علی ظفر کا ہتک عزت دعوے میں بیان قلمبند

لاہور:معروف گلوکار گلوکارعلی ظفرنے میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کے دعوے میں بطور مدعی اپنا بیان قلمبند کرادیا ہے۔

لاہورکی سیشن عدالت میں ہتک عزت کے دعوے کی سماعت ہوئی تو گلوکار علی ظفر نے پیش ہوکر اپنا بیان قلمبند کروایا۔

علی ظفر نے کہا کہ میری والدہ اوروالد استاد ہیں، میرے والدین نے مالی مشکلات کے باوجود میری بہترین تربیت کی، میں نے اپنے پروفیشنل کیریئر کا آغاذ ایک ہوٹل کی لابی میں ایک آرٹسٹ سے کیا، میرے والدین نے مالی مشکلات کے باوجود میری بہترین تربیت کی، 2003 سے اپنے موسیقی کے کیریرکا آغازکیا اور یہاں تک اپنی محنت سے پہنچا ہوں۔

علی ظفرکے مطابق مجھے ایک منظم سازش کے تحت میری فلم سے پہلے نشانہ بنایا گیا، میرے خلاف مہم چلانے کے لیے جعلی اکاونٹس کوبھی استعمال کیا گیا، میشا نے ایک ٹی وی شو سے پہلے پیغام بھجوایا کہ اگرمیں نے ریکاڈنگ نہ چھوڑی تومیرے خلاف مہم چلائیں گی جب کہ 11 گواہان میرے حق میں گواہی شہادت دے چکے ہیں کہ میشا شفیع اور میرے درمیان فاصلہ 3 فٹ کا تھا۔

یاد رہے کہ علی ظفر نے میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کا دعوی دائر کررکھا ہے۔ علی ظفر کے مطابق میشا شفیع نے جھوٹی شہرت کے لئے ہراساں کرنے کے بے بنیاد الزامات عائد کئے۔ میشا شفیع کے ان جھوٹے الزامات سے پوری دنیا میں ان کی شہرت متاثرہوئی۔ علی ظفر نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ عدالت میشا شفیع کو ایک ارب روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں