حکومت کے پاس دس لاکھ نہیں تو ڈی چوک میں چندہ مانگے، سپریم کورٹ

اسلام آباد: پاکستان کی سپریم کورٹ کے جج جسٹس عظمت سعید نے وزیر اعظم عمران خان کی رہائش گاہ کے علاقہ بنی گالہ میں تجاوزات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ اگر شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی کےلئے ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کےلئے حکومت کے پاس دس لاکھ روپے بھی نہیں تو ڈی چوک میں چندہ مانگنا شروع کر دے۔

جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے بنی گالہ ، کورنگ نالہ میں غیر قانونی تجاوزات سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ گندگی کے حوالے سے ٹریٹمنٹ پلانٹس نہ لگانے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ سماعت ہر سیکریٹری داخلہ کو پیش ہونے کا حکم دیا۔ عدالت نے اسلام آباد کے ماسٹر پلان میں تبدیلی کی تجاویز بھی طلب کرلیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کورنگ نالے پر لگائے جانے والے ٹریٹمنٹ پلانٹس کے لئے کتنا عرصہ درکار ہوگا؟۔ سرکاری وکیل نے جواب دیا کہ تین ٹریٹمنٹ پلانٹس کی منظوری ہوئی ہے دو سال میں لگ جائیں گے۔

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دو سال تک حکومت پنڈی والوں کو گندہ پانی پلائے گی، حکومت نے کورنگ نالے کے ارد گرد آبادی بننے ہی کیوں دی، حکومت نے تو غیر قانونی آبادی ختم کرنے کے معاملے پر بے بسی ظاہر کر دی ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ قانون پر عمل ہو تو اس آبادی کو ہٹایا جانا چاہئیے، دس دس لاکھ روپے لگا کر وقتی طور ہر پانی کی صفائی کا کام کیا جا سکتا ہے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اگر حکومت کے پاس دس لاکھ روپے بھی نہیں تو ڈی چوک میں چندہ مانگنا شروع کر دے۔

عدالت نے حکم دیا کہ ماسٹر پلان میں تبدیلی سوچ سمجھ کر کی جائے اور حکومت فوری طور پر مختصر مدتی اقدامات کرے۔ کیس کی مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں