مقبوضہ کشمیر اخبارات کے سرِورق خالی کیوں؟

سرینگر: مقبوضہ کشمیر شائع ہونے والے تمام بڑے اخبارات نے آج اپنا پہلا صفحہ احتجاجا خالی چھوڑ دیا ہے۔

صفحہ خالی چھوڑنے کا مقصد قابض بھارتی انتظامیہ کی جانب سے میڈیا کیخلاف جاری کریک ڈاؤن کیخلاف احتجاج کرنا ہے۔ جن اخبارات نے سرورق خالی چھوڑا ہے ان میں دی کشمیر آبزرور، کشمیر امیجز، کشمیر وژن اور کشمیر ریڈر شامل ہیں۔

بھارتی انتظامیہ نے فروری2019 میں نامور اخبار ‘گریٹر کشمیر’ اور ‘کشمیر ریڈرز’ کے اشتہارات روک لیے تھے۔ اشتہارات روکنے کیخلاف آج تمام اخبارات نے سرورق خالی چھوڑ دیا جس کا مقصد احتجاج ریکارڈ کرانا ہے۔

اخبارات کے اشتہارات پر پابندی لگانے کی وجہ فی الحال نہیں بتائی گئی۔

مقبوضہ کشمیر کے ڈائریکٹر انفارمیشن نے کہا ہے کہ حکومت نے ان اخبارات کو اشتہارات دینے سے منع کیا ہے۔

انگریزی کے 4 بڑے اخبارات گریٹر کشمیر ، کشمیر آبزرورکشمیر ریڈر،کشمیر مانیٹر سمیت کئی اخبارات نے احتجاجا پہلے صفحے پر کچھ شائع نہیں کیا ۔ کوئی خبر شائع ہوئی نہ تصویر اور نہ ہی اشتہار بلکہ پہلا صفحہ خالی چھوڑ دیا گیا ۔کشمیری ایڈیٹروں کی تنظیم کشمیر ایڈیٹرز گلڈ کے زیر انتظام تمام ایڈیٹر اتوار کو سری نگر پریس کلب کے باہر جمع ہوئے ایڈیٹر وں نے اپنے ہاتھوں پلے کارڈز کتبے نہیں بلکہ وہ اخبارات اٹھا رکھے تھے جن کا پہلا صفحہ خالی تھا

پہلے صفحے کے د رمیان میں کشمیری ایڈیٹروں کی تنظیم کشمیر ایڈیٹرز گلڈ کی طرف سے لکھا گیا ہے حکومت کے خلاف احتجاج،۔قابض بھارتی انتظامیہ کا کشمیری میڈیا کے خلاف کریک ڈان جاری ہے ۔ گزشتہ سال انگریزی اخبار کشمیر ریڈر کو حکومت نے بند کر دیا تھا ایک ماہ تک اخبار کی بندش کے بعد اشاعت بحال ہوئی تھی ۔

کشمیر ایڈیٹرز گلڈ نے بھارتی انتظامیہ کی جانب سے اخبارات کے خلاف کریک ڈان کی شدید مذمت کی ہے۔کشمیر کے تمام چھوٹے بڑے اخبارات نے ناروا سلوک اور اشتہارات کے معاملے پر تنگ کرنے پر احتجاجا سرورق خالی چھوڑ دیا جس کا مقصد احتجاج ریکارڈ کرانا ہے۔

بھارتی انتظامیہ نے وادی میں بھارتی فوج کے مظالم دکھانے والے نامور اخبار ‘گریٹر کشمیر’ اور ‘کشمیر ریڈرز’ کو خاموش کرنے کے لیے ان کے اشتہارات روک لیے۔مذکورہ اخبارات سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کشمیر آبزرور اور کشمیر مانیٹر سمیت دیگر اخبارات نے بھی اپنے سرورق پر کوئی خبر شائع نہیں کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں