سپیکر اسد قیصر سے سلطان محمود کی ملاقات

اسلام آباد10مارچ2019: سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی پارلیمانی سفارت کاری کے باعث پاکستان مراکش میں منعقدہ مسلم ممالک کی پارلیمانی یونین کانفرنس کے ایجنڈے میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورت حال و متنازعہ علاقوں میں مسلم خواتین اور بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے قراردادیں شامل کروانے میں کامیاب ہوگیا ۔تفصیلات کے مطابق مراکش کے شہر رباط میں 10سے 14مارچ 2019کو مسلم ممالک کی پارلیمانی یونین کانفرنس کا اجلاس منعقد ہو رہا ہے جس میں لگ بھگ 54اسلامی ممالک کے پارلیمانی وفود شریک ہونگے ۔کانفرنس میں شر کت کے لیے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ایک اعلی سطحی پارلیمانی وفدتشکیل دیا ہے جس کی قیادت کشمیر کمیٹی کے چیرمین سید فخر امام کر رہے ہیں ۔
سپیکراسد قیصر نے پاکستانی پارلیمانی وفد کو یہ ہدایات دی ہے کہ وہ کانفرنس میں شر یک مسلم ممالک کے وفود سے ملاقاتیں کر کے بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف جارحانہ عزائم اور پاکستانی سر حدوں کی خلاف ورزی سمیت خطے میں امن کو تباہ کرنے کے لیے بھارتی جنون کے حوالے سے آگاہ کریں ۔سپیکر نے مزید کہا ہے کہ وہ کانفرنس کے دوران مسلم امہ کے پارلیمانی رہنماؤں پر حکومت پاکستان اور پاکستانی پارلیمنٹ کی جانب سے خطے میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے اور بھارتی جارحیت سے محفوظ کرنے کے لیے جو اقدامات کیے گئے ہیں اسے بھی اجاگر کریں ۔
کانفرنس کے ایجنڈے میں الگ الگ دو قراردادیں بھی شامل کی گئی ہیں جس کے تحت مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ حالت زار اور وہاں بھارت کی انسانی حقوق کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات سمیت اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ مقبوضہ اور متنازعہ علاقوں میں مسلمان خواتین اور بچوں پر جو ظلم و تشدد ہو رہا ہے ،اسے روکا جائے ۔
دوران کانفرنس پاکستانی پارلیمانی وفد امت مسلمہ پر یہ بھی واضح کرے گا کہ مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کو حل کیے بغیر خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا جس کی وجہ سے بین الاقوامی صورت حال بھی متاثر ہونے کے خدشات موجودہیں۔علاوہ ازیں کانفرنس کے مندوبین کو ان حقائق کے بارے میں بھی آگاہی دی جائے گی کہ بھارتی ظلم وتشدد کے باعث مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں ایک لاکھ سے زائدشہادتیں ہو چکی ہیں ۔بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں 11ہزار سے زائد خواتین اپنی عزتیں محفوظ نہیں رکھ سکیں ۔8ہزار سے زائد افراد بھارتی فوج اور پولیس کی حراست میں ہونے کے باعث لا پتہ ہیں اور مقبوضہ وادی میں اس وجہ سے بڑی تعداد میں خواتین بیواوں کی طرح زندگی بسر کر رہی ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں