سپریم کورٹ کا سینٹورس، صفاگولڈمال اور شفا انٹرنیشنل ہسپتال کی تجاوزات ہٹانے کا حکم

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے اسلام آباد میں قائم سینٹورس مال کی پارکنگ، صفا گولڈ مال کی ہسپتال کی زمین پر تعمیر اور شفاانٹرنیشنل ہسپتال کی طرف سے کی گئی تجاوزات کا نوٹس لے کر انہیں ہٹانے کاحکم دیا ہے ، عدالت نے اسلام آبادمیں تجاوزات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیئرمین این ایچ اے ، چیئرمین سی ڈی اے اورمیئر اسلام آباد کی رپورٹس مسترد کرتے ہوئے دونوں سرکاری افسران اور میئراسلام آبادکی سخت سرزنش کی ہے سپریم کورٹ نے ہائی ویز اور موٹر ویز پر ہر حادثے کا ذمہ دار چیئرمین این ایچ اے کو قرار دیدیا حادثات کے دوران ہونے والے ہر جانی و مالی نقصان کے ذمہ دار چیئرمین این ایچ اے ہیں، عدالت نے اپنے حکم میں کہاہے کہ کارروائی سے پہلے چیئرمین این ایچ اے کو غلطی سدھارنے کا موقع دیتے ہیں، دوران سماعت قائم مقام چیف جسٹس گلزار احمد نے قائم مقام چیئر مین سی ڈی اے عامر احمد علی سے استفسار کیا کہ سینٹورس مال کی پارکنگ کی جگہ کس کی ہے تو انہوں نے بتایا کہ یہ سرکاری جگہ ہے ، جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ پھر اس زمین کو پارک یا عوامی استعمال کیلئے مختص ہونا چاہیئے، پرائیویٹ بلڈنگ کیلئے سرکاری زمین پر پارکنگ کیوں بنائی جارہی ہے جس پرعدالت نے سنٹورس مال کی سرکاری زمین پر قائم پارکنگ واگزار کرانے کا حکم دیا ہے۔قائم مقام چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے روبروسماعت کے دوران سپریم کورٹ میں صفا گولڈ مال، سرکاری ہسپتال کی زمین پر بنائے جانے کا انکشاف ہو اتو عدالت نے ایک ماہ میں صفا گولڈ مال کی زمین اصل حالت میں بحال کرنے کا حکم دے دیا عدالت نے چیئرمین سی ڈی اے کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال کی جانب سے قائم تجاوزات کا جائزہ لے کر رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ شفا انٹرنیشنل نے تجاوزات قائم کی ہیں تو مسمار کی جائیں،عدالت نے اسلام آباد میں گرین بیلٹس کو توسیع دینے کی ہدایت کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو طلب کر لیاعدالت نے چیئرمین سی ڈی اے ، میئر اسلام آباد سے اسلام آباد کے پھیلائو کو روکنے اور نئے سیکٹرز کے قیام سے متعلق رپورٹ بھی طلب کرلی عدالت نے کہا ہے کہ میونسپل کارپوریشن اسلام آباد کے 11 ہزار 5سو ملازمین کچھ نہیں کرتے، اسلام آباد شہر بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہے،قائم مقام چیف جسٹس گلزار احمد نے قائم مقام چیئر مین سی ڈی اے عامر احمد علی سے استفسار کیا کہ سینٹورس مال کی پارکنگ کی جگہ کس کی ہے تو انہوں نے بتایا کہ یہ سرکاری جگہ ہے ، جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ پھر اس زمین کو پارک یا عوامی استعمال کیلئے مختص ہونا چاہیئے، پرائیویٹ بلڈنگ کیلئے سرکاری زمین پر پارکنگ کیوں بنائی جارہی ہے ۔ عدالت کا اپنے تحریری حکم میں کہنا تھا کہ قائمقام چیئرمین سی ڈی اے تجاوزات کنٹرول کرنے میں ناکام ہیں،عدالت نے میونسپل کارپوریشن، سی ڈی اے اور این ایچ اے کی رپورٹس پرغیر تسلی بخش قراردے کر مسترد کریں اور تینوں اداروں کے سربراہان کو آئندہ سماعت پر بھی پیش ہونے کا حکم دیا ، قائم مقام چیف جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ اسلام آباد تباہ شدہ شہر ہے، قائمقام چیف جسٹس نے میٹرو بس منصوبے پر بھی شدید برہمی کا اظہا رکیا ان کا کہنا تھا کہ سڑک کے درمیان میں بس چلا کر کونسا تیر مارا ہے؟ بس سائڈ پر بھی چلاتے تو اربوں روپے کی بچت ہو سکتی تھی، جسٹس گلزار احمدنے کہاکہ کیوں نہ چیئرمین این ایچ اے کا کیس نیب کو بھجوائیں، این ایچ اے افسران کی ناک سے کرپشن کا پیسہ نکلوائیں گے،کشمیر ہائی وے پر آٹھ سال سے دیکھ رہا ہوں کام ہو رہا ہے، کشمیر ہائی وے پر لگتا ہے کسی کا مستقل روزگار لگا ہوا ہے، قائم مقام چیف جسٹس نے استفسار کیا میئر صاحب کیا آپکو شہر کی تعریف بھی آتی ہے؟ان کا کہنا تھا کہ شاہراہ دستور پرعوامی مرکز کی جلی ہوئی بلڈنگ کیوں سجا رکھی ہے؟ ایم سی آئی کے گیارہ ہزار سے زائد ملازمین بھی کچھ نہیں کر رہے،جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ لگتا ہے جو بھی کرے گا اللہ ہی کرے گا،قائم مقام چیف جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ این ایچ اے نے کراچی حیدرآباد موٹروے نہ بناتا تو مہربانی ہوتی،این ایچ اے نے بحریہ ٹائون کیلئے سڑک کیوں کھود رکھی ہے؟ کس کے حکم پر بحریہ ٹائون کیلئے کھدائی کی گئی ہے؟ سڑکوں کی ناقص منصوبہ بندی ہی حادثات کا باعث بنتی ہے، قائمقام چیف جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ ملک بھر میں ہائی ویز کا محکمہ بالکل فارغ ہے، این ایچ اے بہت کرپٹ ادارہ ہے،جامشورو روڈ پر روزانہ سینکڑوں لوگ حادثات میں مرتے ہیں ،قائم مقام چیف جسٹس نے چیئر مین سی ڈی اے سے کہاکہ اسلام آباد میں اپارٹمنٹس نہیں گھر بنائیں،کیونکہ اپارٹمنٹس بن جاتے ہیں لیکن انکی تزئین و آرائش نہیں ہوتی، اپارٹمنٹس بنانے سے کراچی شہر کی بھی شکل بگڑ گئی، قائمقام چیف جسٹس میئر صاحب بتائیں آپ نے کیا کرنا ہے؟ قائمقام چیف جسٹس جو عدالت حکم دے گی وہی کرینگے، میئر اسلام آباد کیا عدالت آپکے اوپر میئر لگی ہوئی ہے؟ عدالت نے مفصل رپورٹس طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کردی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں