ابھینندن اب کیا کریں گے؟

اعظم خان

پاکستان سے رہائی حاصل کرنے کے بعد انڈین فضائیہ کے ونگ کمانڈر ابھینندن کی مشکلات ابھی ختم نہیں ہوئیں۔ ونگ کمانڈر کو ابھی کچھ مراحل طے کرنےکے بعد معلوم ہوسکے گا کہ کیا وہ انڈین فضائیہ میں اپنی خدمات جاری رکھ سکتے ہیں یا نہیں۔
عسکری ماہرین کہتے ہیں کہ کورٹ آف انکوائری یا کمیشن کی تجاویز کی روشنی میں ابھینندن کے مستقبل کا تعین ہوسکے گا۔ تفتیش کے دوران یہ دیکھا جائے گا کہ کہیں ابھینندن نے گرفتاری کے لیے خود تو راہ ہموار نہیں کی۔ انکوائری مکمل ہونے کے بعد یہ سفارش بھی دی جائے گی کہ کیا ابھینندن نفسیاتی طور پر اپنا کام جاری رکھنے کی پوزیشن میں بھی ہیں یا نہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود کا کہنا ہے کہ ابھینندن کو فوری طور پر سروس میں نہیں لیا جاسکے گا۔ کورٹ آف انکوائری کے فیصلے کی روشنی میں معلوم ہوسکے گا کہ ابھینندن کو سروس میں خوش آمدید کہا جاتا ہے یا پھر انہیں سزا کا حقدار ٹھہرایا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق تفتیش کے دوران اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ یہ طیارے میں کوئی خرابی تھی یا یہ سسٹم کی ناکامی کی وجہ سے یہ واقعہ رونما ہوا۔ ابھینندن کو اڑانے کے لیے 1970 کا پرانا طیارہ دیا گیا تھا۔لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود کہتے ہیں کہ ’بہرحال اس کے باوجود ابھینندن پر پکڑے جانے کا داغ تو رہے گا، اب دیکھا جائے گا کہ نفسیاتی طور پر اس کا کتنا اثر اس کے رویے پر ہوگا۔‘
ائیر مارشل ریٹائرڈ شاہد لطیف کے خیال میں ابھینندن کا مستقبل اب ختم سمجھا جائے۔ تفتیش کے بعد کہہ دیاجائے گا کہ وہ نفسیاتی طور پر کام جاری نہیں رکھ سکتے۔
شاہد لطیف کے مطابق پاکستان نے1971 میں انڈیا کی قید کاٹ کر واپس آنے والوں کو افواج پاکستان میں سروس پربحال کیا تھا۔ طلعت مسعود کے مطابق 1971 میں ہر قیدی کے کیس کو علیحدہ دیکھا گیا تھا۔یہ درست ہے کہ پاکستان نے 1971 کی جنگ میں انڈیا کی قید کاٹنے والوں کو بھی سروس پر بحال کیا لیکن ان میں سے ایسے بھی تھے جو قصوروار قراردیے گئے ا ور انہیں بحالی کے بجائے سزا کا سامنا کرنا پڑا۔
کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم طویل عرصہ آرمی کی قانونی معاملات دیکھنے والے شعبے (جاگ برانچ ) کا حصہ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پہلے ابھینندن کی ڈی بریفنگ ہوگی۔ وہ بتائیں گے کہ انہوں نے پاکستان میں کیا دیکھا، ان سے کس انداز میں تفتیش کی گئی اور ان سے کیسا رویہ رکھا گیا۔
کرنل انعام کے مطابق انڈین حکام جس طرح اپنے ونگ کمانڈر کے ساتھ غیر شائستہ انداز میں پیش آرہے ہیں، واہگہ بارڈر پر بھی اچھا رویہ سامنے نہیں آیا اور انڈین حکام نے اپنے افسر کی حوالگی سے متعلق رات کے وقت کی درخواست بھی کی۔ لگتا ہے کہ وہ لکھ دیں گے کہ مزید سروس پر رکھنا بہتر نہیں ۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ابھینندن کا میڈیکل چیک اپ تو ضروری تھا لیکن ہسپتال میں داخل کرنا ضروری نہیں تھا۔ اب وہاں پر ہی ان سے تفتیش بھی کی جارہی ہے۔ پکڑے جانے کرنے والوں کے ساتھ عمومی طور پر رویہ یہی اختیار کیا جاتا ہے کہ ان کو گھر بھیج دیاجائے یا کہیں کسی معمولی پوزیشن پرتعینات کردیا جائے۔
کرنل انعام کے مطابق 1971 میں انڈیا نے پاکستان کے قیدیوں کو کیمپس میں رکھا اور ان کے گروپس بنادیے تھے۔ قیدیوں کے آپس میں لڑنے کے واقعات بھی سامنے آئے۔ جب مذاکرات سے جنگی قیدیوں کی واپسی ہوئی تو مکمل تحقیقات کے بعد کچھ کو بنگلہ دیشیوں پر مظالم ڈھانے کی پاداش میں سزائیں سنائی گئیں جبکہ ایسے بھی تھے جن کی فائل میں لکھ دیا گیا کہ ان کو سروس میں رکھنا ڈیزائرایبل نہیں ہے۔ ان کے خلاف ڈسپلن کی کاروائی عمل میں لائی گئی۔ بشکریہ اردو نیوز

اپنا تبصرہ بھیجیں