جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو کی انکوائری کیلئے دائر درخواست کی سماعت کل

اسلام آباد:احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو کی انکوائری کیلئے سپریم کورٹ میں دائر آئینی درخواست کی سماعت کل ہو گی.

چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس عمر عطا بندیال پر مشتمل تین رکنی بینچ منگل کودرخواست کی سماعت کرے گا ،

آئینی درخواست پاکستان پیپلزپارٹی کے سابق ایم پی اے اشتیاق احمد مرزا نے ایڈوکیٹ چوہدری منیر صادق کے ذریعے دائر کی ہے جس میں وفاقی حکومت،اپوزیشن لیڈر شہباز شریف، مسلم لیگ ن کی نائب صدرمریم صفدر ،سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور راجہ ظفر الحق ، ویڈیو کے مرکزی کردار ناصر بٹ اور پیمرا کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

دو روز قبل دائر کی گئی درخواست میں ملک کی سب سے بڑی عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ عدالت لیک شدہ ویڈیو کی انکوائری کا حکم دے اورعدلیہ کے وقار کو برقرار رکھنے کیلئے ملوث افراد کیخلاف توہین عدالت کی کاروائی بھی کی جائے۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ انکوائری سے عدلیہ کے وقار،عزت اور آزادی پر اٹھائے گئے سوالات کا جواب مل جائے گاکیونکہ ایسا لگتا ہے ویڈیو لیک ہونے سے عدلیہ کی آزادی پر سوال اٹھایا گیا ہے،

عدالت ہر صورت اس معاملے کی انکوائری کرائے، درخواست میں کہا گیا ہے کہ6 جولائی کو مریم صفدر اور دیگرنے پریس کانفرنس میں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک اور ناصر بٹ کے درمیان بات چیت کی ویڈیو چلائی گئی ۔

اس ویڈیو سے یہ تاثر ملتا ہے کہ عدلیہ آزادی سے کام نہیں کرتی اور بلیک میل ہوتی ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ6 جولائی کی پریس کانفرنس کا ریکارڈ پیمرا سے طلب کیا جائے۔

پریس کانفرنس میں جوالزامات عدلیہ پر لگائے گئے ان کی انکوائری ہونا ضروری ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ جج ارشد ملک اپنی پریس ریلیز میں مریم نواز کے لگائے گئے الزامات ماننے سے انکار کرچکا ہے جج ارشد ملک نے جو پریس ریلیز میں رشوت کی آفر کرنے کی بات کی ہے وہ سنجیدہ نوعیت کی ہے اورمریم نواز نے جو الزامات پریس کانفرنس کے دوران لگائے ہیں وہ توہین عدالت ہے اس لئے وفاقی حکومت کو ہدایت کی جائے کہ عدلیہ کی آزادی کے لئے اقدامات کرے۔

واضح رہے کہ 6 جولائی کو مریم نواز نے پریس کانفرنس میں جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو جاری کی تھی جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ انہیں بلیک میل کرکے اور دبا وڈال کر نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں سزا دینے پر مجبور کیا گیا، وگرنہ نواز شریف کے خلاف کوئی ثبوت نہیں تھا۔ارشد ملک نے ایک روز بعد پریس ریلیز جاری کرکے مریم نواز کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے ویڈیو کو بھی مسترد کردیا۔

انہوں نے بیان حلفی جمع کراتے ہوئے نواز شریف اور ن لیگ پر الزامات عائد کیے کہ انہیں دھمکیاں دی گئیں اور رشوت کی پیش کش کی گئی جبکہ غیر اخلاقی ویڈیوز سے بلیک میل کیا گیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر وزارت قانون نے جج ارشد ملک کو عہدے سے بھی ہٹادیا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ سال 24 دسمبر کو احتساب عدالت اسلام آباد نمبر 2 کے جج ارشد ملک نے نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں 7 سال قید کی سزا سنائی تھی جبکہ فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں باعزت بری کردیا تھا۔ نواز شریف نے سزا کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی ہوئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں