست قائم کرنے کا اعلان کر دیا۔ برطانیہ نے اس علاقے سے 1948ء میں اپنی

افواج واپس بلالیں اور 14 مئی 1948ء کو اسرائیل کی آزاد حکومت کے قیام کا اعلان کر دیا گیا۔ جو فلسطینی ریاست کے لئے بہت زیادہ

نقصان دہ ثابت ہوا۔ عربوں نے تقسیم کو نامنظور کر دیا اور مصر، اردن، شام، لبنان، عراق اور سعودی عرب نے نئی اسرائیلی ریاست پر

حملہ کر دیا، تاہم وہ اسے ختم کرنے میں ناکام رہے۔ بلکہ اس حملے کی وجہ سے یہودی ریاست کے رقبے میں اور اضافہ ہو گیا۔

1948ء میں ناجائز اسرائیل کے قیام کے ساتھ ہی عرب اور اسرائیلی میں پہلی بار ایک دوسرے سے ٹکرائے اور اس ٹکراؤ کو ”عرب اسرائیل

جنگ 1948ئ”کا نام دیا گیا جبکہ اسرائیلی اسے “جنگ آزادی” کہتے ہیں۔ اسرائیل نے فلسطین پر قابض ہوتے ہی علاقے کی عرب اقلیت

پر ظلم کے پہاڑ توڑ ڈالے جس کی وجہ سے فلسطینی عربوں کو مجبوراً اپنا وطن چھوڑنا پڑا۔ 14 اور 15 مئی 1948ء کی درمیانی شب 12

بجے یہودیوں نے تل ابیب میں ریاست اسرائیل کے قیام کا اعلان کردیا۔عربوں نے اس ریاست کو تسلیم کرنے سیانکار کردیا اور مصر، شام،

اردن، لبنان اور عراق کی افواج نے اسرائیل پر حملہ کردیا۔ اسی وقت 7 لاکھ فلسطینی اپنے علاقوں کو چھوڑ کر لبنان، اردن، مصر اورغرب

اردن کے علاقوں کے پناہ گزین کیمپوں کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔1949ء میں اسرائیل نے عربوں کے ساتھ الگ الگ صلح کے

معاہدے کئے اس کے بعد اردن نے غرب اردن کے علاقے پر قبضہ کر لیا، جب کہ مصر نے غزہ کی پٹی اپنی تحویل میں لے لی۔ تاہم ان

دونوں عرب ممالک نے فلسطینیوں کواٹانومی سے محروم رکھا۔29 اکتوبر 1958ء کو اسرائیل نے صحرائے سینا پر حملہ کر کے اسے مصر

سے چھین لیا۔ اس حملے میں برطانیہ اور فرانس کی حکومتوں نے اسرائیل کا ساتھ دیا۔ 6 نومبرکو جنگ بندی عمل میں آئی۔ عربوں اور

اسرائیل کے درمیان ایک عارضی صلح کا معاہدہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہوا جو 19مئی 1967ء تک قائم رہا جب مصر کے مطالبے پر

اقوام متحدہ کے فوجی دستے واپس بلالئے گئے۔ مصری افواج نے غزہ کی پٹی پر قبضہ کر لیا اور خلیج عقبہ میں اسرائیلی جہازوں کی

آمد و رفت پر پابندی لگا دی۔ اس کے بعد سے اسرائیل اور عرب ممالک کے مابین مزید جنگیں ہوئیں جن کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسرائیل

مسلسل اپنی سرحدوں اور ناپاک عزائم کو پھیلاتا چلا گیا۔

5جون 1967ء کو چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ شروع ہو گئی۔ اسرائیلیوں نے غزہ کی پٹی کے علاوہ صحرائے سینا پر قبضہ کر لیا۔ اس کے

علاوہ انہوں نے مشرقی یروشلم کا علاقہ، شام کی گولان کی پہاڑیاں اور غرب اردن کا علاقہ بھی اپنے قبضہ میں کر لیا۔ 10 جون کو اقوام

متحدہ نے جنگ بندی کرا دی اور معاہدے پر دستخط ہوگئے۔6 اکتوبر 1973ء کو یہودیوں کے مقدس دن ”یوم کپور” کے موقع پر مصر اور شام

نے اسرائیل پر حملہ کر دیا۔ اسرائیل نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے شامیوں کو پسپائی پر مجبور کر دیا اور نہر سویزعبور کر کے مصر پر

حملہ آور ہو گیا۔ 24 اکتوبر 1973ء کو جنگ بندی عمل میں آئی اور اقوام متحدہ کی امن فوج نے چارج سنبھال لیا۔ 18 جنوری 1974ء کو

اسرائیل نہر سویز کے مغربی کنارے سے واپس چلا گیا۔ 3جولائی 1976ء کو اسرائیلی دستوں نے یوگنڈا میں انٹی بی (Entebe) کے ہوائی

اڈے پر یلغار کر کے 103 یرغمالیوں کو آزاد کرا لیا جنہیں عرب اور جرمن شدت پسندوں نے اغواء کر لیا تھا۔نومبر 1977ء میں مصر کے صدر

انور السادات نے اسرائیل کا دورہ کیا اور 26 مارچ 1979ء کو مصر اور اسرائیل نے ایک امن معاہدے پر دستخط کر کے 30 سالہ جنگ کا خاتمہ

کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی دونوں ممالک میں سفارتی تعلقات قائم ہو گئے۔ (تین سال بعد 1982ء میں اسرائیل نے مصر کو صحرائے سینا کا

علاقہ واپس کر دیا)جولائی 1980ء میں اسرائیل نے مشرقی یروشلم سمیت پورے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قراردیدیا۔ 7 جون

1981ء کو اسرائیلی جیٹ جہازوں نے بغداد کے قریب عراق کا ایک ایٹمی ری ایکٹر تباہ کر دیا۔ 6 جون 1982ء کو اسرائیلی فوج نے پی ایل او

(تنظیم آزادی فلسطین) کی مرکزیت کو تباہ کرنے کے لئے لبنان پر حملہ کر دیا۔ مغربی بیروت پر اسرائیل کی تباہ کن بمباری کے بعد پی

ایل او نے شہر کو خالی کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ اسی سال 14 ستمبر کو لبنان کے نومنتخب صدر بشیر جمائل کو قتل کر دیا گیا۔

16ستمبر 1982ء لبنان کے عیسائی شدت پسندوں نے اسرائیل کی مدد سے دو مہاجر کیمپوں میں گھس کر سینکڑوں فلسطینیوں کو

ہلاک کر دیا۔ اس سفاکانہ کارروائی پر اسرائیل کو دنیا بھر میں شدید مذمت کا نشانہ بننا پڑا۔1989ء میں انتفادہ کے زیر اہتمام فلسطینی

حریت پسندوں نے زبردست عسکری کارروائیوں کا آغاز کیا۔ 1991ء کے آغاز میں جنگ خلیج کے دوران عراق نے اسرائیل کو کئی سکڈ

میزائلوں کا نشانہ بنایا۔

6 روزہ جنگ جسے عرب اسرائیل جنگ 1967ئ، تیسری عرب اسرائیل جنگ بھی کہا جاتا ہے مصر، عراق، اردن اور شام کے اتحاد اور

اسرائیل کے درمیان لڑی گئی جس میں اسرائیل نے فیصلہ کن کامیابی حاصل کی۔اسرائیل نے جو جنگ کے لئے پوری طرح تیار تھا اور

جس کو امریکہ کی امداد پر بجا طور پر بھروسا تھا مصر کی کمزوری کا اندازا کرکے جون 1967ء کے پہلے ہفتے میں بغیر کسی اعلان جنگ

کے اچانک مصر پر حملہ کردیا اور مصر کا بیشتر فضائی بیڑا ایک ہی حملے میں تباہ کردیا۔ مصر کی فوج کا بڑا حصہ یمن میں تھا جسے

بروقت بلانا نا ممکن تھا نتیجہ یہ ہوا کہ 6 دن کی مختصر مدت میں اسرائیل نے نہ صرف باقی فلسطین سے مصر اور اردن کو نکال باہر کیا

بلکہ شام میں جولان کے پہاڑی علاقے اور مصر کے پورے جزیرہ نمائے سینا پر بھی قبضہ کرلیا اور مغربی بیت المقدس پر بھی اسرائیلی

افواج کا قبضہ ہوگیا۔اس مختصر جنگ میں عرب افواج کے 21 ہزار فوجی ہلاک، 45 ہزار زخمی اور 6 ہزار قیدی بنالئے گئے جبکہ اندازا 400

سے زائد طیارے تباہ ہوئے۔جبکہ اس کے مقابلے میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل کے 779 فوجی مارے گئے جبکہ 2563

زخمی اور 15 قیدی بنالئے گئے۔قابل ذکر ہے کہ جون 1967ء کی جنگ میں شکست کے نتیجے میں غزہ اور جزیرہ نمائے سینا کا 24 ہزار

مربع میل (ایک لاکھ 8 ہزار مربع کلومیٹر) کا علاقہ اسرائیل کے قبضے میں آگیا، نہر سوئز بند ہوگئی اور مصر جزیرہ نمائے سینا کے تیل کے

چشموں سے محروم ہوگیا۔ نومبر1988ء میں فلسطینی نوجوانوں کی طرف سے شروع کردہ اسزائیلی قبضے کے خلاف مزاحمتی مہم

“پہلی انتفادہ” کے دور میں تنظیم آزادی فلسطین( PLO )کے قائد یاسرعرفات نے فلسطینی ریاست کی آزادی کا اعلان کیا تھا تاہم اس

کی سرحدوں کا تعین نہیں ہوا تھا۔ واضح رہے کہ جب 1967ء میں اسرائیل نے بیت المقدس پر قبضہ کر لیا تو عالمی صیہونی تنظیم نے

مسجد اقصیٰ کی جگہ ہیکل تعمیر کرنے کیلئے خصوصی فنڈ کا اجراء کیااور مختصر مدت میں بیس کروڑ ڈالر جمع کئے گئے۔بیت المقدس

پہ یہودی قبضہ کے ساتھ ہی مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔حرم شریف میں یہودیوں کے اجتماع ہونے لگے۔

مسجد اقصیٰ کے دروازے یہودیوں کے لئے کھولے گئے، وہ اپنے کتوں کو ساتھ لے کرمسجد اقصیٰ میں جوتوں سمیت گھومتے ہیں، اسی

طرح اگر فلسطینیوںپرکئے گئے اسرائیلی مظالم کی بات کی جائے تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ہمیشہ نہتے فلسطینوں پہ ظلم و ستم کے

پہاڑ ڈھائے گئے ان کاجانی ،مالی،اقتصادی استحصال کیا گیااسرائیلی یہودی انتہا پسندوں کی درندگی اس حد تک جا پہنچی کہ معصوم

فلسطینی بوڑھوں اور بچوں یہاں تک کہ خواتین کو بھی نہیں بخشا جارہا ہے۔

فلسطین مقدس سرزمین:

فلسطین مسلم ممالک کے قلب میں واقع ہے۔ فلسطین میں بیت المقدس (قبلہ اول) آباد ہونی کی وجہ سے اسے خصوصی درجہ حاصل

ہے۔ اس کو اللہ تعالٰی نے خصوصی متبرک مقام عطا کر رکھا ہے۔ فلسطین ایک مقدس سرزمین ہے۔ یہ مسلمانوں کا قبلہ اوّل ہے اور

پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہیں سے آسمانوں پر لے جایا گیا تھا۔ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام

کی جائے پیدائش ہے۔ یہاں ہزاروں انبیاء علیہم السلام، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آسودۂ خاک ہیں۔ فلسطین انبیاء کرام کی

سرزمین ہے۔ فلسطین فلسطینی عوام کی سرزمین ہے۔ فلسطین ایک ایسی سرزمین ہے جس پر ایک نسل پرست، انسانیت دشمن

اور کالونیل صہیونی منصوبے نے غاصبانہ و ناجائزقبضہ کر لیا ہے۔ فلسطین مزاحمت کی علامت ہے۔ مسلمانوں کی سربلندی و آزمائش

کی سرزمین ہے۔ فلسطین کسی بھی خاص گروہ، جماعت، عرب و عجم یا تنظیم سے وابستہ نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق تمام

مسلمانوں سے ہے۔ فلسطین مسلمانوں کے اہم ترین ایشوز میں شامل ہے، فلسطینیوں کو اپنی سرزمین پر خودداری،قومی آزادی اور

اس زمین ،گھر اور ملکیتوں پرانکی واپسی کا مکمل حق ہے کہ جہاں سے صیہونی دہشت گردوں نے انہیں زبردستی بے دخل کر دیا ہے۔۔

مسلمانوں کے قبلہ اول ہونے کی حیثیت سے بیت المقدس کو تمام مسلمانوں کے درمیان بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔افسوس یہی ہے

کہ سات دہائیاں ہونے کو ہیں عالم اسلام کا قبلہ اول اور انبیاء کی سرزمین یہودی نرغے میں ہے اور مسلمانان عالم اپنے پہلے قبلہ پر

صہیونی تسلط پر بے بس نظر آرہے ہیں۔

فلسطین کی آزادی کی امید ”یوم القدس”:

آج عالم اسلام پہلے کی نسبت ہر لحاظ سے قوی، مضبوط اور سامراجی طاقتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی بھر پور

صلاحیت رکھتا ہے، مسلمانوں کی جدوجہد، کاوشوں اور آپسی اخوت و ہمدلی سے ہی مسئلہ فلسطین حل ہوسکتا ہے۔ مسلمانوں کے

اتحاد و اتفاق سے ہی اسرائیل کی خونخوار ، ظالم و جابر حکومت صفحہ ہستی سے محو ہوسکتی ہے اور فلسطینی قوم کو اسرائیل

کی خونخوار اور ظالم حکومت سے نجات مل سکتی ہے۔ اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے تمام مسلمانوں کو متحد و یکسو ہوکر فلسطین کی

آزادی کے لئے جدوجہد کرنی ہوگی، رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو عالمی یوم القدس منانے کا یہی فلسفہ ہے۔ بانی انقلاب

اسلامی ایران حضرت آیت اللہ خمینی نے تین دہائیوں قبل قدس شریف اور مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کے لئے جمعةالوداع کو عالمی

یوم القدس کا نام دیا۔ انہوں نے رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو عالمی یوم قدس کے نام سے موسوم کرکے مسئلہ فلسطین کو

فراموش کرنے کی استعمار و استکبارِ جہانی کی ہر سازش کو ناکام بنادیا اور اس طرح آیت اللہ خمینی نے ہمیشہ کے لئے عالم اسلام

کی توجہ مسئلہ فلسطین کی طرف مبذول کردی۔عالمی یوم القدس انتہائی اہم دن ہے کیونکہ جمعة الوداع کو یہ دنیا کے حریت پسندوں

اور مسلمانوں کو اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ وہ بیت المقدس اور فلسطین کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں پر عمل کریں اور اس

مقدس شہر کو صیہونی حکومت کے چنگل سے آزاد کرائیں۔عالمی یوم القدس پوری دنیا کے کروڑوں مسلمانوں کے لیے ایک اہم موقع ہے

کہ وہ مسئلہ فلسطین کے زندہ ہونے اور اس کی حمایت پر زور دیں۔ بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی نے اپنے تاریخی اعلان میں

فرمایا تھا یوم القدس ایک عالمی مسئلہ ہے اسے صرف کسی خاص علاقے سے مختص نہیں کیاجاسکتا۔ امام خمینی نے جمعةالوداع

کوعالمی یوم قدس اعلان کرکے بیت المقدس اورفلسطین کے مسئلہ کودوبارہ زندہ کردیا۔

گذشتہ عشروں سے دنیا کے گوشہ وکنارمیں جمعة الوداع کومظلوم فلسطینی قوم کی حمایت اوربیت المقدس کی آزادی کے حق میں

آوازبلند کئے جانے کے ساتھ ساتھ صہیونی حکومت کے جارحانہ غیرانسانی اوروحشیانہ ونسل پرستانہ اقدامات کی مذمت کی جاتی

ہے، دنیاکے گوشہ وکنارسے گونجنے والی یہ آوازیں اورنعرے جوفلسطینی کازکی حمایت اورصہیونی حکومت سے نفرت کے اعلان کے

لئے ہوتی ہیں ،غاصب صہیونیوں کولرزہ براندام کرنے کے ساتھ اس حقیقت کی بھی یاد دلاتی ہیں کہ بیت المقدس کبھی بھی صہیونیوں

کی ملکیت نہیں بن سکتا۔ صہیونی حکومت اوراس کی حامی سامراجی طاقتیں یہ کوشش کررہی تھیں کہ مسئلہ فلسطین اوربیت

المقدس کوفراموش کردیا جائے ،لیکن جب سے عالمی یوم القدس کا اعلان ہوا ہے دنیا کے بہت سے مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ

صرف بیت المقدس کی آزادی پرمنتج ہوگا بلکہ مسئلہ فلسطین کے حل اورفلسطینیوں کے حقوق کی بازیابی میں بھی ان کا یہ اقدام

بہت ہی اہم رول اداکرے گا۔ امام خمینی نے اپنے خطابات اورپیغامات میں بارہا اس نکتہ پر تاکید فرمائی تھی کہ عرب اوراسلامی ملکوں

کوچاہئے کہ وہ بیت المقدس اورفلسطین کی آزادی کے لئے ایک مشترکہ حکمت عملی اپنائیں۔ آج عرب ممالک اورمسلم حکومتوں میں

اس بات کی پوری توانائی پائی جاتی ہے کہ وہ مسلمانوں کے قبلہ اول کوصہیونیوں کے چنگل سے آزادکرالیں۔ عالم اسلام کویہ

سوچناہوگا کہ وہ ہرچیزسے پہلے بیت المقدس اورفلسطینی سرزمینوں کی آزادی کے لئے اقدام کریں۔آج دنیاپریہ بات واضح ہوچکی ہے کہ

صہیونی حکومت کا طاقت کا جھوٹا بھرم ٹوٹ چکا ہے۔ اس دوران حماس نے اپنی استقامت سے یہ ثابت کر دکھا یا کہ صہیونی حکومت کا

ناقابل شکست رہنے کا افسانہ ، محض ایک فسانہ ہی ہے۔اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کی حامی قوتیں مسئلہ فلسطین سے

عالمی رائے عامہ کی توجہ ہٹانے کیلئے عالم اسلام میں مسلسل بحران پیدا کر رہی ہیں لیکن فلسطینی قوم اور گروہوں کی مزاحمت

اور جدوجہد کی برکت سے یہ مقدس سرزمین آزادی کے قریب ہے۔بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسرائیل کے ناپاک منصوبوں کا جواب

شعور و بیداری، ا?پسی اخوت و بھائی چارگی سے دیں، یوم القدس کے موقع پر ہم متحد ہوکر عہدکریں کہ فلسطین کو ہرگزفراموش نہیں

کریں گے۔ تمام مسلمانوں کو ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ ہمارے اتحاد اسلامی، آپسی اخوت، بھائی چارے اور ملی وحدت و یگانگت سے

ہی فلسطینیوں پر اسرائیلی صہیونی بربریت ختم ہوجائے گی اور آزادی فلسطین کی ایک نئی صبح طلوع ہوگی۔قلم کاروں کا فرض بنتا ہے

کہ وہ مظلوم فلسطینی عوام کے حق میں اور استعمار و استکبار کے خلاف اپنے قلم کو جنبش دیں،عالمی میڈیا سے وابستہ افراد پر

ضروری ہے کہ وہ اپنی روایتی روش بدل کر یوم القدس کے پروگراموں کو کوریج دے کر قبلہ اول کی آزادی میں اپنا رول نبھائیں، اگر معاشرے

کے ہر ایک فرد نے اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھائی تو وہ دن دور نہیں ہوگا کہ جب فلسطین کی آزادی کا دیرینہ خواب شرمندہ

تعبیر ہوگا۔ آمین!

کالم نگار انٹرنیشنل مسلم یونٹی کونسل کے سیکریٹری جنرل اوربھارت میں اسلام ٹائمز کے نمائندے بھی ہیں۔

javedabbasrizvi@gmail.com
9797200232

23 تبصرے “فلسطین کی خونین تاریخ، آزادی کا وقت آن پڑا

  1. Ꮃߋrҝing aѕ a freelance paralegal has factoгs in its favor, and factors which are detrimental
    tо some people. If a senbse of journey and pleasure in yoᥙr work life is what wwould swimsuit үou the best,
    freelancing could bbe an ideal choice for you!

  2. Mies Van der Rohe in the International Exposition located in Barcelona designed Barcelona bed and Barcelona chair that year 1929; after that it derives its name. Like every other room, a bedroom even offers a centerpiece simply because this determines the location of furniture. A handsome contemporary scheme could be built around primary colors against white, in a interplay of many different textural weaves for the fabrics found in drapery, upholstery, and bedspreads.

  3. Mies Van der Rohe in the International Exposition kept in Barcelona designed Barcelona bed and Barcelona chair around 1929; following that it derives its name. LED lights can be found in any color-in fact they may be designed to change color, creating an underwater light show. I was traversing to a friend a few days ago and I welcomed in his family area would have been a very sickly looking house plant.

  4. What’s up to all, how is the whole thing, I think
    every one is getting more from this web page,
    and your views are pleasant designed for new visitors.

  5. Greetings from Los angeles! I’m bored at work so I decided to check out your
    blog on my iphone during lunch break. I enjoy the info you provide here
    and can’t wait to take a look when I get home.
    I’m shocked at how quick your blog loaded on my cell phone ..
    I’m not even using WIFI, just 3G .. Anyhow, fantastic site!

  6. On Xpress , we want you to feel completely in control.
    We never try to take the management from you by limiting your entry
    to members based mostly on preferences, or limiting you from features.
    We would like you to really feel totally free on our site so that all
    it’s essential think about it that hottie you’re chatting up and when you are going to
    get together. In contrast to different grownup dating websites, we let you see who’s been trying out
    and you don’t have to earn factors before you’ll
    be able to access frequent features. We want your online dating
    experience with us to be essentially the most fun you have ever had courting!

  7. Grâce à notre web site partenaire Le-Press-E-book,
    chaque modèle ou photographe peut bénéficier gratuitement de son e-book en ligne.

  8. Il suffit de voir Clarisse, qui fête son anniversaire dans « Une grosse
    bougie pour Clarisse », prendre avec délicatesse une queue entre
    ses deux mamelles et faire des allers-retours incessants jusqu’à ce qu’elle reçoive le jus du mec dessus !

  9. Nike Air Max toddlers – The store current 12 merchandise Nike Air Max 2013 Kids Shoes
    ,it is simply for easy colors boots wearing likes
    curiosity and engaging.

  10. Wow that was strange. I just wrote an incredibly long comment but after I clicked submit my comment didn’t appear.
    Grrrr… well I’m not writing all that over again. Anyway,
    just wanted to say great blog!

  11. The identical as that black outfits or tailor-made blazer,
    black canine’s fur boots will probably be stylish season after
    year or so, no matter the place property is and what you could
    like to do. Pretty much all 12 months-spherical you
    can wear your personal black pelt boots I whether or not they have merely a trim regarding fur, are lined with the assistance of fur,
    or possibly are totally fur all through.

تبصرے بند ہیں