کشمیریوں نے بیسیوں جلیا نوالہ باغ دیکھے

مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی شاہ گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے کہا ہے کہ21جنوری1990کادن جموں کشمیر کی5 ہزار سالہ تاریخ کا وہ اہم ترین دن ہے جس دن کشمیریوں نے اپنی آزادی اور حق خودارادیت کیلئے ایک عظیم عوامی انقلاب کی شروعات کی اور پہلے ہی دن سے سینہ سپر ہوکر ظلم و جبر کا سامنا کیا۔یاد گار شہداء بسنت باغ گائو کدل کے مقام پر یاد گاری پروگرام منعقد کرنے سے قبل ہی محمد یاسین ملک کے گھر پر پولیس نے چھاپہ مارا اور وہاں سے انہیں گرفتار کرکے لے گئے ۔ پولیس نے اس کے ساتھ ساتھ حریت قائدین بلال احمد صدیقی ،ہلال احمد واراور دوسرے کئی لوگوں کو بھی حراست میں لے کر تھانوں میں نظر بند کررکھا ہے۔ قائدین نے کہا ہے کہ جو قوم عزم مصمم کرکے اپنی آزادی اور حق خودارادیت کیلئے کمر ہمت باندھ لیتی ہے اُسے دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ انہوں نے کہا کہ 21جنوری 1990 کے دن نے فورسزنے اندھا دھند فائرنگ کرکے جلیانوالہ باغ کی تاریخ کو دہرا یا تھا۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ بھارت نے انگریزوں کے خلاف اپنی جدوجہد آزادی کے دوران محض ایک جلیانوالہ باغ قتل عام دیکھا لیکن کشمیر جیسی چھوٹی قوم کے خلاف اسی بھارت نے بیسیوں جلیانوالہ قتل عام رچائے لیکن پھر بھی کشمیریوں کے عزم کو ہرانے میں ناکام رہا۔قائدین نے کہا کہ گائو کدل قتل عام ہو کہ اُسی دن براڈوے،ڈل گیٹ اور دوسرے علاقوں میں کی گئی فائرنگ،بائی پاس اور زکورہ کراسنگ قتل عام ہو کہ ہندوارہ کپوارہ اور سوپور کے قتل عام، حول میں شہید کئے گئے معصومیں ہوں کہ بجبہاڑہ میں لوگوں کو تہہ تیغ کیا جانا ، سیلان پونچھ میں کیا گیا قتل عام،بھدرواہ اور مرمت ڈوڈہ میں انسانوں کو زندہ جلاکر قتل کرنا ہویا کنگن گاندربل ،مشعلی محلہ،خانیار،درگاہ حضرت بل اورگوجوارہ میں کیا گیا قتل عام‘ کہاںنہیں معصوں کا لہو بہایا گیا اور کہاں کہاں جلیانوالہ باغ نہیں دہرائے گئے ‘لیکن جبر و ظلم و اِستبداد کے یہ حربے ہر دور میں ناکام ہوئے اور جموں کشمیر کے غیور لوگوں نے اپنی تحریک آزادی کو جاری رکھا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں