بابری مسجد پربھارتی سپریم کورٹ کی ثالثی کمیٹی

نئی دہلی: بھارتی سپریم کورٹ میں بابری مسجد کیس کی سماعت ہوئی ۔بھارتی سپریم کورٹ نےبابری مسجد زمین کےمعاملےپر8ہفتوں میں ثالثی کاحکم دےدیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ نےبابری مسجد تنازعہ پر 3 رکنی ثالثی کمیٹی بنادی۔ عدالتی حکم کے مطابق ثالثی کی کارروائی خفیہ رکھی جائے گی اور میڈیا پر ثالثی کی رپورٹنگ کی بھی پابندی ہوگی۔

عدالتی حکم کے مطبق ثالثی کمیٹی ایک ہفتے میں کام شروع کرے گی۔ کمیٹی کا چیرمین جسٹس ریٹائرڈ خلیف اللہ کو مقرر کیا گیاہے۔ سری روی شنکر اور ایڈووکیٹ سری رام پنچو بھی کمیٹی کا حصہ ہونگے۔ثالثی کا عمل فیض آباد میں ہوگا۔عدالتی فیصلے کے مطابق مصالحت کار اپنے ساتھ دیگرلوگ بھی شامل کرسکتے ہیں،

بھارتی سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق ثالثی کا عمل 8 ہفتوں میں مکمل ہونا ہے۔ ثالثی کمیٹی کو چارہفتوں میں پہلی رپورٹ دینے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کے جسٹس یویو للت نےرواں سال جنوری میں بابری مسجد کیس سننے سے معذرت کرلی تھی۔

بھارتی سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی بنچ الہ آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیلوں کی کررہاہے۔

الہ آباد ہائیکورٹ نے بابری مسجد کی اڑھائی ایکٹر زمین کے 3 حصے کرنے کا فیصلہ دیا تھا۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس یویوللت نے کیس کی شنوائی سے معذرت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایودھیاتنازعہ ہی سے متعلق ایک کیس میں ایڈووکیٹ رہ چکے ہیں اس لیے وہ کیس نہیں سن سکتے۔

واضح رہے کہ بھارتی ریاست اترپردیش میں واقع ایودھیا کی تاریخی بابری مسجد کی شہادت کو 26 برس مکمل ہو چکے ہیں لیکن واقعے میں ملوث کسی ایک ملزم کو بھی سزا نہیں دی گئی۔

چھ دسمبر 1992 کو انتہاپسند ہندوؤں کے ٹولے نے تمام قانونی، سماجی و اخلاقی اقدار پامال کرتے ہوئے تاریخی بابری مسجد شہید کردی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں