آزادکشمیر پولیس اصلاحاتی منصوبہ ناکام کیوں ہوا؟

آزادکشمیر پولیس اصلاحاتی منصوبہ ناکام کیوں ہوا؟

مظفرآباد(خصوصی رپورٹ)انسپکٹر جنرل پولیس آزادکشمیر کی اصلاحاتی کاوشوں میںمحکمہ میں موجود مافیا رکاوٹ بننے لگا۔مصنوعی مالی بحران کے باعث محکمہ پولیس میں اصلاح احوال کا پلان ناکام ہونے کا خدشہ،تھانوں کو ماہانہ 400لیٹر طے ہونے کے باوجود صرف 100لیٹر ڈیزل دیا جانے لگا۔تفتیشی آفیسران کو الائونسس اور اخراجات ،تھانوں کو سٹیشنری کی فراہمی،ٹی اے ڈی اے،دوران گشت کے اخراجات سمیت پولیس راشن اور تھانوں میں تعینات اہلکاروں کو کھانے کی عدم فراہمی کے باعث پولیس بھکاری بن کر رہ گئی ہے۔ ہر نئے آنے والے آئی جی پولیس کو بریفنگ دی جاتی ہے کہ پولیس کے دیرینہ مسائل حل نہیں ہورہے ۔آئی جی اصلاحات اور پولیس کے مسائل حل کرنے کے لیے پلان تیار کرتے ہیں مگر محکمہ میں موجود اکائونٹس کے چند آفیسران اور بعض سینئر مل کر آئی جی کا پلان ناکام بنادیتے ہیں۔ضلع مظفرآباد کے 12تھانوں اور چوکیوں کا سروے کیا گیا جس کے مطابق فی تھانہ میں ماہانہ 500سے 700لیٹر ڈیزل پیٹرول استعمال ہورہا ہے مگر محکمہ کی جانب سے صرف 100لیٹر فراہم کیا جاتا ہے۔سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق 400لیٹر طے ہے ۔اس کے علاوہ آزادکشمیر کے سب تھانوں میں سٹیشنری سمیت ضرورت کی دیگر اشیاء محکمہ پولیس فراہم نہیں کررہا۔تفاتیش کے لیے تفتیشی آفیسران کو کسی قسم کا ٹی اے ڈی اے اور سفری الائونسز ودیگر اخراجات نہیں دیئے جارہے ۔پولیس آفیسران سمیت اہلکاران سے 24گھنٹے خدمات لی جارہی ہیںجس کی وجہ سے پولیس اہلکار ذہنی دبائو کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ کئی طرح کے سماجی مسائل کا شکار ہوچکے ہیں۔قانوناً شفٹ سسٹم نافذ ہے مگر عملدرآمد نہیں ہورہا۔سروے کے مطابق آزادکشمیر کے تمام اضلاع کے تھانوں اور چوکیوں پر تعینات پولیس اہلکاران کو کھانے کی مد میں پولیس راشن نقد دیا جاتا ہے جو محض چند سو ہے۔ایک سپاہی کو سات سو سے با رہ سو تک جبکہ ایس ایچ او کو 14سو سے 19سو تک ماہانہ راشن کا خرچہ دیا جاتا ہے جو کہ ایک ناشتے کا خرچہ نہیں بنتا۔تھانوں میں تعینات تمام پولیس آفیسران اور اہلکاران بازار سے کھانا کھاتے ہیں اور فوج طرز پر تھانوں ،چوکیوں اور آپریشنل پولیس کے لیے کوئی میس قائم نہیں ہے۔صرف چند سو روپے الائونس ہی دیا جا ہے۔اس کے علاوہ گاڑیوں میں پڑنے والے ڈیزل یا پیٹرول کا خرچ دیے جانے والے ڈیزل سے کہیں زیادہ ہے اس کے باوجود شعبہ اکائونٹس تھانوں سے ماہانہ کی بنیاد پر لاگ بک منگواکر اس کا اندراج کرتا ہے اور سرکاری خزانہ سے کلو میٹرز کے حساب سے ڈیزل وصول کیا جاتا ہے۔سروے کے دوران ڈویژن بھر کے 15تفتیشی آفیسران سے بھی ملاقاتیں کی گئیں جنہوں نے بتایا کہ محکمہ تفتیش کے دوران ہونے والے اخراجات انہیں نہیں دیتا حالانکہ رولز میں طے ہے کہ تفتیش کے دوران گاڑی،ڈیزل،ٹیلیفون اور دیگر جدید طریقے سے کی جانے والی تفاتیش کے اخراجات اور ٹی اے ڈی اے تفتیشی آفیسران کو دیئے جائیں۔قتل کے مقدمے کے لیے 25ہزار روپے طے ہے اسی طرح کیٹیگری وائز تمام کیسز کی تفاتیش کے پیسے مقرر ہیں مگر مقرر کردہ پیسے بھی نہایت کم رکھے گئے ہیں جو تفتیشی آفیسران کو نصیب نہیں ہوتے اور اس کے سارے اخراجات یا تو تفتیشی آفیسران اپنی جیب سے اداکرتے ہیں اور یا پھر مدعی مقدمہ سے وصولی کی جاتی ہے اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی چارہ کار موجود نہیں۔ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ان تفاتیش کا باقاعدہ بل بنتا ہے اور خفیہ طریقے سے وہ منظور کر کے وصول بھی کرلیا جاتا ہے اور تفتیشی افسر کو اس کا علم ہی نہیں ہوتا۔تھانوں میں زیر استعمال پندرہ سے بیس سال پرانی گاڑیاں ڈیزل بھی زیادہ کھاتی ہیں اور اکثر گاڑیاں شہری حدود میں مصروف ٹریفک کے باعث زیادہ اخراجات کی حامل ہیں۔حکومت نے آج تک شہری اور میدانی علاقوں کے لیے سوزوکی ،کیری ڈبہ یا مہران طرز کی گاڑیاں فراہم نہیں کیں جن کے اخراجات نہایت کم اور پرزے سستے ہیں۔پولیس کو 2000سی سی سے ساڑھے چار ہزار سی سی تک گاڑیاں دی گئی ہیں جو پہاڑی علاقوں کے لیے تو بہت معقول گاڑی ہے مگر شہری علاقوں کے لیے نہایت مہنگی گاڑیاں ثابت ہورہی ہیں۔سابقہ آئی جی بشیر میمن نے آزادکشمیر پولیس میں بہت اچھی اصلاحات کی تھیں اور تھانوں کو مالیاتی اور انتظامی طورپر خود مختار بنانے کے لیے سمری حکومت کو ارسال کی تھی اور اس کا ذمہ دار تھانے کا ایس ایچ او مقرر کیا تھا ۔ڈیزل پیٹرول،سٹیشنری،ٹی اے ڈی اے،تفاتیش کے پیسے،گاڑیوں کی مرمتی ودیگر اخراجات کا جملہ بجٹ تھانوں کو منتقل ہونا تھا اور اس کا ڈی ڈی او ایس ایچ او مقرر کیا جانا تھا مگر اکائونٹٹ مافیا نے فائل رکوادی اور سابقہ آئی جی کے جاتے ساتھ ہی معاملہ کٹھائی میں پڑگیا۔حکومت ایک جانب ناقص تفتیش اور پولیس کے بڑھتے ہوئے منفی کردار سے پریشان ہے دوسری جانب اپنی پولیس کو سہولیات ومراعات دینے میں 70سالوں سے ناکام ہے یہی وجہ ہے کہ پولیس کا عوام کے ساتھ رویہ دوستانہ نہیں ہے۔خصوصاً دوران گشت پولیس اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے طرح طرح کے شکار کرتی ہے۔پولیس اہلکاروں کو بیماری کی صورت میں دارالحکومت سمیت پورے آزادکشمیر میں کسی جگہ الگ ڈسپنسری،اسپتال یا کلینک موجود نہیں ہے۔شدید سرد موسم اور گرمی میں بھی پولیس اہلکاروں کو گشت کے لیے موسم کے مطابق پہننے اور کھانے پینے کے لیے کوئی سہولیات نہیں ہیں۔اس کے علاوہ تھانوں میں شفٹ سسٹم نہ ہونا سب سے بڑی خرابی کی جڑ ہے پولیس اہلکار نیند کی کمی کے ساتھ ساتھ سماجی مسائل کا بھی شکار ہورہے ہیں۔عوامی سماجی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس اصلاحات پر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ پولیس کی فلاح وبہبود اور انہیں مکمل سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

آزادکشمیر پولیس اصلاحاتی منصوبہ ناکام کیوں ہوا؟” ایک تبصرہ

  1. I would like to introduce myself to you, I am Kristy Magdaleno. To climb is a few things i do once a week. In her professional life she is an job interviewer. Indiana is where he and his awesome wife live and his family loves it. If you want to seek out more check out my website: http://tabletkinaodchudzanie.com.pl/kankusta-duo-opinie-dzialanie-sklad-i-gdzie-kupic-tabletki-na-odchudzanie/ http://tabletkinaodchudzanie.com.pl/kankusta-duo-opinie-dzialanie-sklad-i-gdzie-kupic-tabletki-na-odchudzanie/

اپنا تبصرہ بھیجیں