گیتی حسین کی خوبصورت آواز

باوقار اور ذمہ دار میڈیا

سردار کامران ” جاگتی آنکھیں”

وہ بھی دن ہوا کرتے تھے جب پاکستان ٹیلی ویژن (PTV) کے ڈرامہ کے وقت پاکستان کی ٹریفک کو سانپ سونگھ جاتا تھا ۔ تمام لوگ اپنے پسند کے ڈرامہ کا انتظار کیا کرتے تھے اور جب ڈرامے کا وقت ہوتا تو تمام لوگ سارے کام چھوڑ چھاڑ کر ڈرامہ دیکھنے کیلئے گھروں میں محصور ہو کر رہ جاتے تھے ۔ یہ اسیری انہیں خوب انٹر ٹینمنٹ فراہم کرتی تھی۔ پاکستانی ڈرامہ اُنہیں اپنے سحر سے باہر نہیں نکلنے دیتا تھا ۔ پاکستان ٹیلی ویژن نے ذمہ دار روایات کو آج بھی برقرار رکھا ہوا ہے مگر اب ہم وہ پہلے جیسے نہیں رہے جنہیں باوقار اور ذمہ دار میڈیا اپنی طرف کھینچ سکے۔ ہم تو کیبل اور ڈش کے آنے کے بعد ایسی روایات جو کہ ہمارے معاشرے کی عکاس نظر نہیں آتیں اُن کا عکس ہی اپنے اندر سمانے کیلئے بضد ہیں۔ یقین مانیے کہ اگر آج بھی آپ PTVدیکھیں تو آپ کو پرانے وقتوں کا وہ وقار نمایاں نظر آئے گا ۔ اُس وقت کے ڈراموں میں بندھن، مزاح میں جنجال پورہ ، ادب میں مرزا غالب بند روڈ پر، مزاح ہی میں ڈائریکٹ حوالدار، افسر بیکارِ خاص اور کوکی مشہور کا لاہوری گیٹ آج بھی دلوں کو گدگداتے ہیں اور باوقار طریقے سے گدگداتے ہیں۔
آج بھی PTVکے اندر وصی شاہ کاپروگرام “رات گئے”، ادب میں بے مثال خدمات پیش کررہا ہے، جبکہ مختلف ٹاک شوز میں صحت اور تندرستی پر بھی بہترین پروگرامز کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کرنٹ افیئرز پر پی ٹی وی نیوز بھی اپنی خدمات انجام دے رہا ہے جبکہ کارپوریٹس کے پرائیویٹ چینلز صرف اور صرف ریٹنگ کے چکر میں رہتے ہیں ،اُن کی ریٹنگ تو بڑھ جاتی ہے مگر ہماری ریٹنگ بحیثیت انسان تنزلی کی طرف گامزن ہے۔
اب ریڈیو پاکستان کی طرف آجائیے، ہمارے ہاں لوگ گھاس کاٹتے ہوئے ، ہل چلاتے ہوئے، عورتیں جھاڑو دیتے ہوئے، سوغات جیسے پروگرامز ظفر خان نیازی کی خوبصورت آواز میں سنا کرتے تھے۔ کامنٹری سنتے ہوئے اپنے کام کاج کر لینا ، تھکاوٹ کے احساس کو کم کر لیتا تھا اور ایک بہترین باوقار انٹرٹینمنٹ بھی ہو جاتی تھی۔ آج بھی ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی پر جو ملکہ ترنم نور جہان اور مہدی حسن کے گانے لگائے جاتے ہیں ، اُس سے روح میں تازگی سی آ جاتی ہے جبکہ نئے لوگ اس سے بوریت کا احساس لیتے ہیں اور مختلف قسم کے ٹین ڈبوں کی گڑل گڑل اُنہیں اپنی طرف مائل کرتی ہے ۔
ریڈیو اُن دنوں لوگ باہر سے لاتے تھے اور BBC ہر بوڑھا شخص شارٹ ویو پر تلاش کرتا رہتا تھا اور پوری دنیا کے حالات سے واقفیت رکھتا تھا ، آج کل موبائل میں لوگ Googleکر لیتے ہیں، وہ شفیع نقی جامی اور وائس آف امریکہ کی گیتی حسین کی خوبصورت آوازوں سے محروم نظر آتے ہیں۔ اُن کی سماعتیں اچھا اچھا سننے سے محروم ہی نظر آتی ہیں۔
1965ء کی جنگ میں پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو پاکستان نے فوجی جوانوں کے جذبوں کو خوب گرمایا ۔ ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی ویژن آج بھی پاکستان کی خدمت کر رہے ہیں مگر بدقسمتی یہ ہے کہ شہری علاقوں میں لوگ کمرشلزم کے ہاتھوں جھکڑے جا چکے ہیں اور دیہاتوں میں لوگوں کی ٹیرسٹیریل رسائی پاکستان ٹیلی ویژن کے تمام چینلز تک نہیں ہے جو کہ ایک المیہ ہے۔
قدریں بہت جلدی سے تبدیل ہو رہی ہیں بلکہ لوگوں کی ترجیحات بھی وہ نہیں رہیں یا لوگوں کے پاس وقت ہی نہیں رہا، اس کے باوجود میرا یہ ماننا ہے کہ قومی ٹیلی ویژن اور ریڈیو کسی بھی قوم کی پہچان اور اثاثہ ہوتے ہیں۔ یہ کسی بھی قوم کی تہذیب و تمدن کی حقیقی نمائندگی کرتے ہیں اور پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو پاکستان اس مقصد میں کامیاب نظر آتاہے ، مگر اس کی ٹیرسٹیریل رسائی کو پورے پاکستان میں بڑھانا ہو گا۔ میڈیا کا رول کسی بھی ملک میں انتہائی اہم ہو تاہے ۔ نئی حکومت میں آتے ہی PTVاور ریڈیو پاکستان کو خسارے کا طعنہ دے ڈالا ، حکومتیں جب اداروں کو صرف اپنے مقاصد کیلئے استعمال کریں گی تو ادارے خسارے میں ہی جائیں گے ، یہ حقیقت ایک طرف ، مگر اس کے باوجود قومی ٹیلی ویژن اور ریڈیو کو احسن طریقے سے چلانا حکومتوں کا ہی کام ہے
اور اُن کیلئے بہتری کی گنجائش نکالنا ، یہ بھی حکومتوں کا ہی کام ہوا کرتاہے ۔ کسی ادارے کا خسارے میں چلا جانا ناکام پالیسیوں کا نتیجہ ہو سکتاہے جس کے اوپر قابو پایا جا سکتاہے۔ وہ کیا عناصر ہیں کہ پرائیویٹ میڈیا دن دگنی رات چگنی ترقی کر رہاہوتاہے جبکہ سرکاری میڈیا خسارے میں چلا جاتاہے، اُس کی صرف ایک ہی وجہ یہی ہے کہ اداروں کو آزاد نہیں رکھا جاتا، حکومتیں اپنی من مانیاں کرتی ہیں۔ من پسند افراد کو بھرتی کرتی ہیں جس کی وجہ سے ادارے نقصان میں چلے جاتے ہیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو پاکستان قوم کی آواز ہیں ، ان کی بہتری ہونی چاہیے مگر یہ باوقار میڈیا ہر حال میں قائم رہنا چاہیے ۔ جس کیلئے حکومت کو اصلاحات ضرور کرنی چاہییں ۔
یہ ضروری نہیں کہ لوگ کیا دیکھنا چاہتے ہیں بلکہ یہ ضروری ہے کہ لوگوں کو کیا دکھانا چاہیے، اُن کو اچھا دکھانا چاہیے، باوقار دکھانا چاہیے ، اور یہ پاکستان ٹیلی ویژن احسن طریقے سے کر رہا ہے ۔ مارکیٹنگ کے ایشوز ہوں یا کوئی اور اُن کو حل کیا جا سکتاہے، قوم کو ایک قومی ٹیلی ویژن اور ریڈیو کی ہر وقت ضرورت رہتی ہے ۔ لہذا اس کی ٹیریسٹیریل رینج بھی بڑھائی جانی چاہیے۔ وہ وقت بھی تھا کہ وزیراعظم عمران خان صاحب حکومت میں آنے سے پہلے ضد کر بیٹھے تھے کہ پاکستان ٹیلی ویژن پر خطاب کریں گے ۔ یعنی وہ یہ سمجھتے تھے کہ دیہاتوں کے اندر پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو پاکستان کو آج بھی دیکھا اور سنا جاتاہے۔ حکومت کوئی بھی ہو اُسے چاہیے کہ قومی اثاثوں کا ذاتی اور سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ اگر ایسا ہوتاہے تو اداروں کو نا قابل تلافی نقصان ہوتاہے، اُمید کی جا سکتی ہے کہ نئی حکومت اس ادارے کی بہتری کیلئے کام کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں