آسیہ بی بی کینیڈا منتقل ہوگئیں

اسلام آباد:پاکستان میں توہین مذہب کے الزام میں برسوں تک قید رہنے والے مسیحی خاتون آسیہ بی بی سپریم کورٹ سے بری ہونے کے فیصلے کے تین ماہ بعد ملک چھوڑ کر کینیڈا منتقل ہو گئی ہیں ۔

ایک مقامی ویب سائیٹ کی خبر کے مطابق پنجاب پولیس میں ایک اعلی سطح پر موجود ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ آسیہ بی بی کو خصوصی سیکورٹی میں ائر پورٹ پہنچایا گیا تھا ۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے تاحال اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ آسیہ بی بی بیرون ملک چلی گئی ہیں ۔

اس سے قبل پاکستانی حکومت نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد آسیہ بی بی ایک آزاد شہری ہیں اور اپنی مرضی سے جہاں چاہیں رہ سکتی ہیں تاہم ان کو مناسب سیکورٹی فراہم کی گئی ہے ۔

خیال رہے کہ اکتوبرسنہ 2018 میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی کو توہین مذہب پر سنائی جانے والی موت کی سزا کو کالعدم قرار دیا تھا ۔

سپریم کورٹ سے بری کی جانے والے آسیہ مسیح کی وجہ سے پورے پاکستان میں تین دن کاروبار حیات درھم برہم ہو کر رہ گیا تھا ۔ مظاہروں سے نمٹنے کے لیے پاکستانی حکومت بریلوی مسلک کی ابھرتی تنظیم تحریک لبیک سے معاہدہ بھی کیا تھا جس کی رو سے نظرثانی درخواست کے فیصلے سے قبل آسیہ کو بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔

نومبر میں بھی آسیہ بی بی کی خاندان سمیت کینیڈا منتقل ہونے کی خبر کئی افراد نے ٹوئٹر پر دی مگر بعد ازاں اس کی تردید کی یا پھر ڈیلیٹ کرنا پڑی ۔ سب سے پہلے جاوید سومرو نامی ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ سلمان تاثیر کے بیٹے نے امریکی ٹی وی سی این این کو انٹرویو میں تصدیق کی کہ آسیہ خاندان کے ساتھ کینیڈا پہنچ گئی ۔

ویب سائیٹ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق آسیہ بی بی کی سپریم کورٹ میں وکالت کرنے والے سیف الملوک ایڈووکیٹ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر وہ تبصرے کے لیے دستیاب نہ ہو سکے ۔

خیال رہے کہ سیف الملوک ایڈووکیٹ خود بھی آسیہ بی بی کیس فیصلے کے بعد نیدرلینڈ منتقل ہوگئے تھے اور بعد ازاں نظرثانی درخواست کی سماعت پر پاکستان واپس آئے تھے

اپنا تبصرہ بھیجیں