افغانستان کا ایک انار سو بیمار

وسعت اللہ خان

خطہِ افغان بھلے کیسا بھی پسماندہ ، دور افتادہ ، مشکل سہی مگر کیا کیا جائے کہ یہ ملک عین عالمی چوک میں نصب بھاری پتھر ہے کہ جہاں ہر جانب سے سڑک آن ملتی ہے۔آریاؤں ، یونانیوں ، منگولوں ، ترکوں اور پشتونوں کو ہند میں گھسنے کے لئے چار و ناچار یہی پتھر اولانگھ کے گزرنا پڑا۔ایرانی حکمران ڈھائی ہزار برس سے اپنی مشرقی سرحد نارمل رکھنے کیلئے افغانستان سے معاملہ کرنے پر مجبور ہیں۔ سوویت یونین کو اپنی جنوبی مسلمان ریاستیں مستحکم رکھنے کے لئے افغانوں سے خصوصی دوستانہ تعلق برقرار رکھنے کی مجبوری لاحق رہی۔پاکستان بننے کے بعد اگرچہ کسی افغان حکومت کی کسی پاکستانی حکومت سے نہ بنی مگر یہ باہمی مجبوری اپنی جگہ کہ دوست بدل سکتے ہیں ، میاں بیوی طلاق لے سکتے ہیں ، والدین اولاد کو عاق کرسکتے ہیں لیکن ہمسائے نہیں بدلے جا سکتے۔ چنانچہ کبھی افغانستان کو ایرانیوں ، یونانیوں ، مغلوں ، روسیوں ، انگریزوں اور پھر امریکیوں نے بزور راہِ راست پر رکھنے کی کوشش کی، تو کبھی ترغیب کا جال ڈالا ، تو کبھی حقہ پانی بند کرنے کا سوچا ، تو کبھی کابل کے تخت پر طفیلی حکمران بٹھا کر کام نکالنے کی کوشش کی مگر افغان کسی کے بھی قابو میں پوری طرح نہ کل آئے نہ آج ہیں اور نہ آئندہ کوئی امکان لگتا ہے۔ چنانچہ اس فطری خود سری کی قیمت افغانستان کو ہمیشہ خون سے چکانی پڑی اور آس پاس اور دوپار کی طاقتوں نے جھنجھلا کر اسے ایسی بساط میں بدل دیا جسے اگر الٹا نہ بھی کیا جا سکے تو مہرے آگے پیچھے کرکے لہو لہان ضرور رکھا جا سکے۔

آج بھی یہی ہو رہا ہے اور اس کا نتیجہ بھی پہلے سے زیادہ مختلف نکلنے والا نہیں۔فرق بس یہ ہے کہ افغان بساط پر اس بار افغان بمقابلہ ایک دشمن نہیں بلکہ افغان بمقابلہ افغان اور دیگر علاقائی و بین الاقوامی طاقتیں بھی ایک دوسرے کے مدِ مقابل ہیں۔ جغرافیائی اعتبار سے پاکستان افغانستان کا محصول چونگی دار ہے اور افغانستان پاکستان کے ٹرانزٹ روٹ کا زیربار لہذا پاکستان افغانستان میں کسی رقیب کو نہیں دیکھنا چاہتا۔ مگر افغانستان کی مجبوری یہ ہے کہ پاکستان کے علاوہ بھی اس کے 5ہمسائے ہیں ( ایران ، تاجکستان ، ترکمانستان ، ازبکستان ، چین ) اور 2 سابق ہمسائے بھی ہیں یعنی روس ( سابق سوویت یونین ) اور ہند ( برٹش انڈیا )۔ ان موجودہ اور سابق ہمسائیوں سے افغانستان کے تاریخی ، سماجی ، معاشی و عسکری تعلقات صدیوں پر پھیلے ہوئے ہیں۔افغانستان میں بہت سے گروہ ہیں جن کے نسلی ڈانڈے ان سب ہمسائیوں سے جا کے ملتے ہیں۔

اسی طرح افغان نسلی گروہ بھی ہمسایہ ممالک میں صدیوں سے آباد ہیں لہذا افغانوں کو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ وہ جمعہ، جمعہ 8 دن پرانی ریاست یعنی پاکستان کی منکوحہ بن کے کیسے رہیں ؟ چنانچہ جب جب افغان ہاتھ پاؤں نکال کر باقی ہمسائیوں سے فلرٹ کرنے یا ان تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں تو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ فوراً الرٹ ہوجاتی ہے ۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی اس نفسیاتی کمزوری سے دیگر حریف فائدہ اٹھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں گنواتے۔ مثلاً سوویت یونین سے افغانستان کی قربت پاکستان کو پسند نہیں تھی چنانچہ پاکستان نے بڈھ بیر کا اڈہ امریکہ کو دے دیا۔ سوویت یونین نے اس کے توڑ میں کابل کے ذریعے پختونستان کا شوشہ چھڑوا دیا اور پاکستان نے اس کا توڑ ظاہر شاہ اور داؤد مخالف سیاسی و مذہبی رہنماؤں کو پناہ دے کر کیا اور پھر جب افغانستان میں کیمونسٹ براہ راست برسرِ اقتدار آ گئے تو پاکستان نے ’’ سوویت توسیع پسندی ’’ سے گھبرا کے پورا مغربی اونٹ ہی اپنے خیمے میں گھسا لیا اور اس اونٹ کی دم پکڑے بن بلائے ’’ نان اسٹیٹ مہمان ’’ بھی چلے آئے۔

جب مغربی کیمپ کا مطلب نکل گیا تو پاکستان نے افغان گیم میں پیچھے رہ جانے کے خوف سے طالبان پر ہاتھ رکھ دیا۔ جب طالبان بھی اچھے بچے ثابت نہ ہوئے تو پھر سے مغرب کی جانب رجوع کرلیا مگر ڈور کا سرا ہاتھ نہیں آ پا رہا۔ ایسا کوئی بھی ملک جس کی افغانستان سے سرحد نہیں ملتی اسے کابل پر اپنا اثر و نفوذ بڑھانے کے لئے ایران یا پاکستان میں سے کسی ایک کی قربت درکار رہتی ہے۔ ہند، افغانستان کو اپنی مفاداتی حکمتِ عملی کے تحت پاکستانی مواصلاتی تکئے سے نجات دلانا چاہتا ہے لہذا اس نے افغانستان سے ایران کی بندرگاہ چاہ بہار تک ایک روڈ لنک مکمل کرلیا ہے۔ہند، ایرانی تیل کا بڑا خریدار ہے۔نئی دہلی اچھے سے جانتا ہے کہ پاک، ایران تعلقاتی خسارہ ہند کا منافع ہے۔ اور اب اس بساط پر آ گیا ہے چین، ہند نہ صرف چین کا سب سے بڑا مشرقی ہمسایہ ہے بلکہ سالانہ باہمی تجارت 70 ارب ڈالر سے بھی متجاوز ہے۔

پاکستان چین کو یوں عزیز ہے کہ وہ نہ صرف پرانا اسٹرٹیجک پارٹنر اور ہند کے ساتھ مقابلے بازی کے چینی ترازو میں ایک وزنی باٹ ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی منڈی تک پہنچنے کا مختصر ترین راستہ بھی پاکستان سے ہو کر گزرتا ہے۔ امریکہ افغانستان سے عسکری جان تو چھڑانا چاہتا ہے مگر یہ نہیں چاہتا کہ افغانستان دوبارہ طالبان اور ساتھ ساتھ داعش یا القاعدہ کے ہاتھوں میں چلا جائے۔ روس کو یہ لالچ ہے کہ ہند کی امریکہ سے بڑھتی ہوئی قربت کے سبب اسے جنوبی ایشیا میں اپنے وجود کا احساس دلانے کے لئے کوئی نہ کوئی اہم پارٹنر درکار ہے۔

لہذا جس طرح ہند افغانستان کے ساتھ عسکری و سیاسی تعاون بڑھا کر پاکستان کو خلجان میں رکھنا چاہتا ہے اسی طرح روس پاکستان کے ساتھ اقتصادی و عسکری پینگیں بڑھا کر ہند کو جلانا کڑاھنا چاہتا ہے مگر طالبان اور داعش وغیرہ سے کیسے نمٹا جائے اور انہیں افغانستان تک کیسے محدود رکھا جائے ؟ اس بابت ہر ملک کا راگ ، طبلہ اور سارنگی الگ الگ بج رہے ہیں۔ اس سے پہلے کہ گیم ہاتھ سے نکل جائے اور غیر ریاستی عناصر ایک نئی خونخوار گیم ڈال دیں۔ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ممالک کو افغانستان کی بابت کم ازکم یک نکاتی سمجھوتہ کرنا پڑے گا اور وہ نکتہ یہ ہے کہ کھیل کو بساط کے اندر ہی کھیلا جائے۔بساط پھٹ گئی تو بہت سوں کو مشکل ہوگی۔