بے نامی جائیداد ضبط کرنے کےلئے حکومت کوطویل جنگ لڑنا ہوگی

اسلام آباد (عابدعلی آرائیں ) بے نامی جائیداد ضبط ہوسکتی ہے یا نہیں؟ قانونی پیچیدگیوں کے باعث بے نامی جائیداد ضبط کرنے کیلئے ایف بی آر کو طویل قانونی جنگ لڑنا پڑے گی ، بے نامی ایکٹ 2017کے مطابق بے نامی جائیداد ضبطگی کو عدالت میں چیلنج کیاجاسکتا ہے.

بے نامی جائیدادوں کے حوالے سے ایف بی آر نے ہنگامی بنیادوں پر اعدوشمار جمع کرنے کا عمل مکمل کرلیا ہے نوٹسز جاری کرنے کی تیاریاں ہورہی ہیں ،

قانونی پیچیدگیوں کے حوالے سے ایک ساتھ نیوز نے متعلقہ سینیئر قانونی ماہرین سے گفتگو کی ہے جس میں قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ بے نامی جائیدادوں کی قرقی سے قبل ایف بی آر کوعدالت میںیہ ثابت کرنا ہوگا کہ جائیداد بے نامی ہے اوربے نامی ایکٹ 2017کے مطابق بے نامی جائیدادوں کو ضبط کرنے کیلئے ایف بی آرکو ایک طویل قانونی مشق کرناپڑتی ہے ۔

سینئر وکیل حشمت حبیب ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ یہ قانون مسلم لیگ ن کے دور میں بنا تھا جس کے رولز 2019میں بنائے گئے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ مروجہ قانون کے مطابق بے نامی جائیداد رکھنے والے شہری کے پاس ایف بی آر کے فیصلوں کو چیلنج کرنے کا اختیار بھی ہے ۔ بے نامی ایکٹ 2017کی شق3کی ذیلی شق 2کے مطابق ایف بی آر یکم جولائی 2017سے پہلے کی بے نامی جائیدادوں کو ضبط نہیں کر سکتا،جس کا بے نامی جائیداد رکھنے والے کو عدالتوں سے فائدہ ہو سکتا ہے ۔

سابق جج و اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر وکیل، پی ایچ ڈی اسلامک فنانس اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی وزٹنگ فیکلٹی کے رکن قیصر امام ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ قانو ن کے مطابق جب تک بے نامی جائیداد کو بے نامی ہونا ثابت نہیں ہوتا اس وقت تک جائیداد کو کیس کے ساتھ اٹیچ نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی بحق سرکار قرق کی جاسکتی ہے ، لیکن پاکستان میں مالک کو نوٹس کرنے کے بعد پراپرٹی اٹیچ کردی جاتی ہے جو کہ قانونی طور پر درست نہیں ہے ، بے نامی جائیدا د کا بے نامی ہونا ثابت کرنا ایف بی آر کی ذمہ داری ہے ۔

قیصر امام ایڈووکیٹ نے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ نے حراوی کیس میں بے نامی جائیدادوں سے متعلق قانون کی نہایت عمدہ تشریح کی ہے ، اس فیصلہ میں عدالت عظمی نے ہائیکورٹ کے فیصلہ کو برقرار رکھتے ہوئے کہا ہے کہ ایف بی آر کی ذمہ داری ہے کہ وہ جائیداد قرق کرنے سے قبل یہ ثابت کرے گا کہ جائیداد بے نامی ہے ۔

ماہرین قانون کے مطابق بے نامی ایکٹ 2017کے مطابق ابتدائی طورپر ایف بی آر کو بے نامی جائیدادوں کو ثبوت کیساتھ تلاش کرنا ہوتا ہے کہ کسی شہری کی کتنی بے نامی جائیداد یا رقم ہے ،جس کے بعد ابتدائی افسر جو ایک ڈپٹی کمشنر ہے وہ شہری کو نوٹس کرتا ہے کہ آپکی بے نامی جائیداد کی نشاندہی کی گئی ہے ، آپ کے پاس کوئی کاغذات ہیں تو محکمے کو فراہم کریں۔

ڈپٹی کمشنر ان لینڈ ریونیو نے بے نامی جائیداد رکھنے والے شخص سے تمام انویسٹی گیشن90دن میں مکمل کرنا ہوتی ہے جس کے بعد متعلقہ ڈپٹی کمشنراتھارٹی یعنی کے کمشنر بے نامی زون سے اجازت طلب کر کے ایڈجوڈیکیشن اتھارٹی کے پاس ریفرنس فائل کرے گا ۔ایڈجوڈیکیشن اتھارٹی30جون کو اسلام آباد میں قائم کی گئی ہے اس پر لازم ہے کہ وہ 30دن کے اندر پارٹی جس کی بے نامی جائیداد کی نشاندہی ہو ئی ہے اسے نوٹس کرے اور ایک سال کے اندر کیس کا فیصلہ کرے ۔فیصلہ آنے تک ایڈمنسٹریٹر جو کہ اسسٹنٹ کمشنر ان لینڈ ریونیو ہے وہ کوئی کارروائی نہیں کرے گا اور فیصلہ پارٹی کیخلاف آنے کے بعد وہ پابندہے کہ اس جائیداد پر نوٹس چسپاں کر ے کہ جائیداد ضبط کر لی گئی ہے اور بے نامی رکھنے والے شخص کو بے دخل کر دیا گیا ہے اور یہ جائیداد اب ریاست کی ملکیت ہے ۔

بے نامی اثاثے رکھنے والا شخص ایڈجوڈیکیشن اتھارٹی کے فیصلہ کو پہلے فیڈرل ایپلٹ ٹریبونل پھر ہائیکورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں چیلنج کر سکتا ہے ۔ریاست کو بے نامی جائیداد قرق کرنے کیلئے تمام عدالتوں کے سامنے یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ جائیداد بے نامی ہے ۔

ماہرین کے مطابق بے نامی ایکٹ2017کے تحت ایف بی آر یکم جولائی 2017سے پہلے کی بے نامی جائیدادوں کو ضبط نہیں کر سکتا کیونکہ قانون میں کہا گیا ہے کہ قانون بننے کے دن سے لے کر بعد میں جس نے بھی بے نامی جائیداد بنائی ہے اس کیخلاف ایکشن ہو گا، ماہرین کے مطابق اس قانونی نقطہ پر بے نامی اثاثے رکھنے والے عدالتوں سے رعایت لے سکتے ہیںتاہم دیکھنا ہو گا کہ ایف بی آر2017سے قبل کی جائیدادوں کے بارے میں کیا موقف اختیار کرتا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں