بن لادن کے بیٹے حمزہ کی سعودی شہریت ختم

ریاض: سعودی عرب نے اسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ کی شہریت ختم کردی۔ یہ اعلان محکمہ احوال مدنیہ نے جمعہ کے دن کیا ہے۔ محکمہ احوال مدینہ، سعودی عرب کی وزارت داخلہ کا ماتحت ادارہ ہے۔

سعودی عرب سے شائع ہونے والے ممتاز اخبار ’اردو نیوز‘ کے مطابق محکمہ احوال کی جانب سے اس ضمن میں جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ حمزہ کی شہریت ساقط کرنے کا شاہی فرمان (15690 ، 21 ربیع الاول 1440ھ ) کو جاری ہوا تھا۔

جاری اعلامیہ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ ام القریٰ سرکاری گزٹ کے ریکارڈ پر بھی جاری کردیا گیا۔

امریکہ کی جانب سے گزشتہ روز اعلان کیا گیا تھا کہ دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ بن لادن سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے کو دس لاکھ ڈالرز بطور انعام دیے جائیں گے۔

عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی حکام حمزہ بن لادن کے متعلق یقین رکھتے ہیں کہ وہ افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقے میں نہ صرف موجود ہے بلکہ دہشت گرد قرار دی جانے والی تنظیم ’القاعدہ‘ کے سربراہ کے طور پرابھر بھی رہا ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق حمزہ بن لادن کی جانب سے گزشتہ سالوں کے دوران کئی آڈیو و ویڈیو پیغامات جاری کیے گئے جن میں تنظیم کے جنگجوؤں سے کہا گیا کہ وہ اس کے والد کی موت کا بدلہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے لیں۔

برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ نے اگست 2018 میں اسامہ بن لادن کے سوتیلے بھائی احمد العطاس کا ایک انٹرویو شائع کیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ حمزہ بن لادن نے القاعدہ میں اہم جگہ بنالی ہے تاکہ اپنے والد کی موت کا بدلہ لے سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری اطلاع کے مطابق حمزہ بن لادن نے نائن الیون حملے کے اصل کردار محمد عطا کی بیٹی سے شادی کرلی ہے تاہم وہ پوری طرح آگاہ نہیں تھے کہ وہ اب کہاں ہیں؟

حمزہ بن لادن، اسامہ بن لادن کی تیسری شریک حیات خیریہ صابر کے بیٹے ہیں۔ خیریہ صابر اس وقت ایبٹ آباد کے اس کمپاؤنڈ میں موجود تھیں جب امریکی فوجیوں نے آپریشن کیا تھا۔

2011 میں کیے گئے اسی آپریشن کے دوران امریکی فوجیوں نے اسامہ بن لادن کو قتل کردیا گیا تھا۔

عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ سے ملنے والی دستاویزات سے واضح ہوا تھا کہ حمزہ بن لادن دراصل اسامہ بن لادن کا پسندیدہ بیٹا تھا اور القاعدہ میں وہ اپنی جگہ کے لیے اسی کا انتخاب کرتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں