رضا ربانی کا پارلیمنٹ میں آزاد خارجہ پالیسی بنانے کا مطالبہ

اسلام آباد: سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے آزاد خارجہ پالیسی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے کہنے پر ہمیں بھارت کو خطے میں تھانیدار تسلیم نہیں کرنا چاہئے۔ پاکستان کو ہر صورت اپنے مفادات کا تحفظ کرنا ہو گا۔انہوں نے حکومتی کمیٹی مسترد کرتے ہوئے کہاکہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے۔ سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا کہ کشمیر اور قومی سلامتی پرپالیسی سازی ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں رہی ہے۔ کیا بھارتی اقدام سے اسٹیبلشمنٹ بھی لاعلم تھی۔ کیا امریکی صدر نے اشارے بھی نہیں دیئے تھے۔ قومی سلامتی خارجہ امور کشمیر پر پالیسی سازی کے لئے پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی بنائی جائے۔ بھارت اسرائیل امریکہ گٹھ جوڑ جو آگے بڑھ رہا ہے۔ میاں رضا ربانی نے کہا کہ کشمیر میں نسل کشی کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ پاکستان کو بیانیہ بنانے کیلئے اقوام متحدہ کی قرارداد تک محدود رہنا چاہئے جو حق خود ارادیت کے بارے میں ہے۔ یہ کشمیریوں کا بنیادی حق ہے۔ بھارتی جارحیت کو اجاگر کیا جائے۔ بھارت ریاستی دہشت گردی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ کشمیریوں کی نسلکی پر بڑے ممالک خاموش ہیں۔ عالمی ضابطوں کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ مجرمانہ خاموشی ہے۔ کیا ہم کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ناکام کیوں ہوئے۔ کشمیر پر خارجہ پالیسی میں سٹرکچر تبدیلی کی ضرورت ہے۔ پارلیمنٹ میں خارجہ پالیسی بننے سے یا تبدیلی آ سکتی ہے۔ قومی سلامتی کی ترجیحی کمیٹی قابل قبول نہیں ہے۔ متحرک خارجہ پالیسی میں پاکستان کے مفادات کا تحفظ کیا جائے۔ قومی سلامتی کی پالیسی کو اپنے مفادات تک محدود رکھا جائے۔ پاکستان کو کسی اور ملک کے مفاد کیلئے استعمال نہیں ہونا چاہئے۔ رضا ربانی نے کہا کہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کیا۔ ہمیں یرغمال نہیں بننا چاہئے۔ پارلیمنٹ ساتھ کھڑا ہو گا۔ امریکہ کہے جو کوئی اور ملک کہے ،ہمیں بھارت کو خطے کا تھانیدار تسلیم نہیں کرنا چاہئے۔ آزاد خارجہ پالیسی بنائی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں