جب ہندوستانی پائلٹ نے ہتھیار ڈال دیئے

گزشتہ دنوں جب پاک فضائیہ نے ہندکے 2طیارے مار گرائے اور ہندوستانی پائلٹ کو حراست میں لیا تو یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں تھا کہ جب پاکستان نے کسی ہندوستانی پائلٹ کواپنی ملکی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا ہو۔
1965 ءکی پاک ،ہند جنگ کے دوران، جہاں ہند کو پاک فضائیہ کے ہاتھوں بہت زیادہ نقصان اور شرمندگی اٹھانی پڑی وہاں اس کی سبکی کا ایک واقعہ یہ بھی تھا کہ پاک فضائیہ نے ہندوستانی جنگی طیارہ پاکستانی ہوائی اڈے پہ اتروا لیا اور اس کے پائلٹ نے جان بچانے کے لئے سرنڈر کیا۔ اس واقعہ کی نشانی وہ ہندوستانی جنگی طیارہ آج بھی پاکستان کی تحویل میں ہے۔
دوران جنگ، 3 ستمبر 1965 ءکو ہندوستانی فضائیہ نے پاکستان کی فضائی حدود میں اپنے 4 لڑاکا نیٹ (GNAT) جہاز جاسوسی کےلئے بھیجے۔ پاک فضائیہ کے 2 سٹار فائٹرز (ایف 104) نے ان جنگی جہازوں کا مقابلہ کرنے کیلئے سرگودھا کے ائیر بیس سے اڑان بھری۔ ان جہازوں کو فلائٹ لیفٹیننٹ (بعد میں ائیر مارشل) حکیم اللہ اور فلائنگ آفیسر (بعد میں ائیر وائس مارشل) عباس مرزا اڑا رہے تھے۔فضائی مڈبھیڑ (dogfight) میں ہندوستانی نیٹ طیارے فضائی معرکہ چھوڑ کے بھاگ نکلے۔
ان میں سے ایک جہازنے، جس کو ہندوستانی فضائیہ کے ا سکوارڈن لیڈر برج پال سنگھ اڑا رہے تھے، خود کو پاکستانی حکام کے حوالے کرتے ہوئے وہیں نزدیک ترین رن وے (runway) پر جہاز اتار دیا۔
یہ سیالکوٹ کے نواحی علاقے پسرور میں واقع ایک رن وے تھا، جہاں پہ برج پال سنگھ نے سرنڈر کر دیا اور بعد ازاں اس ہندوستانی جہاز کو فلائٹ لیفٹیننٹ (بعد میں ائیر کموڈور) سید سعد ھاتمی اڑا کر سرگودھا ائیر بیس لے گئے۔
اسکوارڈن لیڈر برج پال سنگھ جنگی قیدی بنا لئے گئے اور جنوری 1966 تک پاکستان کی قید میں رہے۔ بعد ازاں انہوں نے ہندوستانی ائیر فورس مین ائیر مارشل کے عہدے تک ترقی پائی۔ پر ان کا جہاز آج بھی پاکستان میں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں