جسٹس قاضی فائز عیسی نے حکومتی ریفرنس کوچیلنج کر دیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنے خلاف حکومتی ریفرنس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا .

جسٹس قاضی فائیز عیسی ریفر نس کی کاپی جمع کروانے کیلئے خود سپریم کورٹ برانچ میں آئے اور اپنی درخواست جمع کروائی .

ذرائع کے مطابق جسٹس قاضی فائیز عیسی نے تین سو سے زائد صفحات پر مشتمل اپنی درخواست سپریم کورٹ میں جمع کروائی جس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیجے گیا ریفرنس آئین و قانون کے مطابق نہیں بطور جج کوئی ایسا کام نہیں کیا جو ججز کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی ہو ، قانون کے مطابق خود مختار اہلخانہ کی جائداد بتا نا لازم نہیں سپریم جوڈیشل کونسل کی کاروئی قانون کے مطابق نہیں چلائی جا رہی

درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ صدارتی ریفرنس قابل سماعت نہیں سپریم جوڈیشل کونسل کی بند کمرے کی کاروائی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے صدارتی ریفرنس عدلیہ کو کمزور کرنے کیلئے دائر کیا گیا ہے صدارتی ریفرنس عدلیہ کی آذادی کے آئینی آرٹیکل کی خلاف ورزی ہے

جسٹس قاضی فائیز عیسی نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کاروائی کو کیس کے فیصلے تک روکنے کی استدعا بھی کی ہے

جسٹس قاضی فائیزعیسی نے اپنی درخواست میں صدر پاکستان اور وزیر اعظم عمران خان ،وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم ، اٹارنی جنرل پاکستان انور منصور، معاون خصوصی برا احتساب شہزاد اکبر ، ضیا مصطفی ، رجسڑار سپریم کورٹ ارباب عارف اور سپریم جوڈیشل کونسل کو بھی فریق بنایا گیا ہے

سپریم کورٹ کے سینئیر وکیل منیر اے ملک نے کیس میں جسٹس قاضی فائیز عیسی کی معاونت کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں