پاکستانی قانون میں این آر او کی کوئی گنجائش نہیں،شاہد خاقان عباسی

اسلام آباد: سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ ( ن) کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ میاں محمد نواز شریف نے نہیں کہا کہ میں باہر جانا چاہتا ہوں بلکہ ڈاکٹروں نے کہا ہے نواز شریف کی بیماری اتنی بڑھ گئی ہے اور اتنی پیچیدہ ہے کہ علاج یہاں ممکن نہیں ہے،

ایک انٹرویومیں انہوں نے کہاکہ پاکستان کے قانون میں این آر او کی کوئی گنجائش نہیں، این آر او وہ کرتے ہیں جنہوں نے کوئی جرم کیا ہو، ہم نے کوئی جرم نہیں کیا، ہمارا جرم صرف یہ ہے کہ ہم نے اس ملک کو ترقی دی ہے، وہ ہم بھگتنے کے لئے تیار ہیں، وہ ہم بھگت لیں گے .

ان کا کہنا تھا کہ جو عمران خان سے این آر او مانگے گا وہ میرا ساتھی نہیں ہے، یہ چیز قابل قبول نہیں ، نیب کی جانب سے گرفتاری کا ہمیشہ خدشہ رہتا ہے نیب کسی وقت بھی گرفتار کر سکتا ہے تاہم میں ضمانت کروانے پر یقین نہیں رکھتا ،گرفتار کرنا ہے تو گرفتار کر لیں اور شوق بھی پورا کر لیں۔ اگر مجھے گرفتار کیا گیا تو اس کے بعد ضمانت کروانا میرا حق ہے تاہم میں ضمانت قبل از گرفتاری کا قا ئل نہیں ہوں، میںنے کوئی جرم نہیں کیا، میرا ضمیر مطمئن ہے ، نیب نے جو کرنا ہے کرلے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ میر ظفراللہ جمالی جو بڑے بزرگ ہیں اور بیمار ہیں ان کے علاوہ جتنے بھی سابقہ وزراء اعظم حیات ہیں سب ای سی ایل پر ہیں اور ان کے خلاف نیب کے مقدمات ہیں، میں اس میں آخری ایڈیشن ہوںاور میں نے سنا ہے اگلے عمران خان ہوں گے، میں نے پہلے بھی آٹھ سال ای سی ایل پر گزارے ہیں اور اب بھی گزار لوں گا تاہم بدنامی ملک کی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایل این جی معاہدہ کی کوئی شق خفیہ نہیں ہے بلکہ معاہدہ کے بارے میں ہوتا ہے کہ آپ سے لوگوں کو نہیں دیتے پھریں گے کہ یہ لے لیں۔ ایل این جی کنٹریکٹ نیب اور حکومت کے پاس ہے اسے پڑھ لیں۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اگر گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور پانی کے لئے پیسے جمع کرتے رہیں اچھی بات ہے ، چلیں کچھ تو کر رہے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ گورنر کی ایک آئینی ذمہ داری ہے اور اگر وہ کوئی ایسا کا م کر رہے ہیں تو انہیں لوگوں کو بتانا چاہیئے۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف گزشتہ چھ ماہ سے جیل میں ہیں اور انہوں نے عوامی سطح پر کوئی بیان نہیں دیا اور نہ دے سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیل کی گنجائش نہیں ہے، ڈیل کس بات پر ہوتی ہے، ہم نے کوئی ڈاکہ ڈالا ہے کہ ہم ڈیل کریں گے، ڈیل کس سے کریں گے، این آر او کون دے سکتا ہے، این آراور پرویز مشرف دیتا تھا جو ایک غاصب تھا، ایک آمرتھا ، جو ڈاکہ مار کر حکومت میں آیا تھا اور اس کے پاس اختیارات تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ این آر اور ہمیں نہیں دیا تھا، این آر او پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ ہوا تھا ، میرے اوپر بھی کیسز تھے اور این آر او مجھے بھی آفر ہوا تھا لیکن میں نے کہا نہیں میرے اوپر کیسز چلائیں۔ ان کا کہناتھا کہ پاکستان کے قانون میں این آر او کی کوئی گنجائش نہیں ، عمران خان اپنے این آر او کو سمجھیں کہ وہ بات کیا کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر آدمی باتیں کرتا ہے کوئی مجھے بتا دے این آر او کیا ہوتا ہے۔ عمران خان کے پاس نہ اختیار ہے اور نہ ہمیں این آر او مانگنے کی ضرورت ہے ، ہم نے کوئی جرم نہیں کیا۔ این آر او کیا ہے کہ میں نے جرم کیا ہے اور حکومت مجھے پراسیکیوٹ کر رہی ہے اور مجھے معافی دے دی جائے۔

انہوں نے مزید کہاکہ پی پی پی کے ساتھ جو این آر او ہوا تھا اس میں تھا کہ وہ پرویز مشرف کی مخالفت نہیں کرے گی۔ عمران خان کے پاس قانونی اختیار ہے ہی نہیں کہ وہ کسی کے جرم کو معاف کرسکیں، جس آدمی کے پاس اختیار نہ ہو اس آدمی کے پاس جانے کا فائدہ کیا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں